نواب شاہ، بے نظیر بھٹو یونیورسٹی میں طالبہ کو جنسی ہراساں کرنے کا انکشاف

167

نواب شاہ (نمائندہ جسارت) بے نظیر بھٹو کے نام سے منسوب تعلیمی ادارے میں جنسی اسکینڈل سامنے آنے پر سول سوسائٹی اور والدین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، والدین عدم تحفظ کا شکار۔ بینظیر بھٹو یونیورسٹی کی طالبہ کا چیئرمین انگلش ڈیپارٹمنٹ پر جنسی ہراساں کرنے کا مبینہ الزام۔ یونی ورسٹی امتحان میں فیل کرنے اور داخلہ ختم کرنے کے دھمکیاں دے کر مجھے بلیک میل کیا جارہا ہے اور اکیلے میں ملنے اور جنسی روابط رکھنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے جبکہ انکار کرنے پر میرے والد کیخلاف جھوٹا مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بینظیر بھٹو یونیورسٹی کے شعبہ انگلش کے آخری سال کی طالبہ فرزانہ جمالی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں اپنے گاؤں کی واحد لڑکی ہوں جو تمام رکاوٹیں توڑ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے نکلی اور میرا تعلیمی ریکارڈ بھی شاندار رہا ہے، ایم اے انگلش میں سیکنڈ ڈویژن سے کامیابی حاصل کی، تاہم شعبہ انگلش کے آخری سال میں شعبہ کے انچارج چیئرمین عامر خٹک کی جانب سے مجھے جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ اس سلسلے میں مجبور ہوکر یونی ورسٹی کے وائس چانسلر ارشد سلیم سے شکایت کی تو انہوں نے چیئرمین شعبہ انگلش کیخلاف کارروائی کرنے کے بجائے ہمیں ڈرایا دھمکایا اور خاموش رہنے کے لیے دباؤ ڈالا، جس پر طالبہ نے اپنے والد اعجاز جمالی جو کہ پرائمری اسکول ٹیچر ہیں، کو بتایا جنہوں نے وی سی سے ملنے کی کوشش کی، تاہم یونی ورسٹی انتظامیہ نے میرے والد کے ساتھ غیر مہذبانہ رویہ اختیار کیا۔ والد نے احتجاج کیا تو وی سی نے ان کیخلاف تعلقہ پولیس میں جھوٹا مقدمہ درج کرا دیا۔ طالبہ فرزانہ جمالی نے گورنر سندھ، چیف جسٹس پاکستان اور وزیر اعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا نوٹس لیا جائے اور ذمے داران کیخلاف کارروائی کی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ