عورت کی بے باکی، معاشرتی بگاڑ

103

 

اسماء سید عبدالقادر

اسلام دین فطرت ہے، اللہ ربّ اللعالمین نے ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر دنیا میں بھیجے، ان کا مشن ایک ہی تھا، اللہ کے بندوں کو اللہ کے احکامات پر عمل کروانا اور اللہ کے احکامات کا پابند بنانا۔ تمام انبیا جو مذہب لے کر آئے وہ اسلام ہی تھا اور اسلام کے ماننے والے مسلم تھے، محمد الرسول اللہؐ اسلام ہی جو سلامتی کا مذہب لے کر آئے اس کو ماننے والے مسلم ہیں۔پیارے نبیؐ نے قرآن جو فرقان بھی ہے اور کتاب ہدایت بھی اس کے ایک ایک حکم پر خود عمل کیا اور اپنے اُمتیوں سے بھی کروایا اور مدینہ کی اسلامی ریاست میں اس کے ایک قانون کو نافذ اور قائم کردیا۔ مدینہ مسلمانوں کے لیے ایک ماڈل ریاست ہے، مسلمانوں کو کرسی اقتدار حاصل کرنے کی بڑی جلدی ہوتی ہے لیکن کرسی ان کے لیے کڑی آزمائش بھی ہے، کہ قرآن کے قوانین معیشت، معاشرت، سیاست، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو اس زمین پر نافذ کرنا، مسلم حکمران کی اہم ذمے داری ہے۔
اسلام نے مرد و عورت دونوں کے کام کا راستہ مقرر کردیا۔ خصوصاً عورت جو کمزور واقع ہوئی ہے اس لیے اس کو شوہر بچوں اور گھر کی ذمے داری دی گئی، عورت کا میدان کار مردوں سے مختلف ہے، کیوں کہ مردوں کو عورت پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے۔ عورت کو گھر میں رہنے کی ہدایت کی گئی اور پردہ اس کے لیے لازم کردیا گیا اور ضرورتاً باہر نکلتے وقت حجاب لے کر نکلنا ہوگا۔ حجاب کا تعلق حیا سے ہے اور حیا مومن عورت کی پہچان اس کا تشخص ہے۔ عورت کو اللہ کے رسولؐ نے نگینہ کہا ہے اس کی حفاظت خود اس پر، اس کے ماں ، باپ، بھائی اور شوہر پر ہے۔ اللہ رسولؐ کا فرمان ہے کہ ایک عورت کے پردہ نہ کرنے کی وجہ سے تین مرد جہنم میں جائیں گے۔ باپ، بھائی اور شوہر، لڑکی ماں، باپ کے گھر میں بڑی ہوتی ہے، باپ اور بھائی کی ذمے داری ہے کہ اس کو حجاب کا عادی بنائیں، ایک زمانہ تھا کہ 12-10 سال کی لڑکی کو پردہ کروایا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ خالہ زاد، چچا زاد اور دیگر کزن کے سامنے بھی نہ جاتی تھیں۔ شرم و حیا ان کی زینت اور ان کا زیور تھا۔
حجاب کا تعلق نظر، زبان اور لباس سے ہے، آج معاشرے کے بگاڑ نے عورت کی شرم و حیا چھین لی، مخلوط تقریبات نے چاہے وہ شادی کی ہوں یا کوئی اور عورت کو بے باک کردیا ہے، چند گھنٹوں کی تفریح کی خاطر ہزاروں روپے بیوٹی پارلر کی نظر کردیے جاتے ہیں۔ غیر مردوں کے سامنے بنی سنوری عورتیں خوشی خوشی گھومتی پھرتی ہیں، اس میں مردوں کی نظریں ان کو تاکتی ہیں، ہر عورت جب بے پردہ باہر نکلی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ اس نے اپنی چال کے ذریعے آدم ؑ اور بی بی حوا کو جنت سے نکلوا دیا تھا اور وعدہ کر کے آیا تھا کہ اللہ تیرے بندوں کو قیامت تک بہکاتا رہوں۔ آج مسلم قوم شیطان کے ہتھکنڈے میں جکڑی ہوئی ہے۔
آج غیر مسلم جو اسلام سے خوف زدہ ہیں۔ انہوں نے مسلمان امت کے کمزور پہلو پر زقند لگائی ہے۔ اور عورت کو آزادی نسواں کے نام پر چراغ خانہ کے بجائے شمع محفل بنا دیا۔ آج ہمارا میڈیا اشتہارات اور فحش ڈراموں کے ذریعے عورت کو عریاں لباس میں پیش کر کے اس کی نسوانیت کو سرعام رسوا کررہا ہے۔ عورت کے پاس عقل و شعور کی تو کمی نہیں اللہ نے اس کو جس شعور اور عقل سے نوازا ہے۔ اس کا اپنا قصور بھی ہے کہ شیطانی قوتوں کے نرغے میں دھنستی جارہی ہے۔ اسلام اولین مذہب ہے جس نے حجاب کے ذریعے عورت کو تحفظ دیا اور عورت کی عزت و وقار کو بلند کیا۔
اللہ کا فرمان ہے ’’اے نبی ؐ اپنی بہنوں، بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ اپنے اوپر چادر کے گھونگھٹ ڈال لیا کریں‘‘۔ اس تدبیر سے توقع ہے کہ پہچان لی جائیں کہ مومنات ہیں اور انہیں ستایا نہ جائے۔
فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ’’ جس میں حیا نہ ہو اس کا جو جی چاہے کرلے‘‘۔
فرمان رسول ؐ ہے کہ ’’ ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیا ہے‘‘۔
پاکستان کے گمبھیر مسائل میں فحاشی و عریانی بھی کوہ ہمالیہ جیسا مسئلہ ہے۔ سورۂ احزاب اور سورۂ نور میں پردے کے کھلے احکامات ہیں لیکن اللہ کے احکامات کو ہم نے اساطیر الاولین قرار دے دیا۔ اس وجہ سے بے حیائی اور بے پردگی کا طوفان بلاخیز ہماری پیاری بیٹیوں کی عزت کو پامال اور تار تار کررہا ہے۔ فیشن اور ثقافت کے نام پر عورت کو بے لباس کیا جارہا ہے۔ عورت اس دنیا کی رنگینیوں میں خوش اور اسی کو جنت سمجھ رہی ہے۔ باریک لباس پہننے والی عورت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ ایسی عورتیں برہنہ ہوتی ہیں۔ ایسے لباس پہننے والی عورت جنت میں داخل ہوگی اور نہ اس کی خوشبو سونگھ سکیں گی۔ سب سے زیادہ حیا کا حق دار اللہ ہے اسی کا خوف اور ڈر ہم میں نہیں رہا۔ اللہ مسلمانوں کو عقل سلیم عطا کرے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ