مقبوضہ کشمیر: شہدا شوپیاں کی 5ویں برسی پر مکمل ہڑتال اور مظاہرے

62

سری نگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج کے ہاتھوں نوجوانوں کی شہادت کی پانچویں برسی پر جمعہ کو مکمل ہڑتال اور مظاہرے کیے گئے ۔ بھارتی فوج نے طارق احمد میر، توصیف احمد ، محمد یوسف اور عبداللہ ہارون کو 7 ستمبر 2013ء کو شوپیاں کے علاقے گیگرن میں ایک آپریشن کے دوران شہید کیا تھا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق دکانیں اور کاروباری مراکز بند اور سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل رہی۔دریں اثنا بھارتی پولیس نے عامر حمید نامی ایک طالب علم کو شوپیاں کے علاقے سے رات کے وقت گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کر لیا۔ دوسری جانب مقبوضہ وادی میں بھارتی فورسز نے پلوامہ ، رفیع آباد اور کشتواڑ کے علاقوں میں تلاشی اور محاصرے کی ایک مشترکہ کارروائی کا آغاز کردیا ہے ۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی فورسز کی کارروائی کے خلاف کشمیری نوجوانوں نے سڑکوں پر نکل کر آزادی کے حق میں نعرے بلند کیے جبکہ قابض فوج نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوگئے ۔ادھرحریت چیئرمین سید علی گیلانی نے مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ قراردادوں کے مطابق حل کیے جانے کے حوالے سے پاکستان کے نومنتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دیے گئے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے مسئلہ کشمیر کو حل کیا جانا ناگزیر ہے۔انہوں نے بھارتی فوج اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے نہتے شہریوں اور آزادی پسند کارکنوں کے اہلخانہ کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا کہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی جانب سے ممتاز آزادی پسند رہنما سید صلاح الدین کے 2 بیٹوں کی گرفتاری اوربھارتی فورسز کے اہلکاروں کی طرف سے آزادی پسند کارکن لطیف احمد ڈار کے مکان کی تباہی جیسی کارروائیوں کا مقصد آزادی پسند لوگوں پر دباؤ بڑھانا ہے۔ انہوں نے آسیہ اندرابی کی تہاڑ جیل میں بگڑتی ہوئی صحت پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ