غزوہ خندق

84

مفتی تنظیم عالم قاسمی

تا ریخِ اسلام سے وا قف ہر شخص جانتا ہے کہ غز وۂ احزاب میں کفار کی مختلف جماعتیں متحد ہوکر مسلمانوں کو ختم کردینے کا معاہدہ کرکے مدینہ پر چڑھ آئی تھیں۔ قرآنِ کریم نے ان متحدہ طاقتوں کی سازشوں کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے۔ ترجمہ: ’’دشمن اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آ ئے، جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں‘ کلیجے منہ کو آگئے اور تم لو گ اللہ کے با رے میں طرح طرح کے گمان کر نے لگے‘‘۔ (الاحزاب: 10)
اس غزوہ کا سبب سیرت نگاروں نے یہ بیان کیا ہے کہ شرارت کی وجہ سے جب نبی کریمؐ نے بنو نضیر کو جلا وطن کردیا اور یہ لوگ مدینہ سے نکل کر خیبر میں قیام پذیر ہوئے تو انھوں نے ایک نہایت مذموم سازش شروع کی، ان کے رؤسا میں سے حْی بن اخطب، سلام بن ابی الحقیق کنانہ بن ربیع وغیرہ 5ھ میں مکہ مکرمہ گئے اور قریش کو مسلمانوں کے استیصال کے لیے جنگ پر آمادہ کیا، دونوں کے آپسی معاہدے کے بعد بنو نضیر کے مذکورہ افراد عرب کے ایک بڑے اور جنگ جُو قبیلے بنو غطفان کے پاس پہنچے اور ان کو خیبر کے نخلستانوں کی نصف پیداوار کی طمع دے کر ہم خیال بنالیا۔ غطفان کے تمام قبائل بھی ساتھ ہوگئے، اس طرح ابو سفیان کم وبیش دس ہزار آدمیوں کی بھاری جمعیت اور وسائل کی فروانی کے ساتھ شوال 5 ہجری میں مدینے کی طرف روانہ ہوا۔ جب نبی کریمؐ کو دشمنوں کی نقل وحرکت کا علم ہوا تو حسبِ معمول آپؐ نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ فرمایا، سیدنا سلمان فارسیؓ نے عرض کیا! ہم اہلِ فارس کا دستور یہ ہے کہ ایسے موقع پر خندق کھود کر دشمن سے خود کو محفوظ کرلیتے ہیں اور اس کو مجبور بنا دیتے ہیں۔ نبیِ کریمؐ نے اس مشورے کو قبول فرما کر خندق کھودنے کا حکم دے دیا، مدینہ میں تین جانب سے مکانات اور نخلستان کا سلسلہ تھا جو شہر پناہ کا کام دیتا تھا۔ صرف شامی رخ کھلا ہوا تھا، اس طرف آپ انے خود حدود قائم کیے، داغ بیل ڈال کر دس دس آدمیوں پر دس دس گز زمین تقسیم کی گئی، خندق کی کل لمبائی تقریباً ساڑھے تین میل تھی، چوڑائی اتنی تھی کہ ایک تیز رفتار گھوڑا عبور نہ کرسکے اور گہرائی ایک اندازے کے مطابق پانچ گز تھی۔ اس وقت مسلمان فوج کی تعداد کل تین ہزار تھی اور کل چھتیس گھوڑے تھے، معاملہ بہت سنگین تھا۔ سنگلاخ زمین تھی، موسم سرد تھا، کھانے پینے کے سامان مہیا نہیں تھے، صحابہ کرامؓ نے انتہائی صبر اور استقامت کا ثبوت دیا۔ ان کی زبان پر یہ اشعار جاری تھے۔
ترجمہ: ’’ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے زندگی بھر کے لیے محمدؐ کے ہاتھ پر جہاد کی بیعت کرلی ہے‘‘۔
’’خدا کی قسم! اگر خدا کی ہدایت رہنمائی نہ کرتی تو ہم کو نہ ہدایت نصیب ہوتی اور نہ ہی صدقہ ونماز‘‘
سیدنا ابوبکر صدیقؓ، سیدنا فاروقؓ اور دوسرے اکابرصحابہؓ خندق کھودنے میں برابر کے شریک تھے۔ اپنے دامن میں مٹی اٹھا کر باہر پھینکتے، جس سے گردوغبار نے جسم کو چھپا لیا تھا، صحابہ کرامؓ کے نہ چاہتے ہوئے بھی رسول اللہؐ نے ان کی دلجوئی اور امت کی تعلیم کے لیے اس سخت ترین محنت ومشقت میں برابر کا حصہ لیا۔ بھوک سے آپؐ کے شکم مبارک پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ اتفاق سے سیدنا سلمان فارسیؐ کے حصے میں پتھر کی بڑی چٹان نکل آئی جس کا توڑنا عام لوگوں کے بس کی بات نہ تھی، آپ کو اس کا علم ہوا تو کدال اپنے دست مبارک میں لے کر یکے بعد دیگرے تین ضرب لگائی، تیسری مرتبہ یہ چٹان ریزہ ریزہ ہوگئی۔ آپؐ نے فرمایا کہ پتھر پر کدال مارنے سے جو روشنی نکلی اس میں یمن اور کسریٰ کے شہروں کے محلات دکھلائے گئے اور جبرئیلؑ نے ان شہروں کے فتح ہونے کی بشارت دی ہے، اس طرح چند روز میں خندق تیار ہوگئی، مسلمان خندق کھود کر فارغ ہوئے تھے کہ ابوسفیان دس ہزار لشکر لے کر اْحد کے قریب پہنچ گیا، رسولِ اکرمؐ بھی تین ہزار مسلمانوں کے ہمراہ مقابلے کے لیے کوہ سلع کے قریب جاکر ٹھیرے اور تمام بچوں اور عورتوں کو مدینہ کے ایک قلعے میں محفوظ کردیا اور مسلمانوں کے درمیان خندق حائل تھی، جب ابو سفیان کو خندق کا علم ہوا تو بے اختیار بول اٹھا۔
’’اللہ کی قسم! یہ ایک زبردست تدبیر ہے جسے عرب نہ جانتے تھے‘‘۔
چند دنوں بعد بنونضیر کے سردار حْی بن اخطب نے بنو قریظہ کو اپنی چالبازی سے اپنے ساتھ شامل کرلیا؛ جب کہ مسلمانوں کے ساتھ ان کا معاہدہ ہوچکا تھا، جب آپؐ کو ان کی بدعہدی کا علم ہوا تو واقعے کی تصدیق کے لیے سعد بن معاذؓ اور سعد بن عبادہؓ کو بصورت وفد بھیجا اور یہ تاکید کی کہ اگر عہد شکنی کا واقعہ غلط ثابت ہو تو سب صحابہؓ کے سامنے کھل کر بیان کردینا اور صحیح ثابت ہو تو آکر گول مول بات کہنا، جب تحقیق وگفتگو کے بعد عہد شکنی کی تصدیق ہوئی تو وفد نے مبہم الفاظ میں آپؐ کو اطلاع دی، اس وقت آپؐ کی زبان سے صرف اتنا کلمہ نکلا؛ ترجمہ: ’’ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے، جو بہترین دوست اور بہترین وکیل ہے‘‘۔
تاہم معاملہ بہت سخت تھا، سامنے سے کفار اور دیگر قبائل کی بھاری فوجیں تھیں اور پیچھے سے بنو قریظہ کا خوف، اس پر منافقین کی سرگرمیاں اور تیز ہوگئیں اور انھوں نے اہل ایمان کے حوصلے پست کرنے کے لیے طرح طرح سے نفسیاتی حملے شروع کیے، اس طرح صورت حال بھیانک ہوچکی تھی۔ شدید آزمائش کا وقت تھا، تقریباً ایک مہینہ گزر گیا نہ کھل کر فیصلہ کن جنگ ہوتی اور نہ کسی وقت بے فکری، شب وروز صحابہ کرامؓ بھوکے پیاسے خندق کی نگرانی کرتے تھے، اگرچہ رسول اکرمؐ بنفسِ نفیس اس محنت ومشقت میں شریک تھے مگر صحابہ کرامؓ کے اضطراب وبے چینی کا آپؐ کو شدید احساس تھا؛ اس لیے آپؐ نے ایک دن ارادہ کیا کہ بنو غطفان کو مدینہ طیبہ کا ایک تہائی پھل دے کر ان کو میدان سے واپس کردیا جائے، مشورے کے طور پر قبیلہ اوس و خزرج کے دو بزرگ سعد بن معاذؓ اور سعد بن عبادہؓ سے اس کا ذکر کیا، تو دونوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہؐ! اگر یہ حکم الٰہی ہے تو قبول ہے ورنہ ہمیں ان سے مصالحت کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ہم ان کو تلوار کے سوا کچھ نہیں دیں گے، رسول اللہؐ نے ان کی اولوالعزمی اور غیرت ایمانی کو دیکھ کر اپنا ارادہ ترک فرمایا؛ کیونکہ یہ اللہ کا حکم نہیں بلکہ پیغمبرؐ کی ایک جنگی تدبیر تھی، ایک روز مقابل کفار نے تیر اندازی اور پتھراؤ کے ذریعے اجتماعی طور پر اتنی شدت سے حملہ کیا کہ رسولؐ اور صحابہ کرامؓ کی چار نمازیں قضا ہوگئیں، اسی دن عرب کے چند مشہور بہادر خندق عبور کرکے مسلمانوں کی طرف آگئے تھے جن میں عمرو بن عبدود اور نوفل بن عبداللہ وغیرہ شامل تھے، سیدنا علیؓ مقابلے میں نکلے اور عمرو بن عبدود کو جہنم رسید کیا، نوفل بھاگتے ہوئے خندق میں گرا، اسے بھی سیدنا علیؓ نے مار ڈالا، کفار نے نوفل کی لاش قیمت کے بدلے طلب کی؛ لیکن رسولؐ نے مفت دے دی۔ مستورات جس قلعے میں تھیں، وہاں تک ایک یہودی موقع پاکر پہنچ گیا۔ آپؐ کی پھوپھی سیدہ صفیہؓ کی نگاہ پڑی، تو خیمہ کی ایک لکڑی سے اس زور سے اس کے سر پر ضرب لگائی کہ موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ محاصرہ جس قدر طول ہوتا جاتا تھا اسلام دشمن فوجوں کی ہمت گھٹتی جارہی تھی، اسی درمیان غیبی مدد کے طور پر قبیلہ غطفان میں سے ایک شخص نعیم بن مسعود نے اسلام قبول کرلیا، پھر نبی اکرمؐ کے مشورے سے انھوں نے ایسی تدبیر کی کہ قریش اور بنو قریظہ میں پھوٹ پڑگئی اور بنو قریظہ قریش کی امداد سے دست بردار ہوگئے۔ اس طرح افواج کفار کی طاقت کمزور پڑ گئی، دوسری مصیبت یہ آئی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سخت اور سرد ہوا ان پر مسلط کردی جس نے ان کے خیمے اکھاڑ پھینکے، ہنڈیاں چولہوں سے الٹ دی، غبار اْڑ اْڑ کر آنکھوں میں بھرنے لگا، جس سے کفار کا تمام لشکر سراسیمہ ہوگیا۔ اس غیبی مدد کا ذکر قر آنِ کریم نے اس طرح بیان کیا ہے۔ ترجمہ: ’’جب لشکر تم پر چڑھ آ ئے تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اس وقت کر رہے تھے‘‘۔ (الاحزاب: 9)
سیدنا حذیفہؓ جن کو آپؐ نے کفار کے لشکر کا پتا لگانے بھیجا تھا، ان کا بیان ہے کہ آندھی اور طوفان کے بعد ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اب یہ ٹھیرنے کا مقام نہیں ہے، ہمارے جانور ہلاک ہوگئے، چلنا پھرنا، اٹھنا، بیٹھنا مشکل ہوگیا ہے، بنوقریظہ نے بھی ہمارا ساتھ چھوڑ دیا؛ اس لیے اب گھر واپس چلو! یہ کہہ کر ابوسفیان اونٹ پر سوار ہوا اور چل دیا، دیگر تمام فوجیں بھی واپس ہوگئیں، اس طرح مسلمانوں کو طویل مشقت کے بعد فتح حاصل ہوئی۔ رسول اکرمؐ کو جب کفار کے جانے کی اطلاع ملی تو فرمایا:
’’اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے، وہ ہم پر چڑھائی نہیں کرسکیں گے ہم ہی ان پر حملے کے لیے چلیں گے‘‘۔
چنانچہ بعد میں ایسا ہی ہوا یعنی کفر میں اتنی طاقت نہیں رہی کہ وہ مسلمانوں پر حملے کے لیے اقدام کرسکے۔ اس کے بعد رسولِ اکرمؐ صحابہ کرا مؓ کے ساتھ حمد وثنا بیان کرتے ہوئے مدینہ واپس ہوگئے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ