گوگل 20برس کا ہو گیا

163

اسٹینفورڈ کے چند کمروں میں بنائی گئی کمپنی گوگل، انٹرنیٹ کی دنیا میں کامیابی کی علامت ہے۔ گوگل اب 20 برس کا ہو چکا ہے، مگر ایک طرف مقابلہ، اشتہارات سے آمدن اور پرائیوسی جیسی چیلنجز اس کے سامنے ہیں۔
لیری پیج، یونیورسٹی آف مشی گن میں پڑھتے تھے، وہ اسٹینفورڈ جیسی معتبر جامعہ میں داخلہ لینے کے لیےجب اس یونیورسٹی میں پہنچے تو انہیں کمپیوٹر سائنس کے ایک طالب علم سیرگئی برِین نے جامعہ کے مختلف شعبے دکھائے۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے اتنے مختلف افراد تھے کہ ہر بات میں ایک دوسرے کی مخالفت کر رہے تھے اور بحث ہو رہی تھی۔ تاہم صرف ایک برس بعد یہ دونوں مل کر کام کر رہے تھے اور ایک انٹرنیٹ سرچ انجن بنا رہے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے ورلڈ وائڈ ویب کے لیے بیک رُب بنایا، جو تلاش کرنے پر انٹرنیٹ پر موجود دستاویزات ڈھونڈ نکالتا تھا۔
اس سرچ انجن کو جلد ہی گوگل کا نام دے دیا گیا۔ گوگل اعداد کی ایسی اصطلاح ہے، جو ایک کے ساتھ سو زیرو لگانے سے وجود میں آتی ہے۔ گوگل کو جلد ہی امریکا کی سیلیکون ویلی کے سرمایہ کاروں کی توجہ مل گئی۔ ان میں سن مائیکرو سِسٹمز کے شریک جرمن بانی اینڈی پیشٹولزہائم بھی تھے، جنہوں نے اگست 1998ء میں گوگل میں ایک لاکھ ڈالر سرمایہ کاری کی۔ اس طرح گوگل انکارپوریشن کمپنی وجود میں آئی۔ اس کے ساتھ ہی پیج اور بِرن چھوٹے سے کمرے سے ایک گیراج میں منتقل ہوئے، جسے گوگل کا پہلا دفتر کہا جاتا ہے۔ یہ گیراج سوزان وجکیکی کا تھا، جو اب گوگل کے ادارے یوٹیوب کی موجودہ چیف ایگزیکٹو ہیں۔
اس انجن کے ذریعے اربوں سرچز کی گئیں اور گوگل کو بعد میں ایلفابیٹ کمپنی کا ایک یونٹ بنا دیا گیا۔ یہ کمپنی مرکزی سرچ اور اشتہاری کاروبار کو دیگر کاروباروں سے الگ کرتی ہے۔ اسے انٹرنیٹ کی تاریخ کی کامیاب ترین کمپنیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔
اس کمپنی نے گزشتہ 20 برس میں جو سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے، وہ ’مونیٹائزیشن سرچ‘ ہے۔ گلوبل ڈیٹا ماہر ایوی گرین گارٹ کے مطابق اس کمپنی نے انٹرنیٹ سرچز کو الیگوریتھمز کے ذریعے اشتہاری کاروباری میں تبدیل کر دیا اور اب بھی اس کمپنی کو ہونے والی آمدنی کا سب سے بڑا حصہ اسی طریقے سے حاصل ہوتا ہے۔
سرچ ایڈورٹائنزنگ کے عالمی انٹرنیٹ کاروبار سے حاصل ہونے والے سرمایے کا 70فیصد گوگل کے پاس جاتا ہے اور اس کاروبارہ سے گوگل کو ہونے والی آمدنی اس کی مجموعی آمدنی کا قریب 90فیصد ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ