قادیانیوں کی حکومتی سرپرستی برداشت نہیں کریں گے،سراج الحق

298
بونیر: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں
بونیر: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اجتماع ارکان سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہاہے کہ حکومت کی طرف سے قادیانیوں کی سرپرستی کوعوام برداشت کرنے کو تیار نہیں،قادیانی پاکستانی آئین کے باغی ہیں وہ آئین کی اس حیثیت کوتسلیم نہیں کرتے جس میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیاہے،حکومت کی طرف سے اپنی معاشی ٹیم میں معروف قادیانی مبلغ عاطف میاں کو شامل کرنے سے عوام کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے،حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے آتے ہی چیزوں کی قیمتیں بڑھانا شروع کردی ہیں ،حکومت بجلی گیس اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے کرپرانی قیمتیں بحال کرے اور اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے عوام کو مہنگائی اور غربت سے بچانے کی کوشش کرے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بونیر میں اجتماع ارکان سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی خیبر پختونخوا عبدالواسع بھی موجود تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے آتے ہی گیس کی قیمتوں میں 46 فیصد اور بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ 2 روپے اضافہ کردیاہے ۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے ۔ یوریا کی بوری کی قیمت میں 800 روپے اضافہ کر کے حکومت نے کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں جس سے زراعت ترقی کے بجائے مزید تنزلی کی طرف جائے گی ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت نے عوام سے کرپشن ، مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنے کے وعدے کیے تھے ، لیکن گیس اور بجلی کی قیمتوں میں موجودہ اضافے نے عام آدمی کی پریشانیوں میں بے انتہا اضافہ کر دیا ہے ۔ ہم حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیں اور حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اس فیصلے کو واپس لے کر عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ نہیں ڈالے گی ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے اپنی معاشی ٹیم میں معروف قادیانی مبلغ عاطف میاں کو شامل کرنے سے عوام کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ قادیانی پاکستانی آئین کے باغی ہیں وہ آئین کی اس حیثیت کوتسلیم نہیں کرتے جس میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیاہے ۔ قادیانی خود کو مسلمان اور مسلمانوں کو لادین سمجھتے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے قادیانیوں کی سرپرستی کوعوام برداشت کرنے کو تیار نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم اقلیتوں کے آئینی حقوق کو مکمل تحفظ دینے کی بات کرتے ہیں لیکن قادیانی خود کو اقلیت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ ہمارا آئین اجازت دیتاہے کہ غیر مسلم سرکاری عہدوں پر فائز ہوسکتے ہیں مگر ان کو جو خود کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہوں ۔ جو لوگ سرے سے آئین کو ہی تسلیم نہیں کرتے ، انہیں اعلیٰ عہدے اور منصب کیسے دیے جاسکتے ہیں ۔ سراج الحق نے کہاکہ ملک میں عالمی شہرت یافتہ مسلم ماہرین معیشت کی کمی نہیں ، ترقی یافتہ ممالک ان کی قابلیت اور صلاحیتوں سے استفادہ کر رہے ہیں۔ حکومت کو قادیانیوں کے بجائے نامور مسلم معاشی ماہرین سے استفادہ کرنا چاہیے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قادیانی مبلغ عاطف میاں کو فوری طور پر معاشی ایڈوائزری کونسل سے فارغ کیا جائے اور اس حوالے سے عوام کو اطمینان دلا کر حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ