پاکستان اب کسی کی جنگ نہیں لڑے گا،عمران خان 

284
راولپنڈی: وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف یوم دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب میں سلامی لے رہے ہیں
راولپنڈی: وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف یوم دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب میں سلامی لے رہے ہیں

راولپنڈی ( نمائندہ جسارت) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ پاکستان اب کسی کی جنگ نہیں لڑے گا ۔ ان کے بقول ملکی خارجہ پالیسی بھی صرف عوام کی بہتری کے لیے ہوگی۔جی ایچ کیو میں یوم دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں ، ہم سب اکٹھے ہیں اورہمارا جینا مرنا ایک ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اللہ نے پاکستان کو سب کچھ دیا ہے، جنگ و بمباری کسی ملک کو تباہ نہیں کرتی بلکہ جس ملک کے ادارے تباہ ہوتے ہیں وہ ملک تباہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے ادارے مضبوط کرنے ہیں، سیاسی مداخلت سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں، ملک میں صرف فوج کا ادارہ مضبوط اورصحیح کام کررہا ہے، اس میں میرٹ کا نظامہے اور کوئی سیاسی مداخلت نہیں،اگر کرکٹ نہ کھیلتا تو آج ایک ریٹائرڈ فوجی ہوتا، اب باقی کمزور اداروں کو بھی مضبوط بنائیں گے۔ عمران خان کے بقول 6ستمبر 1965ء کو میں 12 سال کا تھا،قوم میں وہ جذبہ پھر کبھی نہیں دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے بڑے مسائل پانی وبجلی کے ساتھ ساتھ قرضوں کے بھی ہیں، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے لیکن یہ ملک اٹھے گا، ہم ایک قوم بنیں گے اور ایسا تب ہوگا جب کمزور طبقہ اور پسے ہوئے لوگوں کو برابری کے حقوق ملیں گے۔عمران خان نے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ رب العزت نے انبیاء کے بعد سب سے زیادہ درجہ شہیدوں کو دیا ہے۔ وزیراعظم نے آرمی چیف کے ہمراہ یاد گار شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔قبل ازیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنگ ابھی جاری ہے‘ ہم سرحد پر بہنے والے لہوکا حساب لیں گے۔انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے شہدا کو کبھی نہیں بھولتیں اور جو قومیں اپنے شہدا کو بھول جاتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں،شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، پاکستان کو امن کا گہوارہ بنائیں گے ،دفاع پاکستان کے لیے ہم سب یکجان ہیں، 1965ء کی جنگ میں تمام پاکستانیوں نے اپنا کردار ادا کیا اور فوجی جوان آگ میں کود پڑے لیکن ملک پر آنچ نہ آنے دی۔جنرل باجوہ نے کہا کہ ہم نے 1965ء اور 1971 ء کی جنگ سے بہت کچھ سیکھا ہے جس کی وجہ سے ہم آج ایٹمی قوت بھی ہیں۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہمارے دوسرے دشمن بھوک ،افلاس اور غربت ہیں جس کے خلاف جنگ کو بھی ہمیں جاری رکھنا ہے۔ آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ ’کوئی فرد ادارے سے اور ادارے قوم سے مقدم نہیں ہیں،ملکی ترقی کے لیے جمہوریت کا تسلسل بہت ضروری ہے اور جمہوریت اداروں کی مضبوطی کے بغیر نہیں پنپ سکتی، آج ہم اس مقام پر موجود ہیں کہ جمہوریت میں ہر مکتبہ فکر کے نمائندے موجود ہیں۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔اپنی تقریر کے آخر میں انہوں نے پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائندہ باد کا نعرہ لگایا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ