انوکھے جنگی ہتھیار

118

سائنس ڈیسک
لڑائی اور جنگ وجدل کے عادی حضرت انسان نے ہردور میں ایک دوسرے پر فتح حاصل کرنے کے لیے دوسروں سے بڑھ کر جنگی سازو سامان مہیا کرنے کی روش اختیار کیے رکھی۔ آج کے سائنسی اور ٹیکنالوجی کے انقلاب کے دور میں بھی انسان سامان حرب وضرب اور لڑائی کے عجیب وغریب طریقے کیوں کر اختیار نہیں کرے گا۔ بلا شبہ بعض جنگی ہتھیار خوف طاری کردینے والے ہوتے ہیں مگربعض ہتھیاروں کے بارے میں جان کر بے ساختی آپ کی ہنسی چھوٹ جائے گی۔
’Live Science‘ ویب سائٹ نے عصر حاضرکے ایسے ہی دلچسپ اور حیران کن جنگی آلات اور جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں پر روشنی ڈالی ہے۔
روبوٹ کُتے
جنگ میں زندہ کتوں کا استعمال پرانا ہے مگر اس میں ایک نیا اضافہ ’مشینی کتوں‘ یا ’روبوٹ کتے‘ ہیں۔ زندہ کتے بھی دھماکا خیز مواد سونگھ کر اس کی نشاندہی کرنے میں مدد کرتے ہیں مگر ’روبوٹ‘ کتوں سے بھی یہی کام لیا جاتا ہے۔ امریکی فوج نے’Boston Dynamics‘ کمپنی کے تیار کردہ ’روبوٹ‘ کتے افغانستان کی جنگ میں استعمال کیے۔ اگرچہ یہ بہت آہستہ چلتے ہیں۔ مگریہ بھاری بوجھ اٹھانے کا کام بھی کرتے ہیں۔
بہ ظاہردیکھنےمیں یہ مشینی کتا مکھیوں کا ’جھنڈ‘ دکھائی دیتا ہے۔ مگریہ بہت آہستہ چلتا ہے۔ اس کا حجم بھی کافی بڑا ہوتا ہے جو خطرے کی صورت میں بھاگ کر محفوظ جگہ نہیں پہنچ سکتا اور نہ ہی چھپ سکتا ہے۔ روبوٹ کتا 45 کلو گرام تک وزن اٹھا کر چل سکتا ہے۔ اگر فوج کے پاس یہ کتاب موجود ہے تو یہ مال برداری بھی کرے گا۔ فوجیوں کو سامان خود اٹھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
2015ء میں جب امریکی فوج نے اسے استعمال کرنے کا تجربہ کیا تو وہ بہت زیادہ خوش اس لیے نہیں تھی کہ بڑے حجم کا ہونے کے ساتھ چلتے ہوئے شور مچاتا ہے جس سے فوج کی جگہ کی نشاندہی میں مدد مل سکتی ہے۔
لیزر نبضی گولہ
عصر حاضر کے جدید ترین جنگی ہتھیاروں میں’لیزر نبضی توانائی والا گولہ‘ بھی شامل ہے۔ ’گلوبل سیکورٹی ڈاٹ او آر جی‘ ویب سائٹ کے مطابق لیزر نبضی گولے کو ہدف پر حملے کے لیے استعمال کیاجاتا ہے جو پلازما کی مدد سے دھماکا کرتا ہے۔ اس دھماکے سے ایک روشنی پیدا ہوتی جو مطلوبہ شخص کی نشاندہی کرتی۔ ساتھ ہی اس سے نکلنے والی شعاعیں مطلوبہ شخص کے اعصاب پرحملہ کرکے اسے شدید تکلیف سےدوچار کرتی ہیں جو بعد ازاں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
ڈولفن فوجی
جنگ میں حیوانات کا استعمال بہ کثرت اگر کسی نے کیا ہے تو وہ سابق سوویت یونین ہے۔ مگرسوویت یونین کے بعد بھی جانوروں کو جنگی مقاصد کے لیے حیران کن انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
گزشتہ برس 1960ء کی دھائی میں ڈولفن کو فوجی مشن کے لیے تربیت دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ انہیں سمندر کی گہرائیوں میں بارودی اور دھماکا خیز مواد کی نشاندہی اور سمندر میں موجود جوہری ہتھیارں کی تلاش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اگرچہ ڈولفن خود براہ راست جنگ میں حصہ نہیں لے سکتی اور نہ ہی اسلحہ اٹھا کر کسی انسان کو قتل کرسکتی ہے مگر سمندر میں موجود خطرناک مواد کی نشاندہی کے لیے اسے امریکا اور کئی دوسرے ممالک بھی تربیت دے رہے ہیں۔
مرغی جوہری ہتھیار
سرد جنگ کے دوران برطانوی حکومت نے 7ٹن وزنی ایک نیا جوہری ہتھیار تیار کیا جسے ’Blue Peacock‘ یعنی نیلا مور کا نام دیا گیا۔ اسے جرمنی میں مختلف مقامات پر گاڑا گیا تاکہ مشرق کی سمت میں سوویت یونین داخل ہو تو اس مرغی نما اسلحہ کے ذریعے دھماکے کیے جائیں۔
تاہم اس میں مشکل وہاں کا سرد موسم تھا۔ کیونکہ شدید سردی میں اس کا دھماکا مشکل ہوجاتا۔ اس کے لیے مرغی کی مدد سے فائبر گلاس کا مواد شامل کرنے کی تجویز دی گئی جس کے نتیجے میں دھماکا خیز جوہری مواد کو گرم رکھنے میں مدد ملنا تھی۔ یہ مواد مرغی کے ذریعے جوہری اسلحہ کے اندر رکھا جاتا۔ مرغی کو ایک ہفتے کی آکسیجن، پانی اور خوراک فراہم کی جاتی۔
موت سےہم کنار نہ ہونے والے فوجی
معاصر حیران کن ہتھیاروں کی تیاری میں امریکا پیش پیش رہا ہے۔ امریکی دفاع ایجنسی ’DARPA‘ نے طویل عرصے سے ایسے مشینی سپاہی تیار کرنے کے مختلف پروگراموں پر کام شروع کیے رکھا جو میدان میں دشمن کے حملوں سے محفوظ رہیں۔ ہر طرح کے موسمی حالات میں لڑنے کی صلاحیت کے حامل ایسے مشینی انسان تیار کیے جائیں جو کسی بھی حملے کو سہ سکیں مگر ان کی کار کردگی پر کوئی اثر ن پڑے۔
مشینی آلات کے ساتھ امریکی کمپنی نے ’Inner Armor‘کے نام سے ایک نیا پروجیکٹ شروع کیا جس میں بعض جانوروں بالخصوص سمندری کتے اور دریائی بچھڑے کے جینز میں تبدیلی کے ذریعے آکسیجن کی کمی کے باوجود پانی میں گہرائی میں رکھنے کے قابل بنانا یا انہیں گیسی اور کیمیائی ہتھیاروں سے محفوظ رہنے کے قابل بنانا تھا۔
اس پروجیکٹ کا مقصد فوجیوں کے اعصاب مضبوط بنا اور انہیں وٹامنز کے ذریعے حملوں سے محفوظ رہنے کے قابل بنانا تھا۔
ہذیانی کیفیت پیدا کرنے والا گولہ
گزشتہ صدی کے وسط میں امریکی مرکزی انٹیلی جنس نے ایسے ہتھیاروں کی تیاری پر غور شروع کیا جو دشمن کو جان سے مارنے کے بجائے کچھ دیر کے لیے ان کے حواس کو مفلوج کرے یا اسے ایسے نفسیاتی عارضے سے دوچار کرے تاکہ وہ لڑنا چھوڑ دے۔ اس سلسلے میں ’MK Ultra‘ پروگرام شروع کیا گیا۔ یہ ایک ایسا گولہ تھا جس کے پھٹنے سے دشمن فوجی ہلاک یا زخمی تو نہیں ہوتے تاہم ان میں ہذیانی کیفیت ضرور پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کی تیاری میں hallucinogen 3-quinuclidinyl benzilate. نامی مواد شامل کیا گیا۔
ایک امریکی فوجی جس پر اس گولے کا تجربہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ اسے دھماکے کے اثرات کے طور پر عجیب وغریب خواب دکھائی دینے لگے۔ جسم میں بے چینی، کسی ایک چیز پر توجہ کا فقدان اور سردرد جیسے مسائل کا سامناکرنا پڑا۔ بعد ازاں یہ پروگرام اس لیے منسوخ کردیاگیا کیونکہ اسے جنگ میں استعمال کے حوالے سے ناقابل اعتبار ہتھیار قرار دیا گیا تھا۔
سرچ لائیٹ اور پستول
شمالی کوریا کے جاسوس جیمز بونڈ کی خیالی فلموں میں پیش کیے گئے فرضی ہتھیاروں سے کافی متاثر لگتے ہیں۔
جب جنوبی کوریا نے معروف سماجی کارکن بارک سانگ ھاک کے قتل میں ملوث شمالی کوریائی قاتل گینگ کو پکڑا تو ان کے قبضے سے چھوٹے چھوٹے ہتھیار برآمد ہوئے۔ امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق ان کے قبضے سے سیاہی کے قلم، تین منہ والی دستی لائیٹ جس کے اندر پستول نصب تھی۔ جنوبی کوریا کے انٹیلی جنس اہلکار بھی ان ہتھیاروں سے دھوکا کھا گئے تھے۔
جسم کو غائب کردینے والا یونیفارم
2016ء میں امریکی حکومت نے سائنسدانوں اور اسلحہ ساز کمپنیوں کو ہدایت کی کہ وہ ایک ایسا یونی فارم تیار کریں جس کے پہننے کے بعد اسے پہننے والا دکھائی نہ دے سکے۔ فی الحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا یہ منصوبہ کہاں تک پہنچا ہے، عجب نہیں کہ سائنسدان جلد کوئی ایسا لباس تیار کرنےمیں کامیاب ہوجائیں۔
2006ء میں سائنسدانوں نے انکشاف کیاتھا کہ روشنی کو موڑ کر مصنوعی چیزوں یا متعین مواد کو چھپایا جاسکتا ہے۔ اسے ’میٹا میٹریل‘ کا نام دیا گیا۔ 2015ء میں ایک سائنسدان نے دعویٰ کیا کہ اس نے ’سیرامیک‘ نامی ایک مواد تیار کیا ہے جو کسی بھی ٹھوس جسامت والی چیز کو چھپا سکتا ہے۔
تکلیف دہ شعائیں
حیران کن ہتھیاروں میں ’شدید تکلیف اور درد‘ سے دوچار کرنے والی شعاعوں کی تیاری بھی شامل ہے۔ امریکی فوج نے اس ہتھیار کو جدید خطوط پر تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ ایک ایسا غیرمہلک ہتھیار ہے جو انسانی جسم کی سرگرمی کو معطل کرسکتا ہے۔ تکلیف دینے والی شاعوں کے پڑنے سے متاثرہ شخص شدید تکلیف سے دوچار ہوتا ہے۔ ان شعاعوں کا ہدف بننے والے افراد کی جلد کی نسیں شدید گرمی اور جلن محسوس کرتی ہیں۔ ان ہتھیاروں کا مقصد مشکوک افراد کو جان سے مارنے کے بجائے انہیں فوجی اڈوں سے دور رکھنا ہے۔
’ABC7‘ٹی وی نیٹ ورک کے مطابق 2012ء میں تکلیف دینے والی شعاعوں کا لاس اینجلس میں قیدیوں پرتجربہ کیا گیا۔ Pain Ray کو ہجوم کو منتشر کرنے، مظاہرین کو ہٹانے یا قیدیوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کو روکنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ