چنیدہ و پسندیدہ

105

نعمتِ استرجاع
استرجاع یعنی انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا امت محمدیہ کے لیے ایک خاص انعام ہے۔ حضور اکرمؐ ارشاد فرماتے ہیں کہ میری امت کو ایک چیز دی گئی ہے جو کسی امت کو نہیں دی گئی سابقہ امتوں میں سے، اور وہ یہ کہ مصیبت کے وقت تم انا للہ وانا الیہ راجعون کہو۔ اور اگر کسی کو یہ استرجاع دیا جاتا تو حضرت یعقوب ؑ کو دیا جاتا جس وقت کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی جدائی میں فرمایا تھا: (یا اسفیٰ علی یوسف) ہائے افسوس یوسف پر! ( روح کی بیماریاں اور ان کا علاج)
فضائلِ استرجاع
رسول اللہؐ کا فرمان ہے اگر جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو اس معمولی تکلیف پر بھی انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھو ۔ یہ بھی ایک مصیبت ہے اور اس پر بھی ثواب ملے گا ۔ اور آپؐ نے فرمایا: جو بات ناگوار گزرے وہ بھی مصیبت ہے اور اس پر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا ثواب ہے ۔
سنتِ استرجاع کی تکمیل
علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں: مسنون یہ ہے کہ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے کے بعد یہ کہے: اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا ’’اے اللہ! مجھے اجر عطا فرما، میری مصیبت میں اور اس سے بہتر کوئی نعمت مجھے عطا فرما۔‘‘
حضرت ام سلمہؓ کہتی ہیں کہ میں نے سنا کہ حضورؐ فرماتے ہیں کہ کسی بندے کو مصیبت پہنچے اور وہ یہ دعا پڑھ لے، یعنی انا للہ و انا الیہ راجعون، اللھم اجرنی فی مصیبتی و اخلف لی خیرا منھا، تو اللہ تعالیٰ اس کو اجر عطا فرماتے ہیں اور اس سے بہتر نعمت عطا فرماتے ہیں۔ پس جب حضرت ابو سلمہؓ (ان کے شوہر) کی وفات ہوئی تو انہوں نے اس کو پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے ان سے بہتر عطا فرمایا۔ یعنی حضورؐ سے نکاح ہوا۔ ( روح کی بیماریاں، اور ان کا علاج)
انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا اسی امت کا خاصا ہے
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ مصیبت پر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا اسی امت کو تعلیم ہوا ہے کسی اور کو ملا ہوتا تو حضرت یعقوبؑ کو ضرور عطا ہوتا۔
آپ نے (یا اسفیٰ علی یوسف) ہائے افسوس یوسف پر! فرمایا ہے: انا للہ نہیں پڑھا۔
سعید بن مسیبت سیدنا عمرؓ سے نقل فرماتے ہیں کہ انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنے پر دو اجر بھی بہت اچھے ہیں اور علاوہ بھی بہت اچھا ہے۔ (اولئک علیھم صلوات من ربھم ورحمۃ) یہ دو اجر اور بدل ہیں۔ (اولئک ھم المھتدون) یہ زائد اور علاوہ ہے۔ (مصائب اور ان کا علاج)
صبر کرنے والے کے لیے بشارت
مسند احمد میں حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: جس کسی مسلمان کو رنج ومصیبت پہنچے اور اس پر زیادہ وقت گزر جائے پھر اسے یاد آئے اور وہ ’’انا للہ‘‘ پڑھے تو مصیبت میں صبر کے وقت جو اجر ملا تھا وہی اب بھی ملے گا۔
ابن ماجہ میں ہے: حضرت ابو سنانؓ فرماتے ہیں: میں نے اپنے ایک بچے کو دفن کیا، ابھی میں اس کی قبر میں سے نکلا نہ تھا کہ ابو طلحہ خولانی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نکالا اور کہا: سنو! تمہیں ایک خوشخبری سناؤں، رسول اللہؐ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک الموت سے دریافت فرماتا ہے کہ تو نے میرے بندے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کے کلیجے کا ٹکڑا چھین لیا۔ بتا اس نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں: یااللہ! اس نے تیری تعریف کی اور انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کانام ’’بیت الحمد‘‘ رکھو۔ (تفسیر ابن کثیر، ج:1)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ