معذور افراد معاشرے پر بوجھ نہیں ، اچھی دیکھ بھال کی ضرورت ہے

74

نواب شاہ (نمائندہ جسارت) معذور افراد معاشرے پر بوجھ نہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی مکمل دیکھ بھال اور صحیح علاج کرایا جائے تاکہ یہ آگے چل کر ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ ان خیالات کا اظہار بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سندھ کے ڈائریکٹر محمد رفیق بلر نے نواب شاہ ڈس ایبلٹی فورم کے زیر اہتمام معذور بچوں کے مفت علاج کے سینٹر میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حامل خواتین میں غربت بے انتہا ہے اور ایسے گھرانوں میں اگر معذور بچے ہوں اور ان کے والدین علاج کے قابل بھی نہ ہوں یہ بڑا المیہ ہوتا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر این ڈی ایف عابد لاشاری نے کہا کہ ہماری تنظیم نے انتہائی غریب گھرانوں کے ایسے بچے جو معذور ہیں اور علاج معالجہ نہ ہونے کے باعث ان کی ساری زندگی محتاجی میں بسر ہوجاتی ہے کے لیے مفت علاج، کھانا اور رہائش کا بندوبست کیا ہے۔ اس سلسلے میں این ڈی ایف نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حامل سکھر، لاڑکانہ اور بینظیر آباد ڈویژن کا سروے کرکے غریب گھرانوں کے 47 معذور بچوں کا مفت چیک اپ کیا اور ان میں سے 43 ایسے بچے جو علاج کے بعد تندرست ہوجائیں گے کو منتخب کرکے این ڈی ایف سینٹر منتقل کیا گیا جہاں ان کا مکمل طور پر مفت علاج جس میں ادویات، فزیو تھراپی، سائیکوتھراپی، اسپیچ تھراپی اور دیگر علاج کیا جائے گا جبکہ انہیں مفت کھانا پینا اور رہائش بھی مہیا کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے سینٹر میں دو سو بچے داخل ہیں جن کا علاج معالجہ، ادویات مفت فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کا مقصدایسے معذور بچے جن کا علاج ممکن ہے اور علاج سے وہ عام شہری بن سکیں گے تاہم غربت کے باعث ان کے والدین علاج کرانے سے قاصر ہوتے ہیں کو منتخب کرکے مفت علاج کیا جاتا ہے تاکہ ایسے معذور بچے معاشرے پر بوجھ بننے کے بجائے ایک اچھے شہر ی بن کرملک و قوم کی باگ دوڑ سنبھال سکیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ