پاکستان نے تعاون نہ کیا تو وہ ہوگا جو بتاچکے،پومپیو

393
اسلام آباد،وزیر اعظم عمران خان سے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی زیر قیادت امریکی وفد ملاقات کررہا ہے،آرمی چیف ودیگر بھی موجود ہیں
اسلام آباد،وزیر اعظم عمران خان سے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی زیر قیادت امریکی وفد ملاقات کررہا ہے،آرمی چیف ودیگر بھی موجود ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت+مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ پاکستان نے تعاون نہ کیا تو وہ ہوگا جو بتاچکے ہیں۔ ان کے بقول توقع ہے کہ پاکستان ماضی کو چھوڑ کر نئی پیش رفت کا آغاز کرے گا۔پاکستانی وزیراعظم عمران خان ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کے بعد نورخان ائربیس پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم نے پاکستان پر واضح کر دیا ہے اور انہوں اس بات سے اتفاق
کیا ہے کہ اب دونوں ملکوں کی طرف سے کی جانے والی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کا وقت آ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کے بعد کئی سمجھوتوں پر اتفاق کیا گیاتاہم ان سمجھوتوں پر خاطر خواہ عمل شروع نہیں ہو سکا۔ اس سلسلے میں پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں میں اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ طے کیے گئے سمجھوتوں پر عملدرآمد کیا جائے گاتاکہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی اور اعتباریت کو فروغ دیا جاسکے۔امریکی وزیرخارجہ نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے بنیادی محرکات کا تعین کرلیا گیا ہے۔ بعد ازاں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ مائیک پومپیو نے پاکستانی سیاسی وعسکری قیادت پر زور دیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف مستقل اور فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا پرامن حل نکالنا ہوگا کیوں کہ یہ پاکستان اور امریکا کے لیے بھی اہم ہے۔پاکستانی قیادت سے ملاقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ 5گھنٹے کا مختصر دورہ کرکے 17 رکنی وفد کے ہمراہ نور خان ائر بیس سے بھارت روانہ ہوگئے۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کا طیارہ نور خان ائر بیس پہنچا تو دفتر خارجہ کے حکام نے ان کا استقبال کیا جب کہ امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ الگ طیارے میں اسلام آباد پہنچے۔امریکی وفد کی روانگی کے بعدپریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی جانب سے کوئی ڈومور کا مطالبہ نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ پاک امریکا تعلقات میں سرد مہری تھی لیکن آج ملاقات میں ماحول بدلا ہوا تھا اور مذاکرات میں پاکستان نے حقیقت پسندانہ موقف پیش کیا جب کہ پاک امریکا تعلقات میں تعطل ٹوٹ گیا،کافی عرصے بعد امریکی عہدیدار نے پاکستان کا دورہ کیا ہے، امریکی وزیر خارجہ نے واشنگٹن آنے کی دعوت دی ہے جسے قبول کرلیا ہے اور جب اقوام متحدہ کے اجلاس میں جاؤں گا توامریکی وزیرخارجہ سے ملاقات کروں گا۔ شاہ محمود قریشی کے بقول امریکا کوکہا کہ بلیم گیم سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، امریکا سے کئی معاملات پرسوچ مختلف ہوگی مگر بعض مشترکہ مقاصد ہیں تاہم پاکستان کا مفاد سب کوعزیز اورمقدم ہے اور پاکستان کی قربانیوں سے کوئی غافل نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے پاکستان افغانستان سے متعلق بات چیت آگے بڑھانے میں مدد دے ،میرا پہلا غیر ملکی دورہ بھی افغانستان کا ہوگا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ آج عندیہ ملا ہے امریکا افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے ذہنی طورپر تیارہے، طالبان کے ساتھ مذاکرات میں امریکی محکمہ خارجہ لیڈ کرے گا۔دوسری جانب سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے امریکا کا ڈو مور کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے اس پر واضح کردیا ہے کہ اس کا ہر مطالبہ پورا نہیں کیا جاسکتا۔سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے امداد کی بحالی کے لیے ایک مرتبہ پھر ڈومور کا مطالبہ کیا تاہم پاکستان نے اسے مسترد کردیا۔ پاکستان نے مائیک پومپیو پر زور دیا کہ پاک امریکا تعلقات میں مشترکہ مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ پاک امریکا تعلقات میں باہمی مفادات کو دیکھنا ہو گا، پاکستان صرف امریکی مفادات کے لیے نہیں جھکے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ