یوم دفاع پاکستان، قومی فریضہ!

252

بھارت کے حکمرانوں نے پاکستان کو دل سے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ 1965ء میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا۔ بھارتی حکمرانوں کا خیال تھا کہ ہم بڑی قوت ہیں اور پاکستان ہمارے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ اس زمانے میں انڈیا اور پاکستان میں سے کوئی بھی ایٹمی قوت نہیں تھا۔ انڈیا نے روایتی اور جدید اسلحہ جمع کر رکھا تھا۔ آج کل بھی اسی طرح انڈیا ہر روز ہماری سرحدوں اور لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کرتا ہے اور بہت سے بے گناہ شہری جامِ شہادت نوش کر جاتے ہیں۔ بھارت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے قومی اتحاد، ملی یکجہتی، عوام، حکمرانوں اور مسلح افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور اتفاق ہونا چاہیے۔ ہماری مسلح افواج اللہ کے فضل سے بھارت کے مقابلے میں کسی صورت کمزور نہیں ہیں۔ حکمرانوں کو دفاع وطن کی فول پروف تیاریوں کے ساتھ ساتھ بھارتی اشتعال انگیزی اور دہشت گردی کا ہر عالمی و سفارتی فورم پر بھانڈا پھوڑنا چاہیے۔
بھارت نے ہم پر 65ء کی جنگ مسلط کی تو اس کے جواب میں صدر محمد ایوب خان نے قوم سے اپنے خطاب میں کلمہ طیبہ پڑھ کر جہاد کا اعلان کیا تھا۔ ان کا وہ خطاب بہت اہم اور تاریخی تھا۔ اللہ کے نام سے انہوں نے اپنی افواج اور قوم کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے بھارت کو للکارا تھا۔ ہماری مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں نے ہر میدان میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے ناکوں چنے چبوا دیے۔ کھیم کرن، لاہور اور چونڈا کے محاذوں پر جو تاریخی قربانیاں دی گئیں، وہ آج بھی یادگار ہیں۔ ان شہداء کے کارناموں کو ہر پاکستانی فخر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ بھارت کا بنیّا ہمیشہ قوت کے سامنے ڈھیر ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ جو بھی نرم رویہ اختیار کرے وہ اس پر چڑھ دوڑتا ہے۔
65ء کی جنگ کے دوران وطن عزیز میں ایسی فضا بن گئی تھی کہ جہادی ترانوں سے پوری قوم جھوم اٹھی تھی۔ جہاں سے پاک فوج کی کوئی گاڑی گزرتی تو مزدور، کسان، تجار و طلبہ سب ’’پاک فوج زندہ باد‘‘ اور ’’الجہاد، الجہاد‘‘ کے نعرے لگاتے۔ چونڈا میں بھارتی ٹینکوں کو جس انداز میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی قیمتی جانوں کی قربانیاں دے کر روکا تھا، اس پر پوری دنیا ان غازیوں اور شہداء کے کردار سے متاثر ہوئی تھی۔ یہ اسلام اور ایمان کی برکت ہے۔ پاک فوج کا شعار ’’ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ‘‘ اس قدر ایمان افروز ہے کہ اس کی بازگشت جہاں بھی سنائی دے، یا اس کی تحریر جہاں بھی لکھی ہوئی نظر آئے، ہر ایک مخلص مسلمان دل و جان سے اس کی تائید کرتا ہے۔ مسلمان کسی پر ظلم نہیں ڈھاتا، مگر ظالم کے سامنے سرنگوں بھی نہیں ہوتا۔
65ء کی جنگ کے دوران صدر ایوب خان نے تمام سیاسی و دینی جماعتوں کو اعتماد میں لیا۔ بانیٔ جماعت اسلامی پاکستان سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے درخواست کی کہ وہ ریڈیو پاکستان سے جہاد کے موضوع پر عوام اور مسلح افواج کے جوانوں اور افسروں سے خطاب فرمائیں۔ اگرچہ ایوب حکومت نے اقتدار میں آکر 6؍ جنوری 1964ء کو جماعت اسلامی پر پابندی لگائی تھی اور مولانا مودودیؒ اور جماعت کی مرکزی شوریٰ کے تمام ارکان کو جیلوں میں ڈال دیا تھا۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں جماعت اسلامی نے حکومتی فیصلے کے خلاف رٹ دائر کی جس پر عدالتوں نے فیصلے دیے۔ ان کے مطابق جماعت کی بحالی اور مولانا اور ان کے ساتھیوں کو رہائی 9؍اکتوبر 1964ء میں عمل میں آئی۔ اس کے باوجود یہ ملی و دینی غیرت کا تقاضا تھا کہ ایک عظیم مقصد کے لیے تمام تلخیاں فراموش کر دی جائیں۔ سید مودودیؒ نے صدر ایوب کی درخواست پر مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ اس ملی مسئلے پر آپ نے ریڈیو پاکستان سے جہاد کے موضوع پر تین تقاریر قوم کے سامنے 16,14 اور 18؍ ستمبر 1965ء کو پیش کیں۔ اس اہم موقع پر سید مودودیؒ اور ان کی جماعت، تمام ارکان و کارکنان دفاعِ وطن کے محاذ پر سب سے پیش پیش تھے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ 65ء کی جنگ میں ہم نے میدان جنگ میں جو کچھ حاصل کیا، بد قسمتی سے اسے معاہدۂ تاشقند کی صورت میں برباد کر دیا گیا۔ اس وقت کا بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری خوشی سے اس قدر پھولا کہ کئی تجزیہ نگاروں نے کہا اسی کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ اسی کو کہتے ہیں ’’شادی مرگ‘‘۔
آج پھر بھارت میں بدترین قسم کا اسلام دشمن اور انسانیت کش ہندو نریندرا مودی وزیراعظم ہے۔ اس کی پوری تاریخ خونخواری پر مبنی ہے۔ یہ ایک بار پھر پاکستان کو اشتعال دلا کر جنگ میں جھونکنا چاہتا ہے۔ اسے سب سے زیادہ جرأت اس بات سے ملتی ہے کہ پاکستان کے اندر حالات کی کشیدگی، بدامنی اور دہشت گردی کی وجہ سے پاک فوج داخلی مسائل و معاملات میں مصروف ہوگئی ہے۔ بھارت کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ قوم کے اندر ہزار اختلافی موضوعات ہوں، اگر دشمن نے جنگ چھیڑی تو ساری قوم اسی جذبے سے میدان میں نکلے گی جو 65ء میں پوری دنیا نے دیکھا تھا۔ بھارت پاک چائنا اقتصادی راہ داری کو ناکام بنانے کے لیے ہماری سرحدوں پر یہ ساری خباثتیں اور شرارتیں کر رہا ہے۔ کئی بار ملک کے مختلف مقامات سے ’’را‘‘ کے ایجنٹ پکڑے گئے ہیں جن کا مقصد اقتصادی راہ داری منصوبے کو تباہ کرنا تھا۔ کلبھوشن یادو پر کیس ثابت ہوچکا ہے، مگر ابھی تک عالمی عدالت نے اسے لٹکا رکھا ہے۔ یہ بھی دنیا کا امن تباہ کرنے کی سازشیں ہیں۔
ایسے حالات میں جب کہ ایک نئی حکومت وجود میں آچکی ہے، ساری قوم کو ایک بار پھر یک جہتی کی ضرورت ہے، افسوس ہے کہ آج بھی سیاستدان انتشار کا شکار ہیں، حکمران خودسری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اپوزیشن بھی سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ دوسری طرف ہمارا میڈیا رنگ رلیوں میں مگن ہے جبکہ 65ء کی جنگ میں جہاں سیاسی جماعتوں کے درمیان مکمل یک جہتی پیدا ہوئی، عوام الناس ملکی دفاع کے لیے ہر خدمت سرانجام دے رہے تھے، وہیں پاکستانی میڈیا بھی مکمل طور پر جہاد کے رنگ میں رنگ گیا تھا۔ میدان جنگ میں اپنی جانیں قربان کرنے والے افسران اور جوان اس فضا سے بہت مطمئن تھے اور ان کے حوصلے کسی محاذ پر پست نہ ہوئے۔ ہر فوجی کو یقین تھا کہ ساری قوم کی حمایت اور دعائیں اس کے ساتھ ہیں۔ آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا تفریحی بلکہ لچر اور فحش پروگراموں سے اجتناب کرے اور ملکی دفاع اور سالمیت کے لیے فضا بنائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ