نئی حکومت زرعی پالیسیوں میں انقلابی تبدیلیاں لائے، کسان بورڈ

62

فیصل آباد (وقائع نگار خصوصی) کسان بورڈکے ڈویژنل صدر علی احمدگورایہ نے نئی حکومت سے زرعی پالیسیوں میں انقلابی تبدلیوں کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے نو منتخب وزیراعظم کے لٹیروں کے کڑے احتساب کے بیان کو خوش آئندقراردیتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم کو سب سے پہلے کسانوں کے اربوں روپے لوٹنے والی شوگرملوں کا احتساب کرنا چاہیے زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت کی ماند ہے جسے سابقہ حکمرانوں نے زندہ درگور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن کسان ہر حالات میں اسے سنبھالا دینے میں کوشاں رہے آج کسانوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے ہم نئی آنے والی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شعبہ زراعت کے لیے نمایاں اور مثبت پالیساں مرتب کریاس سے وابستہ ملک کی 70 فیصد آبادی کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ زراعت کے شعبہ کی ترقی ہی ملک و قوم کی ترقی میں مضمر ہے۔انہوں نے کہاکہ زرعی مداخل کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ اور پرائس کنٹرول پر کسی بھی قسم کا چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے جہاں زرعی اجناس کی قیمتیں بڑھیں گی وہیں مہنگائی کی شرح میں اضافہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی اضافی زرعی اجناس کو بین الاقوامی منڈیوں میں فروخت کرنے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے دیگر ممالک کی زرعی اجناس سستی ہونے کے باعث کوئی بھی پاکستان کی مہنگی زرعی اجناس نہیں خریدرہا جس سے نہ صرف اربوں روپے کی زرعی اجناس ضائع ہورہے ہیں بلکہ پاکستان بھی قیمتی زر مبادلہ سے محروم ہو کر معاشی عدم استحکام کا شکار ہو رہاہے۔انہوں کہاکہ بھارت، بنگلا دیش اور دیگر ہمسایہ ممالک میں زرعی اجناس کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے کھاد، بیج،زرعی آلات، ایگریکلچرل مشینری اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے جس کے برعکس پاکستان میں ان اشیا کی قیمتیں ہر روز بڑھائی جا رہی ہیں۔جبکہ جعلی زرعی ادویات اور جعلی کھادوں کی تیاری و فروخت بھی عروج پر ہے لیکن متعلقہ ادارے اس بااثر مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں جس سے پہلے ہی بربادی کا شکار ملکی زراعت مزید تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت زراعت کے شعبہ کو تباہی سے بچانے کے لیے زرعی ٹیوب ویلوں پر سبسڈی جاری رکھنے اور زرعی مداخل سستے کرنے کے لیے فوری اقدامات یقینی بنائے تاکہ زرعی سیکٹر زیادہ سے زیادہ ترقی کر سکے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ