زمزم

122

مفتی رفیع الدین

زم زم مسجد حرام میں موجود مشہور اور باعظمت کنویں کا نام ہے، کعبہ شریف اور اس کے مابین تیس گز کا فاصلہ ہے، یہ مقام ابراہیم کے جنوبی سمت میں اس طرح واقع ہے اس کے شمال مغرب کا حصہ اٹھارہ میٹر کی دوری پر حجر اسود کے محاذات میں واقع ہے۔
زمزم کا نام زمزم اس کے پانی کی کثرت کی وجہ سے پڑا، ایک قول یہ بھی ہے کہ زم زم اور زمزوم کے معنی ہی کسی بھی چیز کی کثرت کے آتے ہیں، اورا س کی ایک وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ یہ پانی چونکہ ’’اکٹھا اور مجتمع‘‘ ہے اس لیے اس پر زمزم کا اطلاق کیا گیا، چونکہ جس وقت یہ پانی بہنے لگا تو سیدہ ہاجرہ نے اس پانی سے فرمایا: زمزم یعنی اکٹھے ہوجا، اس طرح یہ پانی یکجا اور اکٹھا ہوگیا، اس لیے اس کا نام زمزم پڑگیا، ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ جس وقت یہ پانی نکل پڑا اور داہنے اور بائیں جانب بہنے لگا، تو سیدہ ہاجرہ نے اس پانی کو اس کے اطراف مٹی سے اکٹھا کیا، ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’اگر تمہاری ماں ہاجرہ نے اس پانی کا احاطہ نہ کیا ہوتا تو یہ مکہ کی وادیوں کو بھر دیتا‘‘۔ (مرآۃ الحرمین)
زم زم پینے کے آداب:
زم زم پینے کے کچھ آداب ومستحباب ہیں جس کا فقہا نے تذکر ہ کیا ہے:
1۔ قبلہ رخ ہو کر پیئے۔
2۔بسم اللہ کہہ کر پیئے۔
3۔تین سانس میں پیئے۔
4۔خوب آسودہ ہو کر پیئے۔
5۔فراغت پر الحمد للہ کہے۔
6۔ہر گھونٹ پینے پر خانہ کعبہ کو دیکھے۔
7۔کچھ پانی اپنے سر، چہرے اور سینے پر چھڑکے۔
8۔دنیا وآخرت کے اپنے مطلوب کے لیے دعا کرے۔
زم زم کا پانی مطلب اور مقصد کی بر آری کے لیے کہیں بھی پیا جائے تو مؤثر ہے، خواہ حرم مکی میں یا اس کے علاوہ دیگر مقامات پر، اگر زم کا پانی پینے والا اپنے علاوہ کسی کی نیت سے پیئے تو بھی مقبول ومطلوب ہوگی۔ مثلا اگر کوئی شخص اپنے بیٹے یا بھائی وغیرہ کی نیت سے زم زم پیئے تو وہ اس کے مقصد کے بر آوری کے مؤثر ہوگا۔ ( نہایۃ المحتاج)
زمزم ساتھ لانا:
فقہا کا اس پر اتفاق ہے کہ زم زم کو حرم مکی سے لایا جاسکتا ہے، پھلوں کی مثل، کیوں کہ یہ ختم ہونے والی شی نہیں ہے۔ ( رد المحتار) یہ مریضوں کے لیے شفا کا باعث ہے۔ ترمذی نے سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ وہ مکہ سے زم زم کا پانی لاتیں اور رسول اللہؐ کے متعلق یہ بتلاتیں کہ آپ زمزم کا پانی مکہ سے لاتے اور بعض دیگر روایتوں میں یہ بھی منقول ہے کہ نبی کریمؐ زم زم کا پانی لاتے اور اس کو مریضوں اور بیماروں پر چھڑکتے۔ (التاریخ الکبیر للبخاری) اورایک روایت میں ہے کہ نبی کریمؐ نے اس پانی سے حسن وحسینؓ کی تحنیک (گھٹی) کی۔ ( رد المحتار) ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے سہیل بن عمروؓ سے زم زم کا پانی بطور ہدیہ طلب کیا۔ (مجمع الزوائد)
زم زم سے پاکی کا حصول:
زم زم کے پانی سے استنجا اور نجاست حقیقی کو کپڑے یا بدن سے زائل کرنا مکروہ ہے، بلکہ بعض علما نے تو اس کو حرام قرار دیا ہے، البتہ پاک اعضا پر وضو اور غسل کیا جاسکتا ہے۔
(رد المحتار) بعض نے تو اس طرح وضو اور غسل کو مستحب کہا ہے، احناف نے جنبی اور محدث کے لیے اس پانی سے غسل کے ناجائز ہونے کی صراحت کی ہے۔ (ارشادالساری شرح مناسک ملا علی القاری)
الغرض یہ کہ زمزم کا پانی نہایت بابرکت اور محترم ہے، یہ فضیلت وبرکت کا حامل ہے، نبی کریمؐ نے اس پانی کو مبارک، غذا اور شفا فرمایا ہے:
ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں، میں نے نبی کریمؐ کو فرماتے ہوئے سنا: روئے زمین کا سب سے بہتر پانی زم زم ہے، یہ بھوکے کے لیے کھانا اور مریض کے لیے شفا ہے، اس پانی کے پینے کی وجہ سے انسان کو کھانے سے استغنا حاصل ہوجاتا ہے اور اسے بیماری سے شفا حاصل ہوجاتی ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی)ابو ذر غفاریؓ کا اس سلسلے میں واقعہ منقول ہے کہ وہ نبی کریمؐ کے پاس تشریف لائے ابوذرؓ فرماتے ہیں کہ میں وہ پہلا آدمی تھا جس نے اسلام کے طریقے کے مطابق آپؐ کو سلام کیا۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام ہو، آپؐ نے فرمایا: تجھ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمتیں ہوں، پھر آپؐ نے فرمایا تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا میں قبیلہ غفار سے ہوں۔ آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا کہ یہاں کب سے ہے؟ میں نے عرض کیا میں یہاں تین دن رات سے ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: تجھے کھانا کون کھلاتا ہے؟ میں نے عرض کیا میرے لیے زمزم کے پانی کے علاوہ کوئی کھانا نہیں ہے، پس اس سے موٹا ہوگیا ہوں یہاں تک کہ میرے پیٹ کے بل مڑ گئے ہیں اور میں اپنے جگر میں بھوک کی وجہ سے گرمی بھی محسوس نہیں کرتا۔ آپؐ فرمایا: یہ پانی بابرکت ہے اور کھانے کی طرح پیٹ بھی بھر دیتا ہے۔ (مسلم)
اور ایک روایت میں اس کو صالحین کا پانی فرمایا گیا، ابن عباسؓ نے فرمایا: نیکو کاروں کے مصلی پر نماز پڑھو اور صالحین کا پانی پیو۔ ابن عباس سے دریافت کیا گیا کہ نیکوکاروں کا مصلی کیا ہے تو فرمایا: میزاب کے نیچے، اور دریافت کیا گیا کہ ’’صالحین کا پانی‘‘ کیا ہے تو فرمایا: زمزم (اخبار مکۃ للازرقی)
زمانہ جاہلیت میں بھی یہ پانی نہایت متبرک اور مقدس شمار ہوتا تھا، لوگ اپنے بچوں اور عیال کو لا کر یہاں پانی پلاتے، اور زمانہ جاہلیت میں اس پانی کو سیراب کرنے والا کہا جاتا تھا۔ (تہذیب السماء واللغات)
زم زم نہایت متبرک اور محترم پانی ہے، خود بھی پیئے، خوب آسودہ ہو کر پیئے، آداب کی رعایت کے ساتھ پیئے، مریضوں اور بیماروں کو پلائے اور مقصد کی بر آوری کی نیت سے پیئے، خود کے لیے دعا کرے دوست واحباب کے لیے بھی دعا کرے اور زمزم کا پانی لا کر دوست واحباب کو بطور ہدیہ عنایت بھی کرے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ