افکارسید ابوالاعلی مودودیؑ 

151
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
مختلف جماعتیں
اِس میں شک نہیں کہ ایک ہی مقصد اور ایک ہی کام کے لیے مختلف جماعتیں بننا بظاہر غلط معلوم ہوتا ہے اور اس میں انتشار کا بھی اندیشہ ہے۔ مگر جب نظامِ اسلامی درہم برہم ہو چکا ہو اور سوال اْس نظام کو چلانے کا نہیں بلکہ اْس کے از سرِ نَو قائم کرنے کا ہو، تو ممکن نہیں ہے کہ ابتدا ہی میں وہ ’’الجماعۃ‘‘ وجود میں آجائے جو تمام اْمّت کو شامل ہو، جس کا التزام ہر مسلمان پر واجب ہو، اور جس سے علیحدہ رہنا جاہلیت اور علیحدہ ہونا ارتداد کا ہم معنی ہو۔ آغاز کار میں اس کے سوا چارہ نہیں کہ جگہ جگہ مختلف جماعتیں اس مقصد کے لیے بنیں اور اپنے اپنے طور پر کام کریں۔
یہ سب جماعتیں بالآخر ایک ہوجائیں گی اگر نفسانیت اور افراط وتفریط سے پاک ہوں اور خلوص کے ساتھ اصل اسلامی مقصد کے لیے اسلامی طریق پر کام کریں۔
حق کی راہ میں چلنے والے زیادہ دیر تک الگ نہیں رہ سکتے۔ حق ان کو جمع کر کے ہی رہتا ہے، کیونکہ حق کی فطرت ہی جمع و تالیف اور وحدت و یگانگت کی متقاضی ہے۔ تفرقہ صرف اْس صورت میں رْونما ہوتا ہے جب حق کے ساتھ کچھ نہ کچھ باطل کی آمیزش ہو یا اوپر حق کی نمائش ہو اور اندر باطل کام کر رہا ہو۔ (شہادتِ حق)
*۔۔۔*۔۔۔*
تقابُلِ اَدیان کے اصول
ادیان کا مقابلہ درحقیقت ایک بہت مشکل کام ہے۔ انسان جس عقیدے اور رائے پر ایمان رکھتا ہو اْس کے مخالف عقائد و آراء کے ساتھ بہت کم انصاف کر سکتا ہے۔ یہ کمزوری انسانی طبائع میں بہت عام ہے۔ مگر خصوصیت کے ساتھ مذہبی گروہ میں تو اِس نے تعصّْب و تنگ نظری کی بدترین شکل اختیار کر لی ہے۔ ایک مذہب کے پَیرو جب دوسرے مذاہب پر تنقید کرتے ہیں تو ہمیشہ اْن کے تاریک پہلو ہی تلاش کرتے ہیں اور روشن پہلو کو یا تو دیکھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے یا اگر دیکھ بھی لیتے ہیں تو اسے دیدہ و دانستہ چْھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مذہبی تنقید سے ان کا مْدّعا دراصل حق کی تلاش نہیں ہوتا بلکہ محض اس رائے کو جسے وہ تحقیق سے پہلے اختیار کر چکے ہیں درست ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اِس طریقے سے تقابْلِ ادیان کے تمام فوائد زائل ہو جاتے ہیں اور خود اْس مذہب کو بھی کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا جس کی تائید میں یہ گمراہ کْن طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔
اگر تقابْل کا مقصد تحقیق اور اس کے اِحقاق کے سِوا کچھ اور نہیں ہے تو یقینًا اس مقصد کے حصول کا بھی یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں ہے کہ آدمی پہلے سے دوسرے مذاہب کے متعلق ایک مخالفانہ رائے قائم کر لے اور اْن کا مطالعہ صرف اس نیّت سے کرے کہ اْن کی خوبیوں پر پردہ ڈالنا ہے اور اْن کی بْرائیوں کو تلاش کر کے ان سے اپنے مذہب کی برتری ثابت کرنی ہے۔ اِس قِسم کی بددیانتی اور فریب کاری سے کسی مذہب کی برتری کا اثبات نہ تو فی الحقیقت اس کی برتری کا اثبات ہوگا، نہ ایسی کامیابی کسی دینِ حق کے لیے باعثِ فخر ہو سکتی ہے، اور نہ حق و صداقت کی نظر میں ایسے مذہب کو کوئی وْقعت حاصل ہو سکتی ہے۔ اگر اِس طرح دھوکا کھا کر کوئی شخص اس کی حقانیت کا معتقد ہو جائے تو یہ اعتقاد بالکل ناقابلِ اعتماد ہوگا کیونکہ اس کی بنیاد ہی غلط ہوگی۔ (الجہاد فی الاسلام)
*۔۔۔*۔۔۔*
شخصیتیں فانی ہوتی ہیں
جو قوم محض کسی شخصیت کے بَل پر اْٹھتی ہے وہ اْس شخصیت کے ہٹتے ہی گِر بھی جاتی ہے۔ اس کے قیام کو دوام اور اس کے اِرتقاء کو اِستمرار اگر کوئی چیز بخش سکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ اْس شخصیت کے سہارے اْٹھنے کے بعد وہ کوئی ایسا نصب العین پا لے جس کی کشش ہمیشہ اْسے کھینچتی رہے، کوئی ایسا مقصدِ زندگی پا لے جس کے عشق میں وہ پیہم سرگرمِ عمل رہے اور کچھ ایسے اصول پا لے جن کی بنیاد پر وہ اپنی حیاتِ قومی کی عمارت مستحکم کر سکے۔
شخصیتیں بہرحال فانی ہوتی ہیں۔ اْن کے بَل پر قوم اْٹھ تو سکتی ہے مگر قائم نہیں رہ سکتی۔ قائم رہنے کے لیے اسے ان چیزوں کی ضرورت ہے جن کی عْمر اشخاص و افراد کی عْمر سے زیادہ ہو۔ جو مردانِ کار کی موت کے ساتھ مر نہ جائیں، بلکہ نسل پر نسل اْن سے گرمی، حرکت اور طاقت پاتی چلی جائے۔
(کتاب: مولانا مودودیؒ کی تقاریر)
*۔۔۔*۔۔۔*

Print Friendly, PDF & Email
حصہ