ترقی اور جرمنوں کے ملک چھوڑنے میں اضافہ

233

ا
رپورٹ :مطیع اللہ
نمائندہ جسارت: برلن

جرمنی دنیا کی معیشت میں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہورہا ہے گزشتہ چار سالوں میں جرمنی نے مختلف تجارتی معاہدے کیے جس سے سالانہ آمدن میں اضافہ ہو رہا ہے جوجرمنی کے تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہو رہاہے دوسری جانب جرمنی سے ہر سال ٹیکسوں کی بھر مار کی وجہ سے دو لاکھ سے زائد جرمن باشندے نقل مکانی کررہے ہیںوفاقی اعداد و شمار کے دفتر کے مطابق 2016 میں دولاکھ اکیاسی ہزار سے زائد جرمن شہریوں نے ملک چھوڑا جبکہ 2015 میں 10 لاکھ سے زائد مہاجرین کو خوش آمدیدکہا گیا جرمنی سے 2015 کے مقابلے میں 2016 میں پونے تین لاکھ سے زائد جرمن شہری بیرونی ممالک منتقل ہوگئے ہیں دوسری جانب جرمنی کی حکومت امیگریشن کے زیادہ کارکنوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، غیر ملکی کارکنوں کی آمد کی وجہ سے جرمنی کے باشندوں کی بڑی تعداد ملک چھوڑ رہے ہیں جرمن حکومت اپنے باشندوں کو روکنے اور مراعات کی فراہمی کی کوشش میں ہے اس طرح قانونی طور پر صرف 2016 میں، دو لاکھ اکیاون ہزار جرمن شہری بیرون ملک منتقل ہوئے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس طرح جرمن شہریوں کی بیرونی ملک منتقلی سے جرمن معیشت پر برے اثرات مرتب نہیں ہوںگے کیونکہ جرمنی میں ہر سال یورپ سمیت دنیا بھر سے امیگریشن کے پانچ لاکھ کارکنان پہنچ رہے ہیں سرکاری اعداد وشمار کے۔مطابق تاریخ میں پہلی بار ایسا دیکھا جا رہا ہے کہ 1991 کے بعد جرمن شہریوں کی بڑی تعداد بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے دیوار برلن کے ٹوٹنے کے بعد 1991 کے میں 99ہزار جرمن شہریوں نے بیرونی ممالک ہجرت کی تھی جب اب اس رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور حالیہ برسوں میں ہر سال تقریبا 5 لاکھ جرمن باشندے بیرونی ممالک جاتے ہیںجس میں ڈھائی لاکھ کے قریب وہی منتقلہوجاتے ہیں ۔
لیکن 2016 میں جرمن شہریوں کی بیرونی ممالک منتقلی کی تعداد انتہائی زیادہ بتائی جاتی ھے جرمن حکومت اور دیگر جرمن سیاسی جماعتیں جرمن شہریوں کی اس منتقلی کے اسباب اور اس کے حل کے لیے سر توڑ کوشش کررہی ھے کہ اس اضافہ کو روکا جاسکے جبکہ وفاقی اعداد و شمار کے دفتر کے مطابق اس اضافے کو سنجیدگی کے ساتھ لیا جارہا ہے جبکہ ایک سروے شروع کیا جارہا ھے جس سے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے
وفاقی دفتر شماریات کے نمائندے مارٹن کونڈرا کے مطابق 2016 سے قبل جرمنی میں پرانے طریقے شماریات کے مطابق کام کیا جاتا رہا جس کارپورٹنگ کا نظام ایک پرانی طرز عمل کی حیثیت رکھتا تھا اب پرانے نظام کو تبدیل کردیا گیا ھے جس سے مکمل معلومات فراہم ہوسکے گی انہوں نے کہا کہ اس نئے نظام شماریات سے معلوم ھوسکے گا کہ کتنے جرمن باشندے کہاںکہاں مقیم ہیں۔
جو بیرون ملک منتقل ھوئے ان تمام جرمن شہریوں کا اندارج کیا جارہا ھے جبکہ جنہوں نے جرمنی کی میں اپنی موجودگی کے لیے دستخط کیے ہیں لیکن ملک میں کہیں بھی ان کا ریکارڈ موجود نہیں ہے آبادی کے اعداد و شمارکے مطابق کہ وہ ہجرت کر چکے ہیں۔اس طرح بغیر اندارج کے جرمن شہری ہرگز نہیں کرسکتے تاہم ہم یہ سمجھتے ہیںکہ جرمن شہری کبھی اپنے ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتے ھے جرمنی کے شہر ی ہمیشہ اپنے ملک کے قانون کی پاسداری کرتے ھے 2016 سے پہلے جن جرمن باشندوں نے بیرون ملک منتقلی کا اندارج کرایا تھا ان کی تعداد معلوم ھے تاہم سروے کے مطابق ہر سال پانچ لاکھ کے قریب جرمن شہری بیرونی ممالک جاتے ہیں جس مین ڈھائی لاکھ کے قریب وہیںرہ جاتے ہیں۔
2016 کے اعداد و شمار حقیقت کے بہت قریب ہیں، گزشتہ سالوں کے اعداد و شمار کی تفصیلات جمع کرنا اور نتیجہ نکالنا ممکن نہیں ھے تاہم ڈیٹا سیریز کا ایک ریٹرویکٹو جائزہ جلدممکن نہیں ہے۔ Statistician Conrad نے وضاحت کی ہے ہم سمجھ سکتے ہے کہ حالیہ برسوں میں جرمن شہری کتنے بیرونی ملک منتقل ہوئے کیونکہ نقل مکانی کے اعداد و شمار کی فہرست ہم مرتب کرتے ہیں.گزشتہ سال کے مقابلے 2017 میں اگر جرمن شہریوں نے بیرونی ملک منتقلی کا سلسلہ کچھ کم ھوا جیسا کہ 131000 افراد بیرونی ممالک منتقل ھوئے جبکہ 2016 میں یہ تعداد زیادہ تھی تاہم، بہت سے جرمن شہری گزشتہ سال واپس آ گئے . 2016 میں دو لاکھ اکیاسی ہزار تارکین وطن کے طور پر بیرونی ممالک منتقل ھوئے جبکہ جرمن تارکین وطن کے سب سے زیادہ مقبول منزل ممالک سوئٹزرلینڈ (17،650)، امریکہ (12،781)، آسٹریا (10،283)، برطانیہ (8243)، ترکی (6230) اور فرانس (5895)
منتقل ہوئے ہیں دوسری جانب جرمنی کے نئے منتخب کابینہ اور سیاسی جماعتیں بھی شہریوں کی منتقلی کو روکنے کے لیے مختلف سروے کروانے کا آغاز کیا ہے
اس طرح 2005 سے جرمنی شہریوں کی منتقلی ریکارڈ میں انا شروع ھوئی گئی ہے جبکہ جرمنی میں انے والوں کے مقابلے میں زیادہ جرمن شہری منتقل ہونے سے کہیں زیادہ جا رہے ہیں.
1990 سے پہلے کے سالوں کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جرمنی کے شہری زیادہ سے زیادہ منتقل ہونے کی بجائے آگے بڑھ رہے تھے وفاقی ادارے کے مطابق اگر سال میں 1000 جرمن شہری بیرونی ملک منتقل ھوئے ھو تو اسی سال میں 2000 ہزار شہری واپس بھی آئے ہیں
دوسری طرف جرمنی کے مضبوط امیگریشن سسٹم کے دنیا بھر میں معیشت میں اپنا لوہا منوانے والے جرمنی نے 2015-2016ء میں تارکین وطن کے لیے اپنے دروازے کھول دیے تھے جس کے ریکارڈ افراد 17 لاکھ 20 ہزار افراد جرمنی پہنچے اس طرح جرمنی سے بیدخلی کا عمل جاری رہا ان دو سالوں میںصرف 12 ہزار سے زائد افراد کو بیدخل کیا گیا
مجموعی طور پرپانچ لاکھ 63 ہزارغیر ملکی افراد 2016 میں زیادہ سے زیادہ آئے تھے – 2015 کے بعد دوسری اس سے زیادہ افراد نے جرمنی کا رخ کیا جرمنی میں 51 فیصد تمام تارکین وطن یورپی یونین کے غیر ملکی تھے، ایک تہائی مشرق وسطی، افریقہ اور ایشیا سے آیا، پناہ گزینوں کے ذریعہ نقل مکانی کرنے والوں کی اصل آبادی کا تناسب بھی زیادہ ھوگیا تاہم جرمنی کو یورپی یونین کے ممالک سے امیگریشن اعلی درجے کے مسئلے کا بھی سامنا ہے.
جرمنی اگر ایک وقت میں کچھ لوگو کو بیدخل کرتا ھے تو اس کے متبادل دوگنا لوگ جرمنی پہنچ جاتے
ہیں یہ مالی منتقلی یا اقتصادی تارکین وطن ہوتے ہیںجو معاشرے میںبگاڑ کاباعث بنتے ہیں۔
– 1960 سے کلاسک امریکی امیگریشن جو کہ بین الاقوامی امیگریشن کہلاتا رہا کیذریعے جرمنی سے زیادہ تارکین وطن مل چکے ہیں جس میں ایسے طبقہ کے افراد شامل۔تھے کہ جو ملک کی معیشت میں اپنا کردار ادا کرسکتے تھے اس کے بعد جرمنی ایک ماحول بناتا رہا تاکہ شہری اپنے وطن کو فوقیت دیں اب تک وفاقی اعداد وشمار کے مطابق تقریبا 23 فیصد آبادی 82 ملین ابادی کو مائیکروسافٹ کی مدد سے تشخیص کیا گیا ھے جرمنی پہنچنے والے تارکین وطن تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔
جبکہ دس سینئر (65 سال سے زائد) میں صرف ایک بچے کی پیدائش ہوتی ہے جس میں بچوں کو (چھ سال سے کم) یہ 38 فیصد ہے. مغربی جرمنی میں (بشمول برلن) 42 فیصد بچے تارکین وطن خاندان سے آتے ہیں.
واضح رہے کہ مہاجرین جس میں ایشیاء‘مشرقی وسطیٰ اور افریقہ سمیت دیگر ممالک کے لوگ کی نسلی آبادی میں ہر سال اضافہ ھو رہا ھے اس انداز سے وہی بچے جرمنی میں مستقل ھو رہے جس سے جرمنی کی اپنی ابادی پر اچھا خاصا فرق پڑ رہا ہے جبکہ جرمنی نے مختلف ممالک کے لیے اپنے ورک ویزوں پر پابندی لگا دی ہے جس کاواضح مطلب ہے کہ کسی طریقے سے تارکین وطن کے آبادی کو روکا جاسکا ھے جبکہ جرمنی کو ہر سال 6 لاکھ سے زائد ورکروں کی ضرورت ہوتی ہے جو وہ مختلف طریقوں سے پورا کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہے۔
گزشتہ دو سالوں میں تارکین کے سیلاب سے بھی جرمنی کے افرادی قوت پوری نا ھوسکی 17 لاکھ میں صرف 7/8 لاکھ افراد کو ہی کام میں لایا جاسکا ھے اس کی بڑی وجہ افرادی قوت کو کمپوٹر ائرز کرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ