فلسطین میں بہبور کیلیے 400 مکانات کا نیا منصوبہ

27
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی فوج بیت حنینا قصبے میں بدھ کے روز فلسطینیوں کے مکان مسمار کرنے کے دوران مزاحمت کرنے والے گھرانوں پر تشدد کررہی ہے 
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی فوج بیت حنینا قصبے میں بدھ کے روز فلسطینیوں کے مکان مسمار کرنے کے دوران مزاحمت کرنے والے گھرانوں پر تشدد کررہی ہے 

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) قابض صہیونی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں ولجہ کے مقام پر یہودی آباد کاری کے ایک بڑے منصوبے کی تیاری شروع کردی ۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی ضلعی پلاننگ وکنسٹرکشن کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ولجہ کے مقام پر 4700 نئے مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔خیال رہے کہ ولجہ فلسطینی قصبے کو اسرائیل نے 1948ء کی جنگ میں قبضے میں لینے کے بعد وہاں سے فلسطینیوں کو بے دخل کردیا تھا۔مقامی فلسطینی سماجی کارکن ابراہیم عوض اللہ نے بتایا کہ صہیونی حکومت نے ولجہ کے تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے حامل رقبے پر آباد کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ ولجہ کے جس علاقے میں یہود کے لیے مکانات تعمیر کیے جا رہے ہیں، وہاں میٹھے پانی کے چشمے اور آبی ذخائر موجود ہیں۔وفا نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے عوض اللہ نے کہا کہ یہودی آباد کاری کے لیے ولجہ کے 841 ایکڑ رقبے پر قبضہ کیا گیا ہے۔ یہود کے لیے ہزاروں رہایشی فلیٹس کی تعمیر کے ساتھ تجارتی مراکز، ہوٹل اور دیگر املاک تعمیر کی جائیں گی۔فلسطینی کارکن کاکہنا تھا کہ یہودی آباد کاری کے لیے جس زمین کا انتخاب کیا گیا ہے، وہاں پر پانی کے 23 چشمے ہیں۔ یہ اراضی فلسطینی شہریوں کی ملکیت ہے اور ان کے پاس اس کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کے لیے 3700 مکانات کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔ یہ مکانات ’ہارگیلو‘ یہودی کالونی اور دیگر کالونیوں میں تعمیر کیے جانا تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ