افکار سید ابوالاعلی مودودیؒ 

100
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

یہ کام کاروبار نہیں ہے
جو شخص میرے اور جماعت اسلامی کے اس کام کو میرا اور جماعت کا کوئی ذاتی ’کاروبار‘ سمجھتا ہو اور اس میں بطورِ احسان ہاتھ بٹانے آرہا ہو تو وہ سخت گناہ گار ہے۔ کیوں کہ دین کے نام سے کاروبار کرنا اور اس کاروبار میں حصہ لینا وہ بدترین تجارت ہے، جس سے زیادہ خسارے کا سودا شاید ہی کوئی ہو۔ کسی نے اگر آج تک یہ سمجھتے ہوئے ہماری تائید کی ہے، تو اب اسے توبہ کرنی چاہیے اور فوراً اس تائید سے دست کش ہوجانا چاہیے۔
لیکن، اگر کوئی ہمارے اس کام کو خالصتاً للہ دین کا کام سمجھ کر ہماری تائید کرنے آتا ہے تو اس کے اور ہمارے درمیان جو معاملہ بھی ہوگا، خالص حق پرستی کی بنیاد پر ہوگا۔ نہ ہم اس سے کوئی مطالبہ حق کے خلاف کرسکتے ہیں اور نہ وہ ہم سے خلافِ حق کوئی مطالبہ کرسکتا ہے۔
کسی (فرد) کے پاس اگر اس مطالبے کے لیے کوئی دلیل ہو کہ: ’’دْنیا میں اور جو بھی دینی تصوّرات اور اصولوں کے خلاف کوئی کام کرے اس کی تو خبر لے ڈالو، مگر ہمارے حضرتوں میں سے کوئی یہ کام کرے تو اس پر دم نہ مارو‘‘، تو وہ براہِ کرم اپنی دلیل پیش کرے۔ ہم بھی غور کریں گے کہ قرآن، حدیث یا سلف صالحین کے اسوے میں اس دلیل کا کوئی مقام ہے یا نہیں۔
اور اگر ایسی کوئی دلیل اس (فرد) کے پاس نہیں ہے تو ہم صاف کہتے ہیں کہ اس کا یہ مطالبہ ماننے کے لیے ہم تیار نہیں ہیں۔ اس طرح کی شرطیں لے کر جو لوگ خدا کا کام کرنے کے لیے ہمارے ساتھ آئیں، وہ ہمارے لیے سببِ قوت نہیں بلکہ سراسر سببِ ضعف ہیں۔ ایسے لوگ دْنیا میں کبھی حق قائم نہیں کرسکتے۔ وہ سب بیک وقت ہماری تائید سے دست کش ہوجائیں تو ہم اللہ کا شکر کریں گے۔ (ترجمان القرآن، اگست1957ء(
*۔۔۔*۔۔۔*
نزاعی اْمور میں فیصلہ سازی
قرآن تین اصولی ہدایات دیتا ہے: اوّل یہ کہ ’’اگر تم علم نہیں رکھتے تو اہل الذکر سے پوچھ لو‘‘ (النحل، رکوع6، الانبیاء، رکوع 1)۔ اس آیت میں ’اہل الذکر‘ کا لفظ بہت معنی خیز ہے۔ ’ذکر‘ کا لفظ قرآن کی اصطلاح میں مخصوص طور پر اْس سبق کے لیے استعمال ہوا ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ نے کسی اْمت کو دیا ہو، اور ’اہل الذکر‘ صرف وہ لوگ ہیں، جنھیں یہ سبق یاد ہو۔ اس لفظ سے محض علم (knowledge) مراد نہیں لیا جاسکتا، بلکہ اس کا اطلاق لازماً علمِ کتاب و سنت ہی پر ہوسکتا ہے۔ لہٰذا، یہ آیت فیصلہ کرتی ہے کہ معاشرے میں مرجعیت کا مقام اْن لوگوں کو حاصل ہونا چاہیے، جو کتابِ الٰہی کا علم رکھتے ہوں اور اْس طریقے سے باخبر ہوں جس پر چلنے کی تعلیم اللہ کے رسولؐ نے دی ہے۔
دوم یہ کہ ’’اور جب کبھی امن یا خوف سے تعلق رکھنے والا کوئی اہم معاملہ ان کو پیش آتا ہے تو وہ اس کو پھیلا دیتے ہیں
حالاں کہ اگر وہ اس کو رسولؐ تک اور اپنے اْولی الامر تک پہنچاتے تو اس کی کنہ جان لیتے، وہ لوگ جو ان کے درمیان اس کی کنہ نکال لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔ (النساء83) اس سے معلوم ہوا کہ معاشرے کو پیش آنے والے اہم معاملات میں، خواہ وہ امن کی حالت سے تعلق رکھتے ہوں یا جنگ کی حالت سے، غیراندیش ناک نوعیت کے ہوں یا اندیش ناک نوعیت کے، ان میں صرف وہی لوگ مرجع ہوسکتے ہیں جو مسلمانوں کے درمیان اْولی الامر ہوں، یعنی جن پر اجتماعی معاملات کو چلانے کی ذمے داری عائد ہوتی ہو، اور جو’استنباط‘ کی صلاحیت رکھتے ہوں، اور کتاب اللہ و طریقِ رسول اللہؐ سے بھی دریافت کرسکتے ہوں کہ اس طرح کی صورتِ حال میں کیا کرنا چاہیے۔ یہ آیت اجتماعی مہمات اور معاشرے کے لیے عام اہل الذکر کے بجاے ان لوگوں کو مرجع قرار دیتی ہے جو اْولی الامر ہوں۔
سوم یہ کہ ’’ان کا کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے‘‘۔ (الشوریٰ38) یہ آیت بتاتی ہے کہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا آخری فیصلہ کس طرح ہونا چاہیے۔
ان تین اصولوں کی عملی صورت یہ سامنے آتی ہے کہ لوگوں کو اپنی زندگی میں عموماً جو مسائل پیش آئیں ان میں وہ ’اہل الذکر‘ سے رجوع کریں۔ رہے مملکت اور معاشرے کے لیے اہمیت رکھنے والے مسائل، تو وہ اْولی الامر کے سامنے لائے جائیں، اور وہ باہمی مشاورت سے یہ تحقیق کرنے کی کوشش کریں کہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہؐ کی رْو سے کیا چیز زیادہ سے زیادہ قرین حق و صواب ہے۔ (ترجمان القرآن، اپریل 1958ء)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ