برف پگھلنے لگی،جرمنی اور ترکی تعلقات بہتر بنانے پر متفق 

98
انقرہ: جرمن وزیر خارجہ ہائیکوماس ہم منصب مولود چاوش اولوکے ساتھ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت میں بم باری کا نشانہ بننے والی پارلیمان کی عمارت دیکھ رہے ہیں
انقرہ: جرمن وزیر خارجہ ہائیکوماس ہم منصب مولود چاوش اولوکے ساتھ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت میں بم باری کا نشانہ بننے والی پارلیمان کی عمارت دیکھ رہے ہیں

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمنی اور ترکی کے درمیان کئی ماہ سے جاری تناؤ کے خاتمے اور تعلقات کی بہتری پر اتفاق ہوگیا۔ جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس اور ان کے تُرک ہم منصب مولود چاوش اولو نے انقرہ میں ہونے والی ملاقات میں مثبت سمیت میں تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ مولود چاوش اولو تعلقات کی اس بہتری کے لیے کوئی شرط ماننے کو تیار نہیں، تاہم جرمنی کا مطالبہ ہے کہ ترکی میں زیر حراست جرمن شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ہائیکو ماس بدھ کے روز ترکی پہنچے تھے، جہاں انہوں نے صدر اردوان سے بھی ملاقات کی۔ اس دورے کا مقصد ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے جرمن ترک کشیدہ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش تھی۔ 2016ء کی اس ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی نے ہزاروں لوگوں کو حراست میں لے لیا تھا، جن میں کچھ جرمن شہری بھی شامل ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ