ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں شدید مزاحمت کا سامنا 

89
واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ صحافیوں کی موجودگی میں نیویارک ٹائمز کا مضمون دکھا رہے اور وائٹ ہاؤس کے ملازمین کی سرزنش کررہے ہیں 
واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ صحافیوں کی موجودگی میں نیویارک ٹائمز کا مضمون دکھا رہے اور وائٹ ہاؤس کے ملازمین کی سرزنش کررہے ہیں 

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہل کار نے ایک اخبار کے اداریے میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ’ ٹرمپ انتظامیہ میں ان کے خلاف اندرونی مزاحمت کا ایک حصہ ہیں۔ مقامی روزنامے میں اس اداریے کے چھپنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اخبار نیویارک ٹائمز میں یہ اداریہ لکھنے والے کا نام ظاہر کیے بغیر شائع کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مخفی اعلیٰ اہل کار نے اس اداریے میں لکھا ہے کہ انتظامیہ کے اہم حکام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے بعض حصوں کو کمزور بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس اعلیٰ اہل کار کا کہنا ہے کہصدر ٹرمپ کو اپنے ہم عصر امریکی رہنماؤں کے برعکس آزمایش کا سامنا ہے۔ اہل کار کا مزید کہنا تھا کہ مشکل یہ بھی ہے کہ ٹرمپ اس بات سے واقف نہیں کہ خود وائٹ ہاؤس کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو صدر کی غلط پالیسیوں اور ان کے جھکاؤ کے رحجانات کے سبب ان سے ناراض ہیں، اور ان کے خلاف کام میں مصروف ہیں۔ اخبار نے اس آرٹیکل کے ساتھ یہ نوٹ بھی لکھا ہے کہ کسی گمنام اہل کار کا اس نوعیت کا آرٹیکل شائع کرنا ڈیسک کا ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ تاہم ڈیسک کی رائے میں اخبار کے ایڈیٹرز کا موقف ہے کہ صرف اسی طرح وہ اپنے قارئین کو ایک بہت اہم نقطہ نظر فراہم کر سکتے تھے۔ گمنام مصنف نے اس آرٹیکل میں لکھا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ’دو طرفہ طرز کی صدارت‘ چل رہی ہے، جس میں اعلیٰ اہل کار وہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو صحیح تصور کرتے ہیں، خواہ ٹرمپ اس کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔اس اداریے کے شائع ہوتے ہی صدر ٹرمپ اس کے لکھاری پر سخت برہم ہوئے اور نیو یارک ٹائمز اخبار کو بد دیانت بھی کہا۔ ٹرمپ نے اس آرٹیکل پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹرمپ کو پسند نہیں کرتے اور میں انہیں پسند نہیں کرتا۔ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی حکومت کے اس بزدل اعلیٰ عہدے دار کا نام ظاہر کرے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ