امیرشریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ تاریخ کے آئینے میں

255

مولاناتنویراحمداعوان
بھٹو اور قادیانی
1970؁ء کے الیکشن میں قادیانیوں نے من حیث القوم پیپلز پارٹی کو ووٹ دئے تھے ،اوربھٹو مرحوم اسوقت تک قادیانیوں کااصل روپ نہ پہچانتے تھے ،بلکہ قادیانیوں کے اسقدر حامی تھے کہ 4ستمبر1974؁ء کو میجر عزیزبھٹی کے مقام شہادت پرشہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مرحوم بھٹو نے کہا تھا کہ ’’لیفٹیننٹ جنرل ملک اختر کی یادگار بننی چاہیے اگریہ اب نہ ہو اتو جب بھی پیپلزپارٹی برسراقتدار آئی تو انکی یادگار ضرور قائم کریگی ‘‘اوریہ ملک اختر متعصب قادیانی تھا ،یہ بھی ذوالفقار علی بھٹو جانتے تھے کہ قادیانیوں کو اگر غیر مسلم اقلیت قرارد ے دیا گیا تو انہیں امریکہ کبھی معاف نہیں کریگا ،وہ اسوجہ سے کہ جب مرحوم بھٹو سربراہ مملکت کی حیثیت سے پہلی مرتبہ امریکہ کے دورے پر گئے تو امریکی صدر نے انہیں ہدایت کی کہ پاکستان میں قادیانی جماعت ہماراسیکٹ (Sects )ہے انکاآپ نے ہرلحاظ سے خیال رکھنا ہے ،دوسری مرتبہ بھی جب امریکہ کے دورے پر گئے تو بھی یہی بات دہرائی گئی ،اس بات کا انکشاف انہوں نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں یہ کہتے ہوئی کیا کہ’’ یہ بات میرے پاس امانت تھی فقط ریکارڈ پر لانے کیلئے کہ رہا ہوں ‘‘بھٹو کے دور اقتدار میں کئی ایک افسران کو جبری ریٹائرڈ کرنا پڑا اس موقعے پر بھی کئی سینئر قادیانی افسران نے مسلمانوں کو ریٹائرڈ کرکے اپنے ہم مذہب افراد کو بھرتی کرلیاپاکستانی فضائیہ کے سابق ایئر مارشل ظفر چوہدری بڑے متعصب قادیانی تھے ،انہوں نے ایئرفورس پر مرزائیوں کو قابض کرنے کیلئے بڑی ناکام تدابیر کیں ،ایک دفعہ ظفر چوہدری کے ہاتھوں کورٹ مارشل کی بھینٹ چڑھنے والے ایک مسلم فضائی افسر نے مسٹر بھٹو تک رسائی حاصل کی اورانہیں ظفر چوہدری کی گھٹیا ذہنیت سے آگاہ کیا ،انکی یہ لرزہ خیزداستان سنکر مسٹر بھٹو بہت حیران ہوئے اور اس روز بھٹو بے حد پریشان ہوئے اور انکے ماتھے پر معنیٰ خیزشکن ابھر آئی اور کہا ’’اچھا یہ ہے انکا اصل روپ‘‘بس اس بات کے بعد بھٹو کے ذہن میں قادیانیت کی جو نفرت ابھری اسکا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ،اس بات کے علاوہ بھی بھٹو کوبہت سی ایسی باتیں اسی ظفر چوہدری کے حوالے سے معلوم ہوئیںجن سے اس بات پر مسٹر بھٹو کو یقین کامل ہوگیا کہ قادیانی نہ صرف غیر مسلم بلکہ پاکستان کے لئے ایک بہت بڑی آگ ہیں کہ انکے ہوتے ہوئے پاکستان جل تو سکتا ہے مگر سرسبزو شاداب نہیں رہ سکتا،یہ وہ دن تھا جب بھٹو نے یہ تہیہ کرلیا کہ اب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردینا ہے ۔اسی وجہ سے بھٹو نے یہ مسئلہ اسمبلی میں لانے کا فیصلہ کرلیا اور13جون1974؁ء کو بھٹو نے اپنے نشری خطاب میں کہا کہ ’’میں مسلمان ہو ں اور مجھے مسلمان ہو نے پر فخر ہے کلمہ کے ساتھ پیدا ہوا تھا اور کلمہ کیساتھ ہی مرونگا ختم نبوت پر میرا کامل ایمان ہے انشاء اللہ عوام کے تعاون کیساتھ قادیانیوں کا مسئلہ مستقل طور پر حل کرونگا ،یہ اعزازبھی مجھے ہی حاصل ہوگا اور روزمحشر خدا کے سامنے اسی کام کے باعث سرخروہونگا ۔

29مئی 1974ء کا واقعہ
۲۹مئی ۱۹۷۴؁ء کو نشتر میڈیکل کالج کے اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوان بذریعہ چناب ایکسپریس ملتان سے روانہ ہوئے اور ان غیرتمند نوجوانوں نے قادیانیوں کے شہر ربوہ میں گاڑی کے رکتے ہی قادیانیوں پر لعنت کے نعرے لگانا شروع کردئے ،گاڑی چل نکلی ،مگر اسٹیشن ماسٹر نے پتہ لگوالیا کہ یہ طلبہ کس گاڑی میں اور کب واپس آرہے ہیں ،معلوم ہوا کہ اِسی چناب ایکسپریس میں واپس آرہے ہیں ،واپسی پر اسٹیشن ماسٹرمرزا مشتاق احمد قادیانی نے گاڑی کو ۴۵منٹ چناب نگرمیں روکے رکھا،جہاں قادیانی درندے آنجہانی مرزا طاہر کی سر براہی میں خنجر ،ڈنڈے، کُدالیں ،کلہاڑیاں لیکر پہلے سے موجود تھے انہوں نے اِ ن نوجوانوں پر حملہ کرکے انہیں لہو لہان کرکے زندہ لاشیں بنا دیا ،اب جو گاڑی یہاں سے نکلی تو اگلا اسٹاپ فیصل آباد تھا ،اس درندگی کی خبر گاڑی چلنے سے قبل ہی پورے ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ،فیصل آباد ریلوے اسٹیشن مسجد کے امام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اہم راہنماء مولانا تاج محمود فیصل آبادی ،اور مفتی زین العابدین، حکیم عبدالرحیم اشرف وہاں پر ہزاروں کا مجمع لیکر پہلے ہی موجود تھے ، گاڑی چناب ایکسپریس فیصل آباد پہنچی اور اِن زندہ لاشوں کو ٹرین سے اتارا گیا ،لوگوں نے یہ درندگی اپنی آنکھوں سے دیکھی تو اپنے گھروں کو نہ جانے کا فیصلہ کرلیا اور مولانا تاج محمود سے مطالبہ کیا کہ ابھی اوراسی وقت ان کے قتل کا قادیانیوں سے بدلہ لیا جائے ،مولانا نے وہاں موجود ہزاروں کے مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اِ ن طلبہ میں سے جبتک ہر ایک کا بدلہ نہیں لیں گے سکون سے نہیں بیٹھیں گے ‘‘ اسکے بعد ان حضرات نے ان زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔ ۲۹ مئی ۴۷؁ ء کو یہ واقعہ ہوا ،۳۱مئی کو وزیراعلیٰ پنجاب مسٹر حنیف رامے نے لاہور ہائی کورٹ کے جج مسٹر جسٹس کے ۔ایم۔ اے صمدانی پر مشتمل ایک کمیٹی ٹریبونل کا اعلان کردیا ،اس ٹریبونل نے اسی دن کارروائی کاباقاعدہ آغاز کردیا ،۵جون ۷۴؁ ء کو ٹریبونل نے گواہوں کو طلب کیا پہلا اور دوسرا گواہ ملک محمد اقبال لگیج گارڈ ،چوہدری نذیر احمدانچارج گارڈ(دونوں قادیانی تھے) کو بلوایا گیا ،اور معزز جج کے آگے انہوں نے جو واقعہ بیان کیا وہ یوں ہے ’’میں نے واقعے کے خلاف سخت احتجاج کیا کہ یہ خالص درندگی تھی ،جو کچھ طلبہ کے ساتھ ہوا وہ شرافت اور انسانیت کے خلاف تھا ،طلبہ کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے ‘‘ اس بیان سے صرف اتنا بتانا مقصود ہیکہ اس واقعے کی سنگینی کا اندازہ لگایاجائے کہ کس قدر درندگی کے ساتھ طلبہ کو زدوکوب کیا گیا تھا کہ خود قادیانی گواہ مان رہے ہیں کہ درندگی تھی، تحقیقاتی ٹریبونل نے کام مکمل کرلیا اس ٹریبونل نے ستر گواہوں سے اس واقعے کی گواہی حاصل کی جن میں دوقادیانی بھی شامل تھے ،اخباری رپورٹوں کے مطابق مذکورہ رپورٹ 112 صفحات پر مشتمل تھی مگر اسے حکومت نے منظرِ عام پر لانے سے روک دیا ،عوام اور علماء نے مطالبہ کیا کہ جسٹس صمدانی رپورٹ کو شائع کیا جائے ، یہیںسے تحریک ختم نبوت کا باقاعدہ آغاز ہوا ،دوبارہ سے پورے ملک میں جلسے جلوس جلائو گھیرائو پتھرائو اور ایک سول نافرمانی کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ۔

برصغیر کے سینے پر اسلام اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کا پھریراصدیوں لہراتا رہا ،جو مسلم سلاطین نے کثیر الاقوام و مذاہب کی اس سرزمین پر بھرپور انداز میں حکمرانی کی ،خوشحالی ،تعلیم ،مساوات ،مذہبی آزادی اور عدل وانصاف کی بہترین مثالیں قائم کیں،فاتح خیبر محمد بن قاسم رحمت اللہ سے شروع ہونے والا عہد زریں جب ٹیپوسلطان رحمت اللہ کی شہادت کے بعد آخری مغل فرمانروابہادر شاہ ظفر رحمت اللہ کی بے بسی پر اختتام پذیر ہونے کے ساتھ ہی توحید کے علمبردار وں کو اس دھرتی کا سب سے بڑا مجرم قرار دے کر ظلم و ستم ،تشدد اور سفاکیت کی تمام حدیں عبور کرلی گئیں ،معاشی استیصال کے ساتھ ساتھ نظام تعلیم اور زبان کو یکسر تبدیل کر کے پوری قوم کو جاہل قرار دے دیا گیا ،انگریزی کوسرکاری زبا ن قرار دے کر اہل ہند کے لیے انتظامی امور چلانے کے لیے تمام مواقع مسدود کردیئے گے۔انگریز سرکار نے “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کے اصول کے تحت ہندو مسلم سماجوں کے درمیان نفرتوں کو ہوا دینے کے لیے شدھی اور سنگٹھن تحریکوں کو پروان چڑھایا جب کہ مسلمانوں کی قوت کو پارہ پارہ کرنے اور جذبہ جہاد کو مجروح کرنے کے لیے مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت کا نہ صرف ڈھنڈورا پیٹا گیا بلکہ مکمل پشت پناہی اور افرنگی سرپرستی بھی کی گئی ،الغرض غلامی کے اس زمانے میں ہوا کا ہر جھونکا مسموم اوریاس و ناامیدی کی گھنگھور گھٹائیں ہر سو چھائی ہوئی تھیں۔ایسے ماحو ل میں جنم لینے والی چند عبقری اور عظیم شخصیات میں سے ایک امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمت اللہ ہیں ،جنہوں نے افرنگی سامراج اور اس کے پروردہ کذاب مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف مسلم قوم کو بیدار اور متحد کیا ،مسلمانوں میں شعور و آگہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ جدوجہد آزادی کے روح رواں کی حیثیت سے جیل اور ریل کی زندگی گزار کر نہ صرف ایک آزاد اسلامی مملکت پاکستان کے قیام کو ممکن بنایا بلکہ مرزا قادیانی کی جھوٹی نبوت اور اس کی فریب کاریوں سے امت کو آگاہ کرکے کروڑوں مسلمانوں کے ایمان کی بھی حفاظت کی۔
1857ء کی جنگ آزادی کے 34 سال بعد 1891ء بمطابق یکم ربیع الاول 1310ھ ضلع بہار کے علاقہ پٹنہ میں حافظ سید ضیاء الدین کے گھر ایک باسعادت بچے نے آنکھ کھولی ،جس کا نام ددھیال کی طرف سے عطاء اللہ اور ننھیال کی طرف سے شرف الدین احمد رکھا گیا۔آپ نجیب الطرفین سید تھے ،والدہ محترمہ سیدہ فاطمہ اندرابی بھی حضرت باقی باللہ کے خاندان سے تھیں۔ آپ کی عمر ابھی چار سال کی تھی کی والدہ محترمہ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا تھا،گھر میں علمی و مذہبی ماحول ہونے کی وجہ سے قرآن کریم سے قلبی لگاؤ ہو گیا اور بچپن میں ہی قرآن پاک حفظ کرلیا جب کہ عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید کے معلم خاص شیخ عاصم عمر رحمہ اللہ سے حجازی لَے سیکھی اورفن قرات میں معراج پائی،1914ء میں امرتسر میں مولانا مفتی غلام مصطفیٰ رحمت اللہ سے مدرسہ نصرت العلوم میں صرف و نحو اور کتب فقہ کی تعلیم حاصل کی،1919ء میں شاہ جی کو مولانا مفتی غلام مصطفی ٰ رحمت اللہ سے محلہ کوچہ جیل خانہ کی عوام نے اپنی مسجد کی خطابت کے لیے مانگ لیا ،جس فرمائش کو استاد محترم نے بادل ناخواستہ قبول کرلیا،آپ کی خطابت کے روز اول سے ہی مسجد باوجود اپنی وسعتوں کے کم پڑنی شروع ہوگئی اور چہار سو آپ کی خطابت کا شہرہ بلند ہونے لگا ،جب کہ آپ نے اپنی تعلیم مولانا نور محمدرحمت اللہ اور مفتی محمد حسن رحمت اللہ سے مکمل کی۔امیرشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمت اللہ نے اپنی عملی زندگی کی ابتداء غیر اسلامی وغیر شرعی رسومات کے خاتمے کی تحریک سے کی ،جس کے نتیجے میں امرتسر میں جاہلانہ رسومات کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ دروس قرآن کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو عام کیا۔
(ماخوذ از حیات امیرشریعت )
امیرشریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کی تبلیغی و تحریکی زندگی کو مرکزی دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ،پہلا حصہ تحریک آزادی اور انگریزی سامراج کے خلاف جدوجہد سے متعلق ہے اور دوسرا حصہ کذاب و منکرختم نبوت مرزاغلام احمد قادیانی کے فتنہ کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔پہلی جنگ عظیم کے اختتام پرانگریزی سامراج اہل ہند کے بارے میں نوآبادیات جیسے اعلانات سے عملا ً انکاری ہوئی تو شدید عوامی ردعمل نے جدوجہد آزادی مذہبی و گروہی تفریق سے بالا تر ہوتے ہوئے نئے عزم سے شروع ہوئی نتیجتاً امرتسر میں مارشل لاء اور جلیانوالہ باغ جیسے سفاکانہ واقعات رونما ہوئے ،جب کہ برطانیہ نے ترکی سے بھی عہد شکنی کی تھی ،جس پرمسلمانان ہند نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اسی مناسبت سے دسمبر 1919میں خلافت کانفرنس گول باغ امرتسر میں مولانا شوکت علی کی زیر صدارت منعقد ہوئی ،جس میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ نے اپنی خطابت کے جوہر کھائے،اور ہر عام و خاص کو اپنا گرویدہ بنالیا۔اسی طرح 1920 میں تحریک ترک موالات شروع کی گئی تو 1921 کو کلکتہ کانگریس کے سیشن فروری کے اجلاس میں بھرپور انداز میں ترک موالات کی تائید کرکے اسے کامیاب بنانے میں شاہ جی رحمت اللہ نے کلیدی کردار ادا کیا ،یہاں تک کہ بچوں نے سکول ،نوجوانوں نے کالج اور وکلاء نے عدالتوں میں حصہ لینا چھوڑ دیا ،ولائیتی مال کے بائیکاٹ کی تحریک زور پکڑنے لگ گئی۔یہی موقع تھا جب حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کی شہرت امرتسر کے حدود اربعہ سے نکل کر پورے ہند میں پھیل گئی ،خلافت کمیٹی اور تحریک ترک موالات کو کامیاب بنانے اور آپ کی مقبولیت سے خائف ہوکر اور اپنے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دباتے انگریز نے شاہ جی کو باغی قرار دے کر دن رات آپ کی نگرانی شروع کر دی ، بالآخر27 مارچ 1921 ء کو رات کے آخری پہر میں کوچہ موہر کنداں کرمو ں ڈیوڑھی امرتسر سے تحریک آزادی کے عظیم مجاہد کو دفعہ 124ایف کے تحت گرفتار کرلیا گیا ،طلوع آفتاب کے ساتھ ہی یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی ،سارا شہر سراپا احتجاج تھا، جب کہ احتجاج کا یہ سلسلہ دوسرے شہروں تک پھیلتے ہوئے انگریز سرکار کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن رہا تھا ،حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کی تحریکی زندگی میں یہ پہلی گرفتاری تھی ،آپ کو 2 اپریل مسٹر الف اے کانر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں آپ نے ان الفاظ میں اپنا موقف پیش کیا ،”میں ترک موالات کا حامی ہوں،قرآن میری صفائی ہے ،قرآن میرا گواہ ہے،قرآن ہی میرا مذہب ہے اور قرآن ہی میرا دین ہے ،اس کے علاوہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتا ہوں “۔چنانچہ 8 اپریل 1921 ء کو جج نے تین سال قید بامشقت جن میں تین ماہ قید تنہائی بھی شامل ہے کی سزا سنا کر آپ کو لاہور سنٹرل جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا،چنانچہ 11 اپریل کو انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر نے اپنے محبوب قائد ،برطانوی سامراج کے اہم مجرم ،آزادیٔ وطن کے نڈر سپاہی ،قرآن کے داعی اور تحریک آزادی کے سرخیل کو ریلوے اسٹیشن پر الوداع کہا۔(حیات امیر شریعت )اسی اسیری کے دوران شاہ جی رحمہ اللہ کو میانوالی جیل میں منتقل کیا گیا جہاں مشاہیر تحریک آزادی کے ساتھ زندگی کے ناقابل فراموش لمحات گزارے،جب آپ 21 اکتوبر 1924کو میانوالی جیل سے رہا ہوئے تو برصغیر کا منظر نامہ تبدیل تھا ،طاغوتی سازشوں کی بدولت شدھی اور سنگھٹن کی تحاریک نے ہندو مسلم فسادات کو جنم دے دیا تھا ،اور 5فروری 1923کو گاندھی جی نے تحریک ترک موالات کو ختم کرکے انگریزی تسلط کو قوت فراہم کی تھی جب کہ تحریک خلافت 21 نومبر 1922ء کو برطانیہ اور ترکیہ کے درمیان معاہدہ طے پانے کی وجہ سے ختم ہو چکی تھی۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ شدھی جیسی تحاریک نے غیر ملکی تسلط کو دوام بخشنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا ،اوراس حقیقت سے امیرشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ بخوبی واقف تھے ،آپ نے کھلم کھلا ان فرقہ وارانہ فسادات کو انگریز ی اقتدار کی سازش قرار دیتے ہوئے اہل ہند میں شعور وآگہی کی بیداری کا سلسلہ شروع کیا اور آپ نے مسلم بیزار تحاریک کے مقابلے میں جرات مندانہ انداز میں اسلام اور مسلمانوں کا بھی خوب دفاع کیا ،اس موقع پر مسلم اخبار ’’زمیندار ‘‘نے آپ کا بہت زیادہ ساتھ دیا تھا،اس کی پاداش میں جنوری 1925 کو حضرت امیر شریعت کو دفعہ 108 کے تحت گرفتار کرکے چھ ماہ قید یا پانچ سو روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ،اہل محلہ نے جرمانہ کی رقم ادا کرکے آپ کی رہائی ممکن بنائی ،جرمانہ ادا کرنے پر شاہ صاحب اہل محلہ سے ناراض ہوئے کہ آپ نے پاک کمائی فرنگی خزانہ میں کیوں دی۔اس میں دو رائے نہیں کہ اگر شاہ جی کی تقاریر اور مولانا ظفر علی خان کی تحاریر نہ ہوتیں تو من حیث القوم مسلمان خسارہ میں ہوتے۔
شاہ جی تحریکی زندگی کا اہم باب شاردا ایکٹ کو ناکام بنانا ہے ،جس کی رو سے اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی اور اکیس سال سے کم عمر لڑکے کی شادی قانوناً جرم قرار دیا گیا تھا ،اس بل کو دہلی سینٹرل اسمبلی میں رکن اسمبلی ہربلاس شاردا نے 23 ستمبر 1929 ء کو پیش کیا ،اسمبلی نے 28 ستمبر کو پاس کرکے یکم اپریل 1930 سے نافذ العمل قرار دے دیا تھا ،اس کے ردعمل میں جمیعت علماء ہند نے ملک گیر تحریک شروع کی اور اسے دین میں مداخلت قرار دیا ،آپ کو پنجاب اور سرحد کے اضلاع کی طرف روانہ کیا ،آپ نے ہزاروں 18سال سے کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کے نکاح پڑھاکر عوام کو ترغیب دی کہ وہ اس قانون کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیں ،اورآپ ہی کی شب وروز کی جدوجہد کے بعد بھرپور عوامی حمایت سے شارداایکٹ کو ناکام بنادیا گیا۔
دوسری جانب نہرو رپورٹ اورکانگریس کی مسلسل جانبداری اور مسلمانوں کے حقوق کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے مسلم قائدین نے الگ تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا ،چنانچہ 1929 ء میں چودھری افضل حق کی زیر صدارت مسلم قائدین نے آل انڈیا کانگریس کے پنڈال میں مجلس احرار کی بنیاد رکھی ،اور آپ کو اس کا پہلا صدر منتخب کیا گیا،مجلس احرار نے آزادی ہند کے لیے کانگریس کے موقف کی تائید کرتے ہوئے جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا ،13 مارچ 1930 کو گاندھی جی نے ضلع گجرات (کاٹھیاوار)سے سول نافرمانی کا اعلان کیا تو انگریز سرکار نے ان کو گرفتار کرلیا ،جس سے سارے ہند میں نمک سیتہ گر کی تحریک پھیل گئی ،شاہ جی نے پنجاب میں سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے امروہہ،الہ آباد ،آگرہ ،بمبئی اور بنگال کے بھرپور انداز میں دورے کئے ،اسی دوران آپ پر دوقاتلانہ حملے بھی کیے گئے تھے،بالآخر ایک بار پھر آپ کو 30 اگست 1930کو دیناج پور (بنگال )سے انگریز سامراج نے گرفتار کرکے چھ ماہ قید بامشقت سنا کر ڈم ڈم جیل بھیج دیا ، رستم زمان غلام حسین عرف گاما پہلوان نون والے کو آپ کی اسیری کی اطلاع ملی تو اس نے جیل میں آکر ملاقات کی تھی ،جنوری 1931 میں ’’گاندھی اردن پیکٹ ‘‘کے تحت نمک ستیہ گر تحریک ختم کردی گئی اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا جس میں آپ کو بھی رہائی ملی اور آپ نے نئے عزم کے ساتھ مجلس احرار کی تنظیم نو کرنی شروع کی۔(حیات امیرشریعت سے ماخوذ)
1936 ء کے عام انتخابات میں مجلس احرار نے بھرپور حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور ڈسکہ سے چودھری سرظفراللہ خان مرزائی کے بھائی چودھری اسداللہ کے مقابلہ میں چودھری غلام رسول ستراہ کو ٹکٹ دیا ،اورشاہ جی نے پوری قوت کے ساتھ مہم چلائی نتیجتاًمجلس احرار کے نمائندے اور ختم نبوت کے رکھوالے کو عظیم فتح حاصل ہوئی۔امیرشریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ اورمولانا حبیب الرحمن لدھیانوی رحمہ اللہ نے انگریز ی فوج میں بھرتی کے خلاف عوام کو ابھارنے کے لیے ضلع میانوالی کاایسا دورہ کیا جس کی وجہ سے یونینسٹ حکومت اور وزیر اعلیٰ سرسکندر کو سخت مشکلات کاسامنا کرنا پڑا ،بالآخر ڈیفنس آف انڈیا رولز کے تحت 8 دسمبر 1939ء کو ضلع مظفر گڑھ سے زیردفعہ 121،302،124الف اور 153بحکم سیشن جج راولپنڈی گرفتار کرکے لالہ موسیٰ اور گجرات سمیت مزید کئی مقدمات درج کردیئے گے،جن کی تفصیلی سماعتیں مختلف لاہور اورراولپنڈی کی عدالتوں میں ہونے کے بعد 7 جون 1940 کو سیشن جج لاہور مسٹر ڈی فالشا نے باعزت طور پر بری کردیا ،اس خبر کو برلن ریڈیو نے الفاظ کے ساتھ نشر کیا کہ ’’ہندوستان میں برطانوی سلطنت کے سب سے بڑے باغی مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو صوبے کی سب سے بڑی عدالت نے بری کردیا ‘‘۔نیز شعبہ نشرو اشاعت جرمنی نے امیر شریعت کی تصاویر کو ہوائی جہاز کے ذریعے ملک بھر میں تقسیم کیا۔رہائی کے بعد بھی امیر شریعت سیدعطاء اللہ شاہ بخاری رحمت اللہ نے انگریزی فوج میں بھرتی ہونے کے خلاف مہم کو جاری رکھا جب کہ یہ زمانہ جنگ عظیم دوم کا تھا ،آپ کی کوششوں اور تدبیروں سے سینکڑوں نوجوانوں نے انگریزی فوج کو خیر باد کہا یا انہیں سرکار نے خود ہی نکال دیا۔
مئی 1943 کو آل انڈیا مجلس احرار ورکنگ کمیٹی نے سہارن پور اجلاس میں حکومت الہیہ کی قرارداد منظور کی ،اور اس نعرہ کو اپنا شعار بنایا ’’خلقت خدا کی ،حکم بھی خدا کا‘‘ان الحکم الا للہ۔اس قرارداد کے پاس ہونے کی وجہ سے حضرت امیرشریعت رحمت اللہ کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کا باعث بنی ،آپ نے پورے ہند میں بھرپور انداز میں اپنے موقف کو پیش کرکے رائے عامہ کو ہموار کرنے کی جدوجہد کی ،تاہم اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مسلم لیگ کے مطالبہ پاکستان کو مسلمانوں میں مقبولیت حاصل ہو چکی تھی ،شاہ جی کی نگاہ وبصیرت نے بخوبی جان لیا تھا کہ ہند کی آزادی اور تقسیم مقدر ہوچکی ہے ،آپ نے متعدد بار مسلم لیگی قیادت بالخصوص قائداعظم محمد علی جناح رحمت اللہ سے تقسیم اور قیام پاکستان سے متعلق اپنے تحفظات و خدشات کے ازالہ اور افہام وتفہیم کے لیے وقت مانگا مگر اس کی کوئی صورت نہ بنائی گئی۔نیز 27 مارچ 1946 کو مجلس احرار ورکنگ کمیٹی کے ہنگامی اجلاس لاہور میں امیر شریعت رحمہ اللہ نے قرارداد پیش کی “مسلم لیگ کے نظریہ پاکستان سے مجلس عاملہ کسی صورت اتفاق نہیں کرسکتی ہے،ہم تقسیم ہند کے نظریہ کا تجزیہ محض اقتصادی اور معاشرتی اصولوں پر نہیں کرتے، پاکستان قبول کرنے کا مطلب ملت اسلامیہ ہندیہ کو تین مختلف حصوں میں منتشر کرنا ہوگا،پنجاب (کا نامکمل صوبہ ،سرحد ،سندھ اور بلوچستان ہندوستان کے دوسرے پر اور بالکل دوسرے سرے پر مشرقی بنگال اور آسام کے کچھ اضلاع کو پاکستان بنایا جارہا ہے ،ملت اسلامیہ ان دوحصوں میں بٹ کر نہیں رہے گی ،بلکہ اس سے ایک بڑے حصے پر ہندوستان میں دوامی غلامی مسلط رہے گی،ان دو پاکستانی ریاستوں میں مؤثر غیرمسلم اقلیت رہے گی ،نیز پاکستان کی دونوں ریاستیں جغرافیائی اعتبار سے ایک دوسرے کی کسی بیرونی حملے کی صورت میں امداد نہیں کرسکیں گی،اور ان دو ریاستوں کے درمیان ہندوؤں کو دنیا کی سب سے بڑی سلطنت سونپ دی جائے گی،جس میں مسلم اقلیت کی پوزیشن حددرجہ غیر موثر رہے گی۔(حیات امیرشریعت )
پنجاب کی تقسیم پر مجلس احرار نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 19 مارچ 1947 ء کولاہور بریڈ لے ہال میں پنجاب سوشلسٹ پارٹی اور مجلس احرار کے مشترکہ اجلاس میں مسلم لیگ پر زور دیا کہ وہ پنجاب کی تقسیم کو کسی صورت قبول نہ کرے ورنہ مشرقی پاکستان کا مسلمان تباہ ہو جائے گا۔لیکن ہوا وہی جس کا خدشہ تھا کانگریس نے پنجاب کے فسادات کی آڑ لے کر اعلان کیا کہ پنجاب اور بنگال کی تقسیم ناگزیر ہے۔22 مارچ 1947 کو لارڈماونٹ بیٹن کووائسرائے ہند بنایا گیا تھا ،جس کی ذمہ داری تقسیم کے عمل کو مکمل کروانا تھا ،چنانچہ 3 جون کو 1947 کو تاریخی خطاب کیا ،جس کی رو سے برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا اور ساتھ ہی پنجاب اور بنگال کی تقسیم پر مہر ثبت کردی ،نتیجتاًسکھوں اور ہندوؤں نے وہاں کی مسلم اقلیت کا قتل عام شروع کرکے ظلم و ستم کی المناک داستانیں رقم کیں۔قیام پاکستان کے بعد رونما ہونے والے دالخراش واقعات پر امیرشریعت سیدعطا ء اللہ شاہ بخاری رحمت اللہ نہایت رنجیدہ رہتے تھے ،آپ نے 24 دسمبر 1947کوصدر مجلس احرار ماسٹر تاج الدین انصاری کے نام خط میں پاکستان کے بارے میں اپنے زریں الفاظ تحریر کیے”تقسیم پنجاب کو کانگریس نے پیش کرکے مسلمانوں سے پاکستان کی بہت بڑی قیمت ادا کروائی اور کروا رہی ہے ،ابھی نہ جانے کب تک مسلمانوں کو سوددر سود ادا کرنا پڑے گی۔ہر مسلمان کو پاکستان کی فلاح و بہبود کی راہیں سوچنی چاہیے ،اور اس کے لیے عملی اقدامات اٹھانا چاہیے۔مجلس احرار کو ہر نیک کام میں حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے ،خلاف شرع کام سے اجتناب کرنا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ