وزن کم کرنے کیلئے پیٹ کی چربی کا گھلنا ضروری ہے

89

 

پیٹ کے گرد بننے والی چکنائی کی اقسام: یہ دو طرح کی ہوتی ہے subcutaneous اورVisceral مندرجہ بالا پہلی قسم پیٹ کی بیرونی دیوار پر جمع ہوتی ہے اور دوسری قسم پیٹ کی اندرونی تہہ میں بنتی ہے ۔ عام طور پر Viseralچربی زیادہ خطرناک ہوتی ہے ۔ یہی سنگین بیماریوں کا سبب بنتی ہے ۔ یہ نظریہ طبی نقطہ ، نظر سے درست ہے۔ لیکن کچھ شواہد سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ Subeutanenus صحت بخش چکنائی نہیں ہوتی ۔
وجوہات: یوں تو طبی مشاہدوں سے پیٹ کے گرد چربی جمع ہونے کے کئی عوامل ثابت ہو چکے ہیں ۔ موروثیت بھی ایک عام وجہ ہے اس کے علاوہ آرام طلب طرز زندگی اور بڑھتی ہوئی عمر بھی اہم وجوہات میں شامل ہیں جوں جوں عمر میں اضافہ ہوتا ہے پیٹ کے اطراف چربی بننے لگتی ہے ۔ یہ ہارمونز کی سطح میں اتار چڑائو کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ مردوں میں Testosterune اور عورتوں میں ایسٹروجن ایسے ہارمونز ہیں جن کا عدم توازن وزن میں زیادتی کا سبب بنتا ہے ۔ ماہرین غذائیت کچھ قدیم غذائی اصولوں ، ورزش اور خوراک کی مقدار اور اقسام کو اہمیت دیتے ہیں ۔
اپنی خوراک سے ایسے تمام مشروبات نکال دیں جن میں حراروں کی وافر مقدار موجود ہو ان کی جگہ سادے پانی اور پھلوں کے تازہ جوسز کا استعمال بڑھائیں ۔ پیٹ ، رانوں اور جسم کے دیگر اعضاء کے اطراف چربی بڑھنے سے وزن بڑھتا ہے اور یہ چربی صرف کیلوریز والی غذائوں سے بنتی ہے ۔
متوازن خوراک: جتنی جلد ہو سکے ڈیپ فرائڈ کھانے ، نمک اور تیل میں بھنے نٹس وغیرہ کو الوداع کہہ دیں ۔ تین مرکزی کھانوں کے ساتھ درمیانے وقفے میں کچھ نہ کچھ ضرور کھائیں لیکن متوازن اور صحت بخش خوراک کی عادت اپنا لیں ۔ ناشتے میں دلیے انڈہ ، ڈبل روٹی اور قہوہ لیں تو دوپہر کے کھانے کے لیے سبزی اور دال کے ساتھ مچھلی یا مرغی کا ایک ٹکڑا لیجیے ۔ رات کے کھانے کے لیے خاص اہتمام کی ضرورت نہیں مگر چاہیں تو چاول کی ایک پیالی یا پاستا بھی کھائے جا سکتے ہیں ۔ کم حراروں والی خوراک کھانے سے جسم خود کار نظام کے تحت جسم میں داخل ہونے والی اضافی چکنائی جلانے لگتا ہے ۔ یوں وزن بھی کم ہوتا ہے ۔
متوازن خوراک کے ذریعے زائد چربی کا مسئلہ کھانے کی مقدار کو تین کی گہ پانچ حصوں میں تقسیم کر کے بھی قابو کیا جا سکتا ہے ۔ نیز پانی کی بھی مناسب مقدار معاون رہتی ہے ۔
بازاری کھانوں میں بھی حرارے زیادہ پائے جاتے ہیں لہٰذا ان سے اجتناب برتنا بھی ضروری ہے ۔
ورزش کیجئے: زمانہ طالب علمی میں سزا کے طور پر اٹھک بیٹھک آپ میں سے بہت سوں نے کی ہو گی مگر اب ایک بار پھر تیار ہو جایے یہ ورزش سزا نہیں بلکہ صحت مند رہنے کے لیے از حد ضروری ہے ۔روزانہ پچاس سے ستر بار یہ ورزش کرنے سے معدہ کے پٹھے مضبوط ہو جاتے ہیں در اصل یہ پٹھے پیٹ کے اطراف جمع ہونے والی چربی کی وجہ سے پھیپھڑوں پر حاوی ہونے لگتے ہیں اور غیر ضروری چربی میں چھپ جاتے ہیں ۔
وزن کم کرنے کے لیے متوازن ڈائیٹ پلان کے ساتھ با قاعدہ ورزش کرنے سے بھی اس مسئلہ پرقابو پایا جا سکتا ہے ۔ وزن ہمیشہ پیٹ کے اطراف جمی چربی پگھلنے سے کم ہوتا ہے ۔Visceral چکنائی کی تہہ ایک بار جلنا شروع ہو جائے تو پھر جسم کے دیگر اعضاء کے گرد چربی کی تہہ بھی پگھلنے لگتی ہے ۔
ما ہرین غذائیت ورزش کے ان پروگراموں کی تائید کرتے ہیں جو ایک ساتھ پورے جسم کی چربی گھلائیں ۔ دوڑنا ،تیراکی ، سائیکل چلانا اور ٹینس کھیلنے سے حرارے تیزی سے جلتے ہیں ۔ یہ ضروری نہیں کہ آپ یہ معمولات روزانہ دہرائیں ۔ ایک دن میں تیس منٹ اور ہفتے میں تین سے چار مرتبہ یہ سرگرمیاں بہترین نتائج دکھا سکتی ہیں ۔ اگر آپ دوڑنے کی سکت نہیں رکھتے اور سائیکلنگ کرنے سے بھی جھجکتے ہیں تو پھر ایک آسان سا حل یہ ہے کہ روانہ طویل چہل قدمی کریں اور قدم ذرا تیز اٹھائیں کہ یہ آپ کی صحت کامعاملہ ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ