صدر مملکت کے انتخاب کے لیے پولنگ

117

ملک کے 13ویں صدر کے انتخاب کے لیے سینیٹ اور قومی و چاروں صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ جاری ہے۔

صدارتی انتخاب کے لیے سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بیک وقت پولنگ ہورہی ہے، صدارتی انتخاب کے لیے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا ریٹرنگ آفیسر جب کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور سینیٹ و قومی اسمبلی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پریزائیڈنگ آفیسر کی ذمہ داری سر انجام دے رہے ہیں۔ پولنگ کا عمل صؓھ 10 بجے شروع ہوا اور شام 4 بجے تک بلا تعطل جاری رہے گا۔ تحریک انصاف نے عارف علوی، پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن جب کہ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کو میدان میں اتارا ہے۔

صدارتی انتخاب کا طریقہ کار

آئین کے تحت صدر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوتا ہے، اس کے لیے مجموعی طور پر 1500 بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں، سفید رنگ کے بیلٹ پیپرز واٹر مارکڈ ہیں، جن پر 3 امیدواروں کے ناموں کے سامنے خالی خانہ چھاپہ گیا ہے۔

پولنگ کا طریقہ

صدر مملکت کے انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے، سینیٹ ، قومی اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ووٹ شمار ہوگا جب کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے ووٹ بلوچستان اسمبلی کے برابر شمار ہوں گے۔ صدر کا الیکٹورل کالج مجموعی طور پر 706 ووٹوں پر مشتمل ہوتا ہے لیکن مختلف اسمبلیوں میں نشستیں پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس مرتبہ یہ تعداد 684 ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ