موت، ایک تلخ حقیقت

69

سید منور حسن

موت جس چیز کا نام ہے، اور جس سے ہم بہت اچھی طرح واقف ہیں، یہ بڑی ہولناک چیز ہے۔ موت کے بعد کے جو واقعات قرآن اور حدیث میں ملتے ہیں، وہ تو اور بھی زیادہ ہولناک ہیں۔ ان کے تذکرے سے بھی آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے اور اعمال کے اندر تضاد، تناقض اور منافقت و ریاکاری دْور کرنے کا جذبہ انسان کے اندر پروان چڑھتا ہے۔ موت سے زیادہ یقینی چیز کوئی بھی نہیں۔ یہ بڑی ہی تلخ حقیقت ہے اور اس کڑوے گھونٹ کو پیے بغیر گزارہ بھی نہیں ہے۔ اس سے انسانوں کو مَفر نہیں ہے۔
سیدنا عثمانؓ قبر کو دیکھتے تھے تو آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی تھی، اور پوچھنے پر فرمایا کرتے کہ قبر، آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، لہٰذا اس کو دیکھتا ہوں تو یہ کیفیت طاری ہوجاتی ہے کہ جس کے لیے یہ منزل آسان ہوئی، اس کے لیے ساری منزلیں آسان ہوئیں۔
سیدنا سعد بن معاذؓ مشہور صحابی ہیں۔ ان کا انتقال ہوا تو نبی کریمؐ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپؐ ہی کے ہاتھوں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ جب قبر تیار ہوئی اور آپؐ اس کے سرھانے کھڑے تھے تو صحابہ کرامؓ نے سنا کہ آپؐ کی زبان سے نکلا: اللہ اکبر، اور قدرے توقف کے بعد آپؐ نے فرمایا: سبحان اللہ۔ صحابہ کرامؓ نے منظر کو دیکھا تو نبی کریمؐ سے دریافت کیا کہ یارسول اللہؐ! ہم کچھ سمجھ نہ سکے۔ آپ کی زبان سے پہلے اللہ اکبر کا کلمہ بلند ہوا اور پھر کچھ وقفے کے بعد سبحان اللہ جاری ہوا، یہ کیا ماجرا ہے؟ کوئی واقعہ ہماری نظر میں نہیں آیا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کے اس برگزیدہ بندے پر جب قبر تنگ ہوگئی تو میری زبان سے نکلا: اللہ اکبر اور قبر کشادہ ہوگئی۔ پھر میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور میری زبان سے نکلا: سبحان اللہ۔
سیدنا سعد بن معاذؓ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں۔ نبی کریمؐ آپ کی نمازِ جنازہ پڑھا رہے ہیں۔ آپؐ ہی کے مبارک ہاتھوں ان کی تدفین عمل میں آرہی ہے۔ لیکن ان تمام چیزوں سے قطع نظر اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی کریمؐ کے ذریعے سے ہمیں یہ تعلیم دے رہا ہے کہ قبر کی پکڑ کسے کہتے ہیں، قبر کا سکڑ جانا اور اس کے نتیجے میں انسانوں کا بھینچا جانا کسے کہتے ہیں، اور قبر کی حقیقت کیا ہے!
حقیقت یہ ہے کہ اس نوعیت کے اَن گنت واقعات ہیں جو صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے ملتے ہیں کہ وہ کس فکر کے اندر غلطاں و پیچاں رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیق اکبرؓ کہتے کہ کاش! میں تنکا ہوتا۔ اس کا کوئی حساب کتاب تو نہیں ہوتا، اور اس کی کوئی پوچھ گچھ تو نہیں ہوتی۔ سیدنا عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ کاش! کوئی ایسی صورت نکل آئے کہ میں چھوٹ جاؤں۔
آخرت کا بہت گہرا تعلق فکرِ دنیا سے ہے۔ ان دونوں کے درمیان توازن اور اعتدال ہی انسان کو راہِ راست پر رکھتا ہے۔ اگر انسان فکرِ دنیا کے اندر دْور تک چلا جائے تو فکرِ آخرت اس سے گم ہوجاتی ہے۔ اس لیے فکرِ آخرت کی دولت پانے کے لیے خود دنیا کا تصور واضح اور دوٹوک ہونا چاہیے۔
نبی کریمؐ صحابہ کی جماعت کے ساتھ چل رہے تھے کہ کوڑے کے ڈھیر پر بکری کا مرا ہوا بچہ پڑا تھا۔ آپؐ نے صحابہ کی طرف رْخ کر کے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بکری کے اس بچے کو ایک درہم میں لینا پسند کرے گا؟ صحابہ کرامؓ قدرے حیران ہوئے اور عرض کیا: یارسول اللہؐ! یہ تو بکری کا مرا ہوا بچہ ہے، ہم میں سے تو کوئی اس کو مفت میں لینا بھی گوارا نہیں کرے گا۔
ذرا دیکھیے کہ کس طرح آپؐ تعلیم دیتے ہیں، کیسے ذہنوں کو آمادہ کرتے اور لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں۔ پھر آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حیثیت اس بکری کے مرے ہوئے بچے سے بھی کم تر ہے۔ مراد یہ ہے کہ جس دنیا کی فکر میں ہم دن رات لگے رہتے ہیں، تگ و دو کرتے ہیں اور اسی کے غم میں نڈھال ہوتے، جوانی کے اندر بوڑھے نظر آنے لگتے ہیں، اس دنیا کی یہ حیثیت ہے جو آپؐ بتا رہے ہیں۔
آپؐ نے فرمایا: دریا کے اندر انگلی ڈالو اور باہر نکالو تو جو پانی اس انگلی کے اْوپر لگا رہ جائے گا، وہ دنیا کی زندگی ہے، اور جو ٹھاٹھیں مارتا ہوا پانی باقی رہے گا، وہ آخرت کی زندگی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ