نئےصدر مملکت کا انتخاب کل ہوگا، تیاریاں مکمل

286

صدر کے انتخاب کے لیے پولنگ کل ہوگی جس کے لیے الیکشن کمیشن نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔

صدارتی انتخاب کے لیے کل سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں میں بیک وقت پولنگ ہوگی، پولنگ کا وقت صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک مقرر کیا گیا ہے۔

صدارتی انتخاب کا طریقہ

آئین کے تحت صدر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوتا ہے، اس کے لئے مجموعی طور پر 1500 بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں، سفید رنگ کے بیلٹ پیپرز واٹر مارکڈ ہیں، جن پر 3 امیدواروں کے ناموں کے سامنے خالی خانہ چھاپہ گیا ہے۔

پولنگ کا طریقہ

صدر مملکت کے انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج سینیٹ، قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہے، سینیٹ ، قومی اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ووٹ شمار ہوگا جب کہ پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے 65،65 ووٹ شمار ہوں گے۔ صدر کا الیکٹورل کالج مجموعی طور پر 706 ووٹوں پر مشتمل ہوتا ہے لیکن مختلف اسمبلیوں میں نشستیں پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس مرتبہ یہ تعداد 684 ہے۔

تحریک انصاف نے عارف علوی، پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن جب کہ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کو میدان میں اتارا ہے۔ تینوں امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار صدر مملکت منتخب ہو جائے گا۔

سینیٹ میں پارٹی پوزیشن

پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کے 48، تحریک انصاف اور اتحادیوں کے 25، پیپلزپارٹی کے 20 جب کہ 11 آزاد ارکان ہیں۔

قومی اسمبلی

قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور اتحادیوں کے 176، مسلم لیگ (ن) اور اتحادیوں کے 96، پیپلزپارٹی کے 54، آزاد ارکان 4 اور 12 نشستیں خالی ہیں۔

پنجاب اسمبلی

پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے پاس 186 نشستیں یعنی 33 الیکٹورل ووٹ، مسلم لیگ (ن) کے 162 ارکان یعنی 29 الیکٹورل ووٹ، پیپلزپارٹی کے 7 ارکان ملا کر ایک الیکٹورل ووٹ بنے گا۔

سندھ اسمبلی

سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے 97 ارکان کی بدولت اڑتیس الیکٹورل ووٹ جب کہ تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے 66 ارکان کے 26 الیکٹورل ووٹ بنیں گے۔ ن لیگ کا سندھ اسمبلی میں ایک بھی الیکٹورل ووٹ نہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی

خیبر پختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف اور اتحادیوں کے 79 ارکان مل کر 42، اپوزیشن اتحاد کے 27 ارکان کے 14 اور پیپلز پارٹی کے پانچ ارکان کے 3 الیکٹورل ووٹ ہیں۔

بلوچستان اسمبلی

بلوچستان اسمبلی میں حکومتی اتحاد کے 40 اور اپوزیشن کے 20 ووٹ ہیں۔ پانچ نشستوں پر ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

الیکٹورل ووٹ کا ہیر پھیر

صدارتی انتخاب کے لیے تمام الیکٹورل کالجز پر نظر دوڑائی جائے تو تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے مجموعی طور پر 201، پنجاب سے 33، سندھ سے 26، خیبر پختونخوا سے 42 اور بلوچستان اسمبلی میں 40 ووٹ ہیں جو مجموعی طور پر 342 ووٹ بنتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کے پارلیمنٹ میں 144، پنجاب اسمبلی میں 29، سندھ اسمبلی میں ایک بھی نہیں، خیبر پختونخوا اسمبلی میں 14 اور بلوچستان اسمبلی میں 20 الیکٹورل ووٹ ہیں۔ اس طرح اس کے مجموعی الیکٹورل ووٹ 207 بنتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے پارلیمنٹ میں 74، پنجاب اسمبلی میں 1، سندھ اسمبلی میں 38 اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں 3 الیکٹورل ووٹ مل کر 116 بنیں گے۔

آزاد ارکان

پارلیمنٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں آزاد ارکان کے 19 الیکٹورل ووٹ ہیں۔

ممکنہ ووٹ

آزاد امیدواروں کے ووٹ تقسیم ہونے کے بعد ڈاکٹر عارف علوی کو 350، مولانا فضل الرحمان کو 218 اور اعتزاز احسن کو 116 الیکٹورل ووٹ ملنے کا امکان ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ