بصرہ میں کرفیو،پولیس کے ہاتھوں 7 مظاہرین ہلاک 

58
بصرہ: سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شہری کے جنازے میں بھی تشدد جاری ہے
بصرہ: سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شہری کے جنازے میں بھی تشدد جاری ہے

بغداد (انٹرنیشنل ڈیسک) عراق کے جنوبی شہر بصرہ میں سیکورٹی فورسز نے سیکڑوں احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک اور کم سے کم 27 زخمی ہوگئے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق سیکورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اندھادھند فائرنگ کی اور آنسو گیس کے گولے بھی پھینکے اور مظاہرین سے جھڑپوں میں 22 سیکورٹی اہل کار زخمی ہوئے۔ان میں بعض دستی بم کے دھماکے میں زخمی ہوئے۔ بصرہ میں تشدد کے ان واقعات کے بعد حکومت نے کرفیو نافذ کردیا ہے۔بصرہ کے 2 مکینوں نے بتایا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے پیر کے روز روزگار اور بہتر شہری خدمات مہیا کرنے کے حق میں مظاہرہ کرنے والے افراد پر فائرنگ کی تھی، جس سے ایک 26 سالہ نوجوان ہلاک ہوگیا تھا۔پھر منگل کے روز صوبائی حکومت کے دفاتر کے سامنے اس مقتول کی نمازِ جنازہ ادا کی جارہی تھی کہ اس دوران میں بعض مظاہرین نے سیکورٹی فورسز کی جانب پتھراؤ شروع کردیا۔اس کے جواب میں سیکورٹی اہل کاروں نے پہلے آنسو گیس کے گولے پھینکے اور پھر فائرنگ شروع کردی، جس سے 7 مظاہرین مارے گئے۔ سوشل میڈیا پر ایک وڈیو بھی پوسٹ کی گئی، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین نے پہلے ایک سرکاری عمارت کا محاصرہ کیا ہے اور پھر اس کو آگ لگا دی۔عراق کے جنوبی شہروں میں جولائی سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ان کے علاوہ وسطی صوبوں میں بھی ہزاروں عراقی شہری بنیادی خدمات کی عدم دستیابی یا ان کے پست معیار پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ