صرف اللہ سے ڈرنا

153

 

مہرانساء
بحثیت مسلمان ہم مانتے ہیں کہ اللہ ہے۔ وہ ہمارا مالک و آقا ہے ہم اس کے بندے ہیں اور اسکی طرف ہمیں واپس پلٹنا ہے۔ اللہ رب العالمین کو اپنا مالک مانتے ہوئے ہمیں اس کی رضا کا احساس بھی پیدا کرنا چاہیے۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف رکھے اور اس کی ناراضی کے ڈر سے برائی سے بچے۔ اگر دل میں خوف الٰہی نہ ہو تو اس کی ہر حرکت برائی اور گناہوں کے تصور سے آزاد ہوگی اور انسان جو چاہے گا کرتا پھرے گا۔ لیکن خوف الٰہی سے معمور دل ہمیشہ یاد رکھے گا کہ ایک دن مجھے اللہ کے سامنے اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہے۔ جب ایک بندہ خود کو ادنیٰ مخلوق اور اللہ رب العزت کو اپنا سب سے اعلیٰ مالک مان لے اس وقت اللہ کا ڈر پیدا ہوتا ہے۔ یعنی انسان یہ بات اپنے دل و دماغ میں پختہ کرلے کہ اس دنیا کو چلانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی کے حکم سے دنیا کے تمام کام انجام پاتے ہیں، ناممکن کو ممکن کرنے والا، مشکلات اور پریشانی کو حل کرنے والا ہی رب کریم ہے۔ اور انسان اپنے رب کے آگے عاجز اور بے بس ہے۔ ساری طاقتیں اور ساری تعریفیں صرف اللہ کے لیے ہیں۔ انسان کی مجال نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو بدل سکے یا اس کی برابری کرسکے۔ جب اللہ کی عظمت اور بڑائی کا تصور انسان کے دل میں آتا ہے۔ جب ہی خوف خدا اور تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور انسان جان لیتا ہے کہ زندگی اور موت، نفع اور نقصان، عزت یا ذلت دینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ جب وہ نیک اعمال پر راضی ہوتا ہے تو اپنے بندے کو بے حساب نوازتا ہے، لیکن جب وہ ناراض ہو جائے تو اس کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے کہ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے‘‘ (سورۃ المائدہ۔۲)
اہل علم خوف خدا رکھتے ہیں
اللہ کے جو بندے اللہ کی عظمت کا علم رکھتے ہیں وہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ ایک مسلمان جب اپنی اسلامی اقدار اور اسلامی تعلیمات سے واقف ہوتا جاتا ہے تو وہ رب سے قریب ہوتا جاتا ہے اور اس کے دل و دماغ میں ایک ہی بات ہوتی ہے کہ میرا رب میرے کسی عمل سے ناراض نہ ہو اور یہی خیال اسے برائیوں سے روکتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ
’’اللہ تعالیٰ کے بندوں میں صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اللہ سے ڈرتے ہیں‘‘ (سورۃ الفاطر: ۲۸)
خوف خدا مومنین کی نشانی ہے:
خالص مومن وہی ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف ہوتا ہے کیونکہ اس کا ہر عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے رب سے ڈرتا ہے اور اسے خوش رکھنا چاہتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص کہیں نوکری کرتا ہے تو مالک کی پسند اور نا پسند معلوم کرتا ہے۔ جب اسے اپنے مالک کی مرضی معلوم ہو جاتی ہے تو پھر اس کی یہ پوری کوشش ہوتی ہے کہ مالک جو بھی کام دے اسے ذمہ داری اور اچھے طریقے سے کرے تاکہ اس کا مالک خوش ہو جائے۔ لیکن دل میں ڈر بھی ہوتا ہے کہ میرا کوئی کام مالک کی مرضی کے خلاف تو نہیں ہے۔ بالکل یہی کیفیت خالص مومن کی ہوتی ہے۔
ایسے مومنین کی نشانی قرآن پاک میں اس طرح بیان کی گئی ہے!!
’’بلاشبہ جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے ہیں اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور جو لوگ کچھ دیتے ہیں تو اسے حال میں دیتے ہیں کہ ان کے دل اس بات سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس لوٹنے والے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نیک کاموں میں جلدی کرتے ہیں اور ان کی طرف دوڑ کر جانے والے ہیں (سورۃ المومنون: ۵۷۔۶۱)
خوف خدا کی ایک اور صورت:
جب ایک بندہ اللہ کی رحمت کی امید کے ساتھ گناہوں کی سزا اور عذاب کا خوف محسوس کرے تو یہ بھی خوف اللہ کے قریب کرتا ہے۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
’’تنہائی میں اللہ کے ڈر سے رونے والا جنت میں جائے گا۔‘‘
خوف دو طرح کے ہوتے ہیں ایک دنیاوی خوف اور دوسرا خوف الٰہی، اور ان دونوں کے اثرات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
٭ دنیاوی کوف انسان کو کمزور اور بزدل بناتا ہے جبکہ اللہ کا خوف انسان کو بہادر بناتا ہے۔
٭ دنیاوی خوف سے انسان دنیا والوں سے ڈرتا ہے جبکہ اللہ کے خوف میں صرف اللہ سے ڈرتے ہوئے عمل کرتا ہے۔
٭ دنیا والوں کی پروا کرتا ہے اور انہیں خوش کرتا ہے۔ جبکہ خوف خدا رکھنے والا اللہ کی پروا کرتا ہے اور اسی خوشی چاہتا ہے۔
٭ مشکل اور مصیبت میں لوگوں کا سہارا ڈھونڈتا ہے۔ جبکہ خوف خدا رکھنے والا ہر مشکل اور مصیبت میں اللہ سے مدد مانگتا ہے۔
٭ دنیاوی خوف رکھنے والا اپنے خوف کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے جبکہ خوف خدا رکھنے والا ہر طرح کے شرک سے دور رہتا ہے۔
٭ دنیاوی خوف رکھنے والا لوگوں سے نا انصافی کرتا ہے۔ جبکہ خوف خدا اور تقویٰ انسان کو انصاف پسند بناتا ہے۔
٭ دنیاوی خوف انسان کو بد اخلاق اور بے مروت و بے حس بناتا ہے جبکہ خوف خدا خوش اخلاقی، اخلاص پیدا کرتا ہے اور انسان ہر دلعزیز بن جاتا ہے۔
٭ دنیاوی خوف رکھنے والا با اثر لوگوں کی وجہ سے غلط کو غلط نہیں کہہ سکتا مگر اللہ کے خوف کی بدولت وہ افسر ہو یا بادشاہی دربار، حق بات کہنے سے دریغ نہیں کرتا۔
٭دنیاوی خوف رکھنے والا حقوق و فرائض سے غفلت برتتا ہے جبکہ خوف خدا رکھنے والا ایمانداری سے حقوق و فرائض انجام دیتا ہے۔
٭ دنیاوی خوف رکھنے والا حرام اور حلال کا فرق بھول جاتا ہے جبکہ متقی شخص ہر حال میں روزی اور کسب حلال کی فکر رکھتا ہے۔
٭ دنیاوی خوف رکھنے والا موت اور آخرت کے انجام سے بے خبر رہتا ہے جبکہ خوف خدا انسان کو موت اور آخرت کو بھولنے نہیں دیتا۔
اگر ہماری سوچ اور فکر صحیح راہ پر ہو تو خوف خدا پیدا کرنا مشکل نہیں جب ہم ہر سانس میں اسے یاد رکھیں اور یہ سمجھیں کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے تو ہم اللہ کے ڈر سے مالا مال ہوں گے اور گناہوں سے بچ جائیں گے اور اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے دلوں میں اپنا خوف پیدا کردے جیسا کہ ہم بھول جاتے ہیں ہمیں گناہوں سے بچالے (آمین)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ