سات ستمبر1974ء مسلمانوں کی فتح کا دن

307

مفتی محمد طاہر مکی
عقیدہء ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد اور مسلمانوں کا اجماعی مسئلہ ہے ،اور اسپر صحابہ کرام کے دور سے اجماع چلا آرہا ہے ، صحابہ کے بیچ ہرمسئلے پر اختلاف ہوا ،جیسے مانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاداور قرآن کو جمع کرنے جیسے اہم مسائل پر بھی صحابہ ؓ کے بیچ اختلاف رہا ،مگر منکرین نبوت کے خلاف جہاد پر تمام صحابہ نے متفق ہوکر مابعد والوں کو درس دیا کہ اس مسئلے پر کسی قسم کا اختلاف نہیں ہو سکتا ،ختم نبوت دین اسلام کی اساس وبنیاد ہے ،اور کسی بھی جگہ کی مضبوطی اسکی مضبوط بنیاد پر منحصر ہوتی ہے ،یہی وجہ ہیکہ اسلام کی خاطر جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں جنکی تعداد ستائیس تک جاپہنچتی ہے اسمیں تمام شہیدصحابہ ؓ کی تعداد 200سے ڈھائی سوکے اندر اندر ہے، جبکہ منکرختم نبوت جھوٹے مدعی مسیلمہ کذاب کے خلاف جو جنگ ہوئی ہے اسمیں شہید صحابہ کی تعداد بارہ سو ہے جنمیں سات سو جید حافظ، قاری اور عالم صحابہ ؓ تھے ،پھرانمیں بھی چند ’’بدری‘‘ صحابہ ؓ جو جنگ بدر میں شریک رہے جنہیں اللہ نے فرمایا کہ آج کے بعدجوچاہے کروتمہاری بخشش کردی گئی وہ بھی اس عظیم جہاد میں شہید ہوئے ،الغرض صحابہ ؓ کے دور سے اس مسئلے پر اجماع چلا آرہا ہے ،اور جھوٹے مدعیان نبوت کا سلسلہ بھی آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانے سے چل نکلا ،دراصل یہ ایک تکوینی عمل تھا اللہ نے جھوٹے مدعیان نبوت کو آپ ﷺ کے زمانے میں پیدا کرکے امت کو سبق دیا کہ انکے ساتھ کوئی مذاکرات ،بحث ومباحثہ نہیں کرنا بلکہ وہ کچھ کرنا ہے جو انکے ساتھ اللہ کے رسول ﷺاور صحابہ ؓ نے کرکے دکھایا اور ایسا ہی ہوتا رہا، مرزاغلام احمد قادیانی سے قبل کوئی جھوٹی نبوت کا دعویدارزندہ نہیں رہا اسے قتل کردیا گیا بس یہ مرزا غلام احمد قادیانی تھاجسے انگریز نے مسلمانوں کے دلوں سے جذبہء جہاد ختم کرنے کیلئے مکمل اپنی حفاظت میں کھڑا کیا اور اسکی مکمل سپوٹ کی مسلمان بے بس تھے لیکن اسکے باوجود ہزاروں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے بھی اس فتنے کے آگے ایک بند باندھ دیا ،کہ کم از کم ایک ایسا کافر جو خود کو نہ صرف مسلم بلکہ اصلی اور پکا سچامسلم اور حقیقی مسلم کو پکا کافر کہتا تھا اسے مسلمانوں کی لسٹ سے نکال کر اور مسلمان کہلوانے پر پابندی لگوادی ،مگراس بندھ باندھنے میں بھی کئی سال لگے۔جون 1974؁ء کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینے کیلئے جو قراردادپیش کی تھی اسکا متن درج ذیل ہے :
’’جناب اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان
محترمی !
ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے کی اجازت چاہتے ہیں!
ہرگاہ کہ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہیکہ قادیان کے مرزا غلام احمد قادیانی نے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کے بعد نبی ہو نے کا دعویٰ کیا ، نیزہرگاہ کہ نبی ہونے کا اسکا جھوٹا اعلان بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اسکی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھی ،نیز ہرگاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اورا سکا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا،اور اسلام کو جھٹلانا تھا ،نیز ہرگا ہ کہ پوری امت مسلمہ کاا سپر اتفاق ہیکہ مرزا غلام احمد کے پیرو کارچاہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہوں یا اُسے مصلح یا مذہبی راہنماء کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں ،دائرئہ اسلام سے خارج ہیں ۔نیز ہرگا ہ انکے پیروکار انہیں کوئی بھی نام دیا جائے مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کرکے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سر گر میوں میں مصروف ہیں ۔نیز ہر گا کہ عالمی مسلم تنظیموں کی ایک کانفرنس میں جو کہ مکۃ المکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ العالم الاسلامی کے زیر انتظام 6/اور10 /اپریل1974؁ء کے درمیان منعقد ہوئی اور جسمیں دنیا بھر کے تمام حصوں سے 140مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی متفقہ طور پر یہ رائے ظاہر کی کہ قادیانیت اسلام اور عالم ِ اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعویٰ کرتی ہے ۔اب اس اسمبلی کو یہ اعلان کرنے کی کارروائی کرنا چاہیے کہ مرزا غلام مذکور کے پیر وکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے ،مسلمان نہیں اور یہ کہ قومی اسمبلی میں ایک سرکاری بِل پیش کیا جائے تا کہ اس اعلا ن کو مئوثر بنانے کیلئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر انکے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں ‘‘محرکین قرار داد میں مفکر اسلام مفتی محمود ، شیخ الحدیث مولانا عبدالحق (اکوڑہ خٹک ) مولاناعبدالمصطفیٰ الازہری ،مولانا شاہ احمد نورانی ،پروفیسر غفور احمد ،مولانا ظفر احمد انصاری ، میر حاجی علی احمد ٹالپور، رئیس عطا محمد خان مری ،غلام فاروق، سمیت 36 ارکان اسمبلی شامل تھے ، بروزپیر5اگست1974؁ٗ؁ٗ؁ء نیشنل اسمبلی کے چیمبر ’’اسٹیٹ بینک بلڈنگ ‘‘اسلام آباد میں صبح دس بجے نیشنل اسمبلی آف پاکستان کے پورے ایوان کی اسپیشل کمیٹی کی کارروائی وقوع پذیر ہوئی ،سپیکر نیشنل اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خان بحیثیت چیئر مین تھے ،اور یحیٰ بختیار بحیثیت اٹارنی جنرل کے اسمیں شریک تھے ، یہ بل سرکاری طور پر وزیر قانون عبدالحفیظ پیر زادہ نے پیش کیاتلاوت کلام پاک کے بعد وفد کو بلایا گیا اوراسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث شروع ہوئی ،قادیانی اور لاہوری گروپ نے اپنے محضر نامے پیش کئے ۔قادیانی گروپ کے محضر نامے کے جواب میں ’’ملت اسلامیہ کا موقف‘‘نامی محضر نامہ تیا ر کیا گیا ،شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت میں مولانامحمد شریف جالندھری ،مولانا محمد حیات ،مولاناتاج محمود ،اور مولانا عبد ا لرحیم اشعر علیہم الرحمہ نے حوالہ جات کی تدوین کا کام کیا،جسٹس (ر) مفتی محمد تقی عثمانی ،اور مولانا سمیع الحق نے ان حوالہ جات کو ترتیب دے کر ایک کتاب مرتب کردی ،حضرت اقدس مولانا سیدانور حسین نفیسؒ کی قیادت میں ملک بھر کے کاتبوں نے لکھنا شروع کردیا ،جتنا لکھ دیا جاتا اسے حضرت مولانا مفتی محمود ،اور چوہدری ظہور الٰہی ،مولانا شاہ احمد نورانی سن لیتے تھے ضروری ترامیم کے بعد اسے چھپوالیا گیا پھر اسے مفکر اسلام مفتی محمود نے اسمبلی میں پڑھا،اگرچہ اسی محضر نامے میں لاہوری گروپ کے جوابات بھی آگئے تھے ،لیکن لاہوری گروپ کے جواب میں مستقل محضر نامہ مولانا غلام غوث ہزاروی نے پیش کیا ،قادیانی گروپ کے سربراہ مرزا ناصر احمد پر5/سے10/اگست اور20سے24 اگست یعنی کل گیارہ دن تک جرح ہوئی ،27/28 /اگست کو لاہوری گروپ کے صدر الدین ،عبدالمنان عمراور مسعود بیگ پر جرح ہوئی ،5/6ستمبر1974؁ء کو اٹارنی جنرل آف پاکستان جناب یحیٰ بختیار نے بحث کو سمیٹا ،انکا اسمبلی ارکان کے آگے دوروز مفصل بیان ہوا ،اور آخر شاید وہی ’’ٹائم بم‘‘ جو امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نوراللہ مرقدہ عوام الناس کے دل میں فٹ کرگئے تھے وہ پھٹا اور7/ستمبرکو چار بجے شام قومی اسمبلی کا فیصلہ کُن اجلاس ہوا جسمیں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹوکی منظوری سے وزیر قانون عبد الحفیظ پیر زادہ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے ترمیمی بل کی منظوری کا اعلان کیا جو درج ذیل ہے۔
’’آئین پاکستان میں ترمیم کیلئے ایک بل ‘‘
ہر گاہ یہ قرین مصلحت ہیکہ بعد ازیں درج اغراض کیلئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید تر میم کی جائے ،لہٰذا بذریعہ ہٰذاحسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے :
1…مختصر عنوان اور آغاز نفاذ :(1) یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوئم)ایکٹ1974؁ ء کہلائیگا (2) یہ فی الفور نافذالعمل ہوگا ۔،
2…آئین کی دفعہ106میں ترمیم :اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں ،جسے بعد ازیں آئین کہا جائیگا دفعہ106 کی شق (3) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ’’اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہلاتے ہیں )‘‘درج کئے جائیں گے ۔،
3…آئین کی دفعہ260میں ترمیم :آئین کی دفعہ206 میں شق (2) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائی گی یعنی ’’(3)جو شخص حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو آخری نبی ہیں ،کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتایا جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کے اغراض کیلئے مسلمان نہیں ہے ۔‘‘ یہ مسئلہ تو حل ہوا مگر جیسے اوپر بتا یا جا چکا ہیکہ امریکہ نے اس مسئلہ کی پاداش میں بھٹو کو معاف نہ کرنیکا فیصلہ کرلیا تھا اسکی کہانی یوں ہوئی کہ5 جولائی1977؁ء کو جنرل محمد ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیااور ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا اسپر ہر قادیانی نے سکھ کا سانس لیا ایک مرتبہ پھر قادیانی سر گرم عمل ہو گئے پھر انہوں نے بھٹو کوامریکہ کی سرپرستی میں لقمہء اجل بنانیکا فیصلہ کردیا ضیاء حکومت نے بھٹو کے خلاف نواب محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ حکومتی سربراہی میں چلا یااس مقدمہ میں’’ مسعود محمود‘‘وعدہ معاف گواتھا یہ شخص’’ ایف ایس ایف ‘‘کا ڈائریکٹر اور متعصب قادیانی تھا یہ سلطانی گوا ہ ہی بھٹو کی موت کا سبب بنا ،اسکی موت پر قادیانیوں نے کیاکیا جشن کئے اور کسقدر خوشی کا اظہار کیا اسکا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہیکہ جب بھٹو مرحوم قادیانی عداوت کی بھینٹ چڑھ گئے تو سابق وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان (قادیانی ) نے اپنی تنگ نظرفطرت اور خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے ایک محفل میں کہا تھا کہ ’’ بھٹو کا باون سال کی عمر میں مرنا مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ مرزاقادیانی کے کہا تھا کہ باون سال کی عمر میں ایک کتا مریگا ‘‘ اس بات سے عام مسلم تو عام مگرپاکستان پپلیزپارٹی والوں کوبہت کچھ سمجھ لینا چاہئے کہ انکے قائد کو کتا کہنے والے انکی حکومت میں انکے ساتھ کہا ں کہاں ہیں انکے ساتھ پی پی پی حکومت کو کیسابرتائوکرنا چاہئے ،بہر حال یوں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر حکومت وقت نے حضرت محمد ﷺ کے ساتھ اپنی وفا داری کا ثبوت دیدیا ،اور جیسے بھٹو کہتا تھا کہ میں نے اپنی جان محمدﷺ کے نام پر قر بان کرنیکا فیصلہ کرلیا ہے وہ اس نے کردکھا یا اب مابعد والوں کی ذمہ داری ہیکہ جو فیصلہ لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان محمد ﷺ کے نام پر قربان کرکے اسمبلی سے منوایا اسکا کس قدر احترام اور تحفظ کرتے ہیں ، اب توسندھ میں پی پی پی کی حکومت ہے اور اسکے پاس قوت ہیکہ اپنے قائد محترم ذوالفقار علی بھٹومرحوم کے جاری کردہ اس فیصلے کی یاد گار منانے کا سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کرکے اس دن کو ’’یوم دفاع ناموس رسالت ‘‘کے طور پر منایاجائے،اور حقیقت ہیکہ 6 ستمبر ایک اہم دن ہے جب پاک فوج کے نوجوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ ملک کی خاطر دیکردشمن کو ایسا سبق دیا کہ کہ دوبارہ اسے ملک پاکستان کی طرف آنکھ اٹھانے کی ہمت تاحشر نہ ہوسکے گی ،مگر 7ستمبرکا دن اس سے کہیں زیا دہ اہمیت رکھاتا ہیکہ اس دن جس نام پر ملک بنا یعنی اسلام کی بنیاد عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کیا گیا ، یقیناً یہ ملک اسلام کے نام پر ہی لیا گیا تھا اور اسلام کی بنیاد ’’ختم نبوت‘‘ ہی ہے اس پر امت کا اجماع ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ