امریکا سے زیادہ سپر کمپیوٹر چین میں

77

دنیا کے تیز ترین 500 سپر کمپیوٹرز کی فہرست میں سب سے زیادہ سپر کمپیوٹرز والے ملک کے حوالے سے چین نے امریکا سے سبقت لے لی ہے۔ ایک سروے کے مطابق دنیا کے تیز ترین 500 سپر کمپیوٹرز میں سے 202 چین میں موجود ہیں۔
اس کے مقابلے میں امریکا میں 143 سپر کمپیوٹرز ہیں اور اس کے پاس دوسری پوزیشن ہے۔ 35 سپر کمپیوٹرز کے ساتھ جاپان تیسرے جبکہ 20 سپر کمپیوٹرز کے ساتھ جرمنی چوتھے نمبر پر تھا۔
25 سال قبل اس فہرست کا آغاز کیا گیا تھا اور ہر دو سال بعد اس کے تازہ اعداد و شمار شائع کیے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ فہرست میں امریکا کے پاس 169 جبکہ چین کے پاس 160 سپر کمپیوٹرز تھے۔
رپورٹ کے مطابق چین کی برتری کی وجہ چین کی جانب سے تحقیق میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہے اور اس وقت دنیا بھر میں تحقیق کے اخراجات کا 20 فیصد چین میں خرچہ جاتا ہے۔
سپر کمپیوٹرز بہت بڑے اور مہنگے سسٹمز ہوتے ہیں جن میں ہزاروں پراسیسرز کو مخصوص انداز میں اکھٹا کیا گیا ہوتا ہے اور ان سے انتہائی مخصوص کیلکیولیشنز کروائی جاتی ہیں۔
سپر کمپیوٹرز سے لیے جانے والے کاموں کی چند مثالوں میں موسمیاتی تبدیلی کے جائزے، جوہری ہتھیاروں کی سیمیولیشنز، تیل کے ذخائر کی کھوج، موسم کی حال کی پیشگوئیاں، ڈی این اے سیکونسنگ وغیرہ شامل ہیں۔
سپر کمپیوٹرز کی تیزی ’پیٹا فلاپ‘ میں گنی جاتی ہے۔ ایک فلاپ کو آپ کیلکیولیشنز میں ایک آپریشن یا قدم کے طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ ایک پیٹا فلاپ کا مطلب ایک سکینڈ میں ایک ہزار کھرب آپریشنز ہوتا ہے۔
دنیا کا تیز ترین سپر کمپیوٹر چین کا سنوے ٹائی ہو لائٹ ہے جو کہ 93 پیٹا فلاپس تک کام کر سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں امریکا کا تیز ترین کمپیوٹر ٹائیٹن ہے جو کہ 17.6 پیٹا فلاپس تک جا سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ