نکاح کی تقریب اور ہمارا معاشرہ

153

عبدالرشید طلحہ نعمانی

نکاح، عین تقاضۂ فطرت اور انسان کی بنیادی ضرورت ہے؛ جس طرح کھانا، پینا، پہننا، اوڑھنا انسان کی ضروریات میں شامل ہے، اسی طرح ایک عمر کو پہنچنے کے بعد نکاح کرنا بھی بشری زندگی کا لازمہ ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نکاح کو آسان سے آسان طریقے اور پوری سادگی کے ساتھ انجام دینے کا حکم دیا ہے اور اس بات سے بھی آگاہ کردیا ہے کہ بابرکت نکاح وہی ہے جس میں خرچ کم سے کم ہو۔ اسلام کی نظر میں نکاح محض جسمانی ضرورت کی تسکین اور نفسانی خواہش کی تکمیل کا نام نہیں ہے، بلکہ اس سے دنیا وآخرت کے بہت سارے احکام وابستہ ہیں۔ چنا نچہ اسلام نے نکاح کو انسانیت کی بقا وتحفظ کا بنیادی سبب بتلایا، احساس بندگی اور شعور زندگی کے لیے عبادت سے تعبیر فرمایا، عفت وپاکدامنی کے حصول کے لیے اہم ڈھال قراردیا اور معاشرے میں بڑھتی بے حیائی و بے راہ روی پر قدغن لگانے کا موثر ہتھیار شمارکیا۔ مزید برآں نبی کریمؐ نے نکاح کو اپنی سنت اور ایک جگہ آدھے ایمان سے تعبیرکیا: انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص نکاح کر لیتا ہے تو اپنا آدھا دین مکمل کر لیتا ہے؛ لہٰذا اسے چاہیے کہ باقی آدھے دین کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا رہے۔(بیہقی)
اسلام نے نکاح کو جتنا آسان بنایا، ہمارے معاشرے نے اسے اتنا ہی مشکل بنا ڈالا، دو گواہوں کی موجودگی میں صرف ایجاب وقبول پر مشتمل نکاح کے اس بابرکت معاہدے پر ہم نے نت نئی رسموں اور فضول خرچیوں کا ایسا بوجھ ڈالا کہ ایک غریب؛ بلکہ متوسط آمدنی والے شخص کے لیے بھی وہ ایک ناقابل عبور پہاڑ بن کر رہ گیا۔ آج کل کوئی شخص اس وقت تک نکاح نہیں کرسکتا جب تک اس کے پاس (گری پڑی حالت میں بھی) دو تین لاکھ روپے موجود نہ ہوں۔ یہ لاکھ دو لاکھ روپے نکاح کی حقیقی ذمے داریاں پوری کرنے کے لیے نہیں؛ بلکہ صرف فضول رسموں کا پیٹ بھرنے کے لیے درکار ہیں، جنہیں خرچ کرنے سے زندگی کی حقیقی ضروریات پوری کرنے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔
شریعت کی طرف سے نکاح کے موقع پر صرف دعوت ولیمہ مسنون تھی اور وہ بھی ہر شخص کی استطاعت کے مطابق؛ مگر اب نکاح سے قبل اور بعد تقریبات اور دعوتوں کا سلسلہ اس طرح رواج پاچکا ہے کہ صرف منگنی کی تقریب مستقل شادی کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے اور عین نکاح کے موقع پر مہندی، سانچک، چوتھی سے لے کر سات جماگیوں تک تقریباً ہر روز کسی نہ کسی تقریب کا اہتمام لازمی سمجھ لیا گیا ہے، جس کے بغیر شادی بیاہ کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
آج ہمارا مسلم معاشرہ اپنی جائز وناجائز دولت کی تشہیر اور معاشرے میں عزت وشہرت کے لیے سرگرم عمل ہے، ہم کفایت شعار قوم سے فضول خرچ قوم بن چکے ہیں، نمود ونمائش پر یقین رکھتے ہیں اور ذہنی طور پر دکھاوے کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔ یقین کیجیے کہ ہماری ترقی کی راہ میں ہمارا مسرفانہ رویہ اور فضول خرچی کی عادت دیوار چین بن کر کھڑی ہے۔ دنیا کے کسی اور اسلامی ملک میں شادی بیاہ کی نہ اتنی رسومات ہیں اور نہ ہی اس قدر دولت پانی کی طرح بہائی جاتی ہے جس طرح ہمارے ہاں اس موقع پر روپے کو آگ لگائی جاتی ہے۔ پھر تقریبات میں بھی زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ نت نئے اخراجات کا اضافہ ہورہا ہے، نئے نئے مطالبے سامنے آرہے ہیں، چھوٹی بڑی رسمیں وجود میں آرہی ہیں، غرض فضولیات کا ایک ڈھیر ہے جس نے شادی کو غریب ومتوسط طبقے کے لیے ایک ایسی ذمے داری میں تبدیل کردیا ہے جو عام طور پر صرف حلال آمدنی سے پوری نہیں ہوسکتی؛ لہٰذا اسے پورا کرنے کے لیے کہیں نہ کہیں ناجائز ذرائع کا سہارا لینا پڑتا ہے اور اس طرح نکاح کا یہ کار خیر نہ جانے کتنے حرام کاموں اور کتنے گناہوں کا مجموعہ بن کر رہ گیا ہے۔
تقریبات میں اعتدال:
خوشی کے مواقع پر اعتدال کے ساتھ خوشی منانے پر شریعت نے کوئی پابندی نہیں لگائی اور کیونکر لگائے گی؛ جب کہ اسلام افراط وتفریط سے پاک ایک اعتدال پسند دین ہے؛ جو ہر چیز میں میانہ روی کو پسند کرتا ہے، اسلامی نظام کوئی بے نور اور خشک نظام نہیں؛ جس میں تفریحِ طبع کی کوئی گنجائش نہ ہو؛ بلکہ وہ فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ اور فطری مقاصد کو رو بہ عمل لانے والا کامل دین ہے۔ اس میں نہ تو خود ساختہ رہبانیت وعزلت گزینی کی گنجائش ہے، نہ ہی بے کیف و بے ہنگم زندگی بسر کرنے کی اجازت۔
خوشی ومسرت کے موقع پر جائزحدود وقیود میں رہتے ہوئے تقریب منعقد کرنا اسلام میں جائز ومستحسن ہے؛ ایسی تقریب جو سنت سے ثابت ہو، اسلاف سے منقول ہو، جس میں کسی کی دل آزاری نہ ہو، کسی کے ساتھ ظلم وناانصانی نہ ہو، بے جاتکلفات نہ ہوں، غیرمعمولی اخراجات نہ ہوں، مختلف رسوم و رواج نہ ہوں؛ بلکہ فرائض و واجبات کا التزام، حقوق و آداب کا اہتمام اور ایک دوسرے کا مکمل احترام ہو۔
نکاح میں سادگی کے نمونے:
ہمارے لیے نبیؐ کی شادیاں، آپؐ کی پیاری بیٹیوں کا نکاح اور صحابہ کرام کا نکاح نمونہ ہے۔ رسول اللہؐ نے اپنی چار صاحب زادیوں کی شادی کی، ان میں سے ام کلثوم اور سیدہ رقیہؓ کو کسی قسم کا جہیز دینا ثابت نہیں ہے، البتہ سیدہ زینب کو سیدہ خدیجہؓ نے اپنا ایک ہار دیا تھا، جو جنگ بدرمیں زینبؓ نے اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع کو چھڑوانے کے لیے بطور فدیہ بھجوایا تھا، جسے رسول اللہؐ نے صحابہ کرام سے مشورے کے بعد واپس بجھوایا۔ سیدہ فاطمہؓ کو علیؓ نے مہر میں ایک ڈھال دی تھی، جسے فروخت کرکے رسولؐ نے فاطمہؓ کو گھر کا ضروری سامان پانی کا مشک، تکیہ اور چادر بنوا کردیا۔ عبد الرحمٰن ابن عوفؓ کا شمار چوٹی کے مالدار صحابہؓ میں ہوتا تھا، دولت ان پر برستی تھی، مکے سے خالی ہاتھ آئے تھے لیکن جب ان کے انصاری بھائی سعد بن ربیعؓ نے اپنا نصف مال ان کو پیش کیا تو انہوں نے ان کی اس پیشکش کو قبول کرنے سے معذرت کر لی اور دعا دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بازار کا راستہ بتا دیجیے۔ یوں انہوں نے مدینہ منورہ میں تجارت کا آغاز کیا جو کہ بعد ازاں اتنی وسعت اختیار کر گئی کہ ان کا تجارتی مال سینکڑوں اونٹوں پر لد کر باہر جاتا اور اسی طرح باہر سے آتا۔ تجارت کے علاوہ زراعت بھی وسیع پیمانے پر کیا کرتے تھے۔ عبد الرحمٰن ابن عوفؓ دولت کے ساتھ ساتھ دل کے بھی غنی تھے۔ اپنی دولت راہ خدا میں بے دریغ خرچ فرمایا کرتے تھے۔ ابن اثیر کے مطابق عبد الرحمٰن ابن عوفؓ نے دو بار چالیس چالیس ہزار دینار راہ خدا میں وقف کیے۔ ایک مرتبہ جہاد کے موقع پر پانچ سو گھوڑے اور پانچ سو اونٹ حاضر کیے۔ سورہ برأت کے نزول کے موقع پر چار ہزار درہم پیش کیے۔ ایک مرتبہ اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار میں فروخت کی اور یہ ساری رقم فقرا، اہل حاجت اور امہات المؤمنین میں تقسیم کردی۔ ایک مرتبہ شام سے تجارتی قافلہ لوٹنے پر رسول اکرمؐ کا یہ قول سنا کہ عبد الرحمٰن ابن عوفؓ جنت میں گھسٹتے ہوئے داخل ہوں گے تو پورا قافلہ راہ خدا میں وقف کر دیا۔
ابن سعد کے مطابق ایک مرتبہ عبدالرحمٰن ابن عوفؓ نے اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار میں فروخت کر کے ساری رقم امہات المؤمنین میں تقسیم کردی۔ ایک اور موقع پر ایک زمین چالیس ہزار دینار میں عثمان غنیؓ کو فروخت کرکے وہ رقم بھی راہ خدا میں وقف کر دی۔ اس کے علاوہ اپنی زندگی میں ہزاروں غلام اور لونڈیاں آزاد کیں۔ یہ عبد الرحمٰن بن عوفؓ کی دولت کا مختصر سا جائزہ ہے، جس سے بخوبی ظاہر ہے کہ وہ اپنے وقت کے کروڑ پتی آدمی تھے، اتنے بڑے رئیس نے اپنی تمام دولت و ثروت کے باوجود نکاح کیا تو اتنی سادگی سے کہ وقت کے نبی رسول اکرمؐ تک کو بھی مدعو نہیں کیا۔
جہیز:
مختلف رسوم ورواج میں صرف جہیز کی ایک رسم ہی لے لیجیے! جس کے سبب ملت کی ہزاروں بیٹیاں جوانی کی عمریں پار کررہی ہیں، ہزاروں غریب اور متوسط خاندان جہیز نہ دے سکنے کے سبب زندگی کے سکون سے محروم ہیں، جس گھر میں شادی کی لائق ایک سے زائد جوان بیٹیاں موجود ہیں، وہاں کے سرپرستوں کی رات کی نیندیں اْڑ چکی ہیں، بعض لڑکیاں شادی میں تاخیر یا شادی سے مایوس ہوکر خود کشی کر رہی ہیں، جہیز کی لعنت نے ہزاروں خاندانوں کو اْجاڑ کے رکھ دیا ہے، جہیز کے لالچی والدین نے شادی جیسے مقدس عمل کو کاروبار اور تجارت بنالیا ہے، ایک طرف تو ہم میں سے بہت سے لوگ جہیز کو لعنت سمجھتے ہیں دوسری طرف شادی کے موقع پر لڑکے کا پورا خاندان یہ ہی سوچ رہا ہوتا ہے کہ پتا نہیں لڑکی والے فلاں چیز جہیز میں دیں گے کہ نہیں دیں گے۔ اب تو لڑکی کی جسامت سے زیادہ جہیز کی جسامت لڑکی کی صورت سے زیادہ جہیز کی صورت اور لڑکی کی سیرت سے زیادہ جہیز کی قیمت دیکھی جاتی ہے۔
رسوم و رواج کا سد باب:
شادی بیاہ میں خرافات و رسومات کی افسوس ناک صورت حال کا حل بتلاتے ہوئے مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ فرماتے ہیں کہ ’’اس صورت حال کا کوئی حل اس کے سوا نہیں ہے کہ اوّل تو بااثر اور خوش حال لوگ بھی اپنی شادیوں کی تقریبات میں حتی الامکان سادگی اختیار کریں اور ہمت کرکے ان رسموں کو توڑیں جنہوں نے شادی کو ایک عذاب بنا کر رکھ دیا ہے دوسرے اگر دولت مند افراد اس طریق کار کو نہیں چھوڑتے تو کم از کم محدود آمدنی والے افراد یہ طے کرلیں دولت مندوں کی حرص میں اپنا پیسہ اور توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے اپنی چادر کے مطابق پاؤں پھیلائیں گے اور اپنی استطاعت کے حدود سے آگے نہیں بڑھیں گے۔
اس سلسلے میں اگر ہم مندرجہ ذیل باتوں کا خاص اہتمام کرلیں تو امید ہے کہ مذکورہ خرابیوں میں ان شاء اللہ نمایاں کمی واقع ہوگی۔
خاص نکاح اور ولیمے کی تقریبات کے علاوہ جو تقریبات منگنی، مہندی، ابٹن اور چوتھی وغیرہ کے نام سے رواج پاگئی ہیں ان کو یکسر ختم کیا جائے اور یہ طے کرلیا جائے کہ ہماری شادیوں میں یہ تقریبات نہیں ہوں گی، فریقین اگر واقعی محبت اور خوش دلی سے ایک دوسرے کو کوئی تحفہ دینا یا بھیجنا چاہتے ہیں وہ کسی باقاعدہ تقریب اور لاؤ لشکر کے بغیر سادگی سے پیش کردیں گے۔اظہار مسرت کے کسی بھی مخصوص طریقے کو لازمی اور ضروری نہ سمجھا جائے بلکہ ہر شخص اپنے حالات اور وسائل کے مطابق بے تکلفی سے جو طرز عمل اختیار کرنا چاہے کرلے نہ وہ خود کسی کی حرص کا شکار یا رسموں کا پابند ہو نہ دوسرے اسے مطعون کریں۔
نکاح اور ولیمے کی تقریبات بھی حتی الامکان سادگی سے اپنے وسائل کی حد میں رہتے ہوئے منعقد کی جائیں اور صاحب تقریب کا یہ حق تسلیم کیا جائے کہ وہ اپنے خاندانی یا مالی حالات کے مطابق جس کو چاہے دعوت دے اور جس کو چاہے دعوت نہ دیں، اس معاملے میں بھی کسی کوئی سنجیدہ شکایت نہیں ہونی چاہیے۔
آخری بات:
شادی بیاہ کے معاملات میں اسراف کے بجائے بہترین انسانی اقدار اور مفید معاشرتی رویوں پر زیادہ سے زیادہ زور دینا چاہیے، بے جا رسوم کا بوجھ دلہن والوں پر ہو نہ دولہے والوں پر، مہمان پر ہو نہ میزبان پر۔ تقریبات میں سادگی، متانت اور شائستگی کا پہلو نمایاں ہو، بزرگوں کی ہدایات کا احترام کیا جائے اور بچوں کے تقاضوں کو خوش اسلوبی سے سلجھایا جائے۔ ایسی ہی باتوں پر عملدرآمد سے ایک ایسے معاشرے کے خواب کو حقیقت میں بدلا جاسکتا ہے جہاں کے افراد پریشانیوں، اْلجھنوں اور ذہنی تناؤ سے محفوظ و مامون ہوں۔ زندگی کے تقاضے بہت سادہ ہیں، فطرت سادگی پسند ہے؛ لیکن ہم لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگیاں مشکل بناتے اور فطرت کو آلودہ کرتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ