ترک اور یونانی سرحد پر موجود دریا مہاجرین کیلیے موت کی گزرگاہ

51

ایتھنز (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی اور یونان کے درمیان دریائے ایورو یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے ہزاروں مہاجرین کے لیے موت کی گزرگاہ بن گیا۔ رواں برس اب تک ترک یونان سرحد پر اس دریا سے 29 افراد کی لاشیں ملیں۔ مرنے والے مہاجرین کی بڑھتی تعداد کے باعث فلاحی تنظیم ریڈ کراس نے ایک سرد خانہ عطیے میں دے دیا، جس میں 15 لاشیں موجود ہیں۔ دریائے ایورو کے علاقے میں گشت کرنے والی انتظامیہ کی ٹیمیں یا پھر شکاری اور مچھیرے ان لاشوں کو دریافت کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی لاش ملتی ہے، توسب سے پہلے پولیس آ کر تفتیش کرتی ہے اور تصاویر بناتی ہے۔ پھر لاش کو مردہ خانے لے جایا جاتا ہے، جہاں طبی افسر لاش کی باقیات اور ڈی این اے کی جانچ کرتے ہیں۔ طبی افسرپاؤلوس پاؤلیدیس کا کہنا ہے کہ 70 فیصد ہلاکتوں کا سبب پانی میں رہنے کے سبب جسمانی درجہ حرارت کا کم ہوجانا تھا۔ پاؤلیدیس کے مطابق حال ہی میں ٹرینوں اور بسوں کے نیچے کچلے جانے سے بھی اموات واقع ہوئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مہاجرین کی لاشوں سے ملنے والی ذاتی نوعیت کی اشیا کو پلاسٹک کی تھیلیوں میں سنبھال کر رکھتے ہیں، تاکہ لاش کی شناخت میں مدد مل سکے۔ پاؤلوس کے مطابق دریا سے ملنے والی ذاتی اشیا زیادہ تر ایسی ہوتی ہیں، جنہیں پانی خراب نہیں کر سکتا۔ مہاجرین کی لاشوں سے ملنے والی زیادہ تر اشیا دھات کی ہوتی ہیں، جن میں انگوٹھیاں، گلے کے ہار اور بریسلٹ وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ کپڑے اور دستاویزات مثلاً پاسپورٹ وغیرہ پانی میں تلف ہو جاتے ہیں۔ یہ اشیا مرنے والے کے مذہب کے حوالے سے آگاہی دیتی ہیں۔ ایسی چیزوں کو حفاظت سے رکھ لیا جاتا ہے اور رجوع کرنے کی صورت میں اس کے خاندان کو لوٹا دیا جاتا ہے۔ اگر کسی مرنے والے مہاجر کی شناخت ہو جائے تو اس کی لاش اس کے لواحقین کو لوٹا دی جاتی ہے۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو یونانی حکام ان لاشوں کی آخری رسوم ان کے مذہب کے مطابق ادا کرانے کا انتظام کرتے ہیں۔
موت کی گزرگاہ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ