پاکستان ہماری شناخت ہے

49

میرے خوابوں کے پاکستان میں قانون سب کے لیے یکساں ہو گا ۔ امن و سکون ہو گا ۔ کوئی بھوکا نہ ہو ئے گا
مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین خوابوں کے پاکستان کے بارے میں بتاتی ہیں

سروے/راحت نسیم

محترمہ غزالہ تبسم صاحبہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج راولپنڈی میں ایسو سی ایٹ پروفیسر ہیں ۔ آپ نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح سے کیا ۔
1۔ پاکستان اللہ کی عطا کردہ نعمت، میری شناخت اور میرا گھر ہے ۔
2۔ میرے خوابوں کا پاکستان ایک جدید فلاحی ریاست ، جس کے لوگ با اخلاق ، تعلیم یافتہ اور صحت مند ہوں ۔
3۔تعلیم کے نظام کی تبدیلی اور قانون کے نظام کی بالا دستی۔
4۔ اس پاکستان کے لیے اپنے حصے کی شمع جلائے رکھوں گی ۔
نزہت صادق جن کا قلمی نام نور صادق ہے ۔پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کرنے کے بعد اسلام آباد میں اسکول ٹیچر ہیں۔ان کی رائے میں۔
1۔ پاکستان سے رشتہ ایسا کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں جیسے خونی رشتوں کے بناء نہیں رہا جا سکتا ۔ اسی طرح پاکستان کے بنا بھی نہیں

 


2۔ ایسا پاکستان جس میں سب سے امن اور محبت سے رہیں ۔ ایک دوسرے کی عزت کو اہم جانیں ۔ دھوکے اور بے ایمانی سے پاک پاکستان
3۔یہاں اسلامی قانون کا بول بالا ہو ۔ اور دین و دنیا کی تعلیم دونوں کو انسانی فلاح کے لیے سیکھنے اور سکھانے پر خاص توجہ دی جائے ۔
4 ۔ آئندہ نسلوں کو ان کی زندگی کے مقاصد کے بارے میں راہنمائی دوں گی ۔ا ن شاء اللہ ایک معلمہ ہونے کے ناطے بچوں کو دنیاوی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ؐ سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہوں ۔
ہم نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج سے ریٹائرڈ ایسو سی ایٹ پروفیسر آف بیالوجی محترمہ فرحت نعیمہ صاحبہ سے بھی اس سلسلے میں بات کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ۔
1۔ پاکستان سے میرا رشتہ وہی رشتہ ہے جو رگ و جان سے بھی قریب ہوتا ہے ۔ زمین کا نہیں اور صرف گھر کا بھی نہیں ۔ نظریے کا رشتہ ، پاکستان سے رشتہ کیا لاا لہ الا اللہ۔
2۔ میرے خوابوں کا پاکستان ۔ اسلامی پاکستان ۔ نظریے کی بنیاد پر مضبوط ۔ نہ جھکنے والا ۔ نہ بکنے والا ۔خود کفیل ۔ صحت مند ، خوشحال ، جدید تعلیم اور سائنس کے ذریعے ترقی یافتہ۔ سیکولر ازم سے پاک ، راگ موسیقی اور بے حیائی سے پاک پاکستان
3۔تبدیلی ۔نظام تعلیم میں انقلابی تبدیلی ، تاکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان نسل ہو ۔ مگر نہایت با کردر ۔ اسلامی تہذیب یافتہ بچوں کی اچھی اسلامی تربیت کرنے والی سچی مسلمان مائیں میڈیا کے کردار میں انقلابی تبدیلی ۔ کہ افراد خصوصاً نوجوان اور خواتین انے جوہر کو ناچ گانے میں ضائع نہ کریں ۔
4۔ اپنی نسلوں کو اپنے خواب جیسا پاکستان دینا چاہتی ہوں اور اس کے لیے پاکستان کی بچیوں کو نیک تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ مائیں بنانے کا عزم رکھا ہے ۔ اپنی شعوری زندگی کے آغاز سے اس مشن کی تکمیل کے لیے کوشاں ہوں ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنی تحریروں اور لیکچرز کے ذریعے زندگی کے اسلامی آداب اور تعلیم و تربیت کاعزم ہے ۔ دعا فرمایے ۔ اپنے حصے کا قطرہ دریا بننے کے لیے جمع کرا سکوں ۔ اور توشہ آخرت بھی بن سکے( آمین)
ملتان سے ہومیو پیتھک ڈاکٹر، آٹھ کتابوں کی مصنفہ اور سوشل میڈیا کی پسندیدہ لکھاری بشریٰ تسنیم صاحبہ نے بھی اپنے خوبصورت خیالات سے ہمیں نوازا
1۔ پاکستان سے رشتہ مجھے والدین نے ہی سمجھایا تھا کہ جنہوں نے اس مدینہ ثانی کے لیے جان مال عزت و آبرو قربان کی ہے ۔ اس سے دین کا رشتہ ہے ۔ اور جان کی قربانیوں(خون) کا رشتہ ہے ۔ اور جس میں عزت محبت وابستہ ہے ۔ ہمارا یہی حسب نسب ہے۔
2 جس طرح صحابہ نے اسلامی ریاست مدینہ کی طرف حسین خواب سجائے ، ہجرت کی تھی ۔ ویسے ہی خواب ہمارے باپ دادا ، والدین نے ہماری آنکھوں میں ایسے سجائے کہ آنکھیں ان کی تعبیر کی منتظر ہیں ۔
3۔ تبدیلی کے لیے نظام تعلیم ایک ہی ہو وہ مدارس ہوں ، یا دیگر ادارے امیر کا بچہ ہو یا غریب کا اور سرکاری مراعات کے شاہانہ طرز عمل کو غیر قانونی قراردیا جائے۔
4 اپنی نسلوں کو واقعی ’’ پاک ستان‘‘ دینا چاہتی ہوں ۔ اس کے لیے میرا عزم ہے کہ نئی نسل کی ذہن سازی لٹریچر اور اپنے عمل کے ذریعے کی جانی چاہیے ۔
شگفتہ کنول صاحبہ اسلامی یونیورسٹی سے ایم ۔ اے انگلش کرنے کے بعد درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔
1۔ پاکستان سے میرا رشتہ ایک محب وطن پاکستانی کا ہے۔ میرے آبائو اجدادہجرت کر کے اپنا سب کچھ قربان کر کے آئے تھے ۔ اپنے وطن کے لیے بہت جزباتی ہوں۔
2 ۔ میرے خوابوںکا پاکستان ایک خوشحال اسلامی پاکستان ۔ جس میں دین کے تقاضوں کو پورا کیا جائے ۔ برائی کے مواقع باآسانی میسر نہ ہوں ۔ کہ ہم اپنے بچوں کوباہر بھیجتے ہوئے خوف محسوس نہ کریں ۔ ریاست کی طرف سے اسلامی قوانین کا نفاذ ہو ۔
3۔ اپنے خوابوں کا پاکستان حاصل کرنے کے لیے پاکستان کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دینا چاہتی ہوں ۔ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں ۔ا ور دین کا شعور بھی رکھتے ہوں ۔ جو سچے ایماندار اور با عمل مسلمان ہوں ۔ ملکی و بین الاقوامی ، سیاسی معاملات کو اچھے طریقے سے نبھا سکیں ۔
گورنمنٹ کالج برائے خواتین مری سے باٹنی کی پروفیسر مسز انیسہ احمد نے مختصر اور جامع الفاظ میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ۔
1۔پاکستان زمین پر میری جنت ہے ۔
2۔کرپشن سے پاک اور جہاں قوانین کا نفاذ 100%ہو ۔
3۔ میں نظام بدلنا چاہتی ہوں ۔ خصوصاً عدلیہ کا نظام اور ہر پاکستانی دوسرے کو الزام دینے سے پہلے اپنی غلطی تسلیم کرے ۔
4۔غربت سے پاک ایک پر امن ملک ۔ میں اپنے طلبا میں مثبت سوچ ۔ ایمانداری اور اخلاص پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہوں ۔
عطیہ جمیل صاحبہ نے ایم انگلش ،ا یم ایس سی ، بیالوجی کرنے کے بعد بی ایڈ کیا ۔ آپ کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ آپ کی رائے میں ۔
1۔ پاکستان سے میرا رشتہ ایک محب وطن اور اس کی خاطر جان تک قربان کرنے والی خاتون کا ہے ۔
2۔ میرے خوابوں کا دیس ایسا ہے ۔ جہاں امن و سکون ا دور دورہ ہو ۔ ہر طرف خوشحالی ہو اور غریب مزدوروں کی زندگی پریشانیوں سے پاک ہو ۔
3۔ پاکستان میں یہ تبدیلی لانا چاہتی ہوں کہ یہ کلمہ لا الہ الا اللہ کے تحت اسلامی قوانین کا پابند ہو ۔ حضرت عمر ؓ کے دور جیسا بنانا چاہتی ہوں ۔
4۔ میں ایک ایسا ادارہ بنانا چاہتی ہوں ۔ جہاں میں قوم کی بیٹیوں کو تعلیم و تربیت دوں ۔ اور دنیا بھر کی امامت میرے وطن کے پاس ہو ۔
رفاع یونیورسٹی کی سابقہ لیکچرار منزہ صدیقی جو آج کل آئی پی ایس میں ریسرچ ایسو سی ایٹ ہونے کے علاوہ( آفٹر اسکول پروگرام) کی ڈائریکٹر بھی ہیں ۔
1۔پاکستان ہمیشہ ماں کی طرح محسوس ہوتا ہے ۔ مہر بان اعلیٰ ظرف ، اپنے بچوں پر بلا وجہ فخر کرنیو الا ۔
2۔میرے خوابوں کا پاکستان وہ ہے جیسا میرے دادا ابو نے شہید ہونے سے پہلے دادی جان کو کہا تھا ’’ تم پاکستان ضرور جانا کیونکہ وہاں حضرت عمر ؓ کے دور جیسی حکومت ہو گی ، او رمیرے بغیر بھی تم اور بچے وہاں محفوظ ہوں گے ۔
3۔ دور اندیش ، صالح ، پر اعتماد اور مخلص قیادت
4 اپنی نسلوں کو پر امن ، صاف ستھرا ، خود انحصار پاکستان دینا چاہتی ہوں ۔ اور کوشش ہے کہ اپنے دائرہ کار میں ایسے بچے تیار کیے جائیں جو اپنی ذات سے بڑھ کر کچھ سوچنے اور کرنے کا عزم رکھتے ہوں ۔ آخری بات یہ کہ توقع باندھنے سے پہلے خود اس پر عمل پیرا ہونا چاہتی ہوں ۔
سمیرا امام کا تعلق کے پی کے صوابی سے ہے ۔ ایل ایل بی اینڈ شریعہ(آنرز) اور ایم اے اسلامیات کرنے کے بعد آپ ایک ادارے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں ۔ آپ اپنی سوچوں کو کچھ یوں الفاظ دیتی ہیں۔
1۔ پاکستان سے بہت گہرا اور اٹوٹ رشتہ ہے ۔پاکستان سے بے پناہ محبت اور اپنائیت ہے ۔
2۔ میرے خوابوں کا پاکستان خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان ہے ۔ جو مضبوط اسلامی اقدار کی بنیادوں پر کھڑا ہے ۔
3۔ اپنے خوابوں کے پاکستان کے لیے میں پاکستان کی مائوں کو تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ دیکھنا چاہتی ہوں ۔ یہاں کے حکمرانوں کو عادل اور با کردار دیکھنا چاہتی ہوں ۔
4۔ میں اپنی نسلوں کو ایک پر امن اور پر سکون پاکستان دینا چاہتی ہوں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کر سکیں اور قرآن اور سنت پر عمل کر کے ان سے رہنمائی لے کر اسلاف کی مانند دن دوگنی رات چوگنی ترقی کریں ۔ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے میں اپنے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کرنا چاہتی ہوں ۔ جو میں اپنی قوم میں دیکھنا چاہتی ہوں ۔
محترمہ جویریہ صاحبہ بھی تدریس کے مقدس پیشے سے وابستہ ہیں ۔آپ نے ایم ایس سی ( اطلاقی نفسیات) اور ایم اے اردو کیا ہے ۔ جویریہ صاحبہ کہتی ہیں ۔
1۔پاکستان سے وہی رشتہ جو ہر محب وطن پاکستانی کا ہے پاکستان ہی میری پہچان ہے ۔
2۔ ایک ایسا پاکستان جہاں کسی بھی پاکستانی کے لیے حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو ۔
3۔ ایک اسلامی معاشرہ جہاں عزت ، اخوت ، روا داری ، پیار محبت سب اچھی روایات ہوں
4۔ ایک پر امن ، حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ پاکستان کے لیے اپنی سی پوری کوشش کرنے میں ہمہ تن مصروف ہوں ۔
ٹینج بھاٹہ راولپنڈی سے ہوم اکنامکس کی پروفیسر خدیجہ عمر صاحبہ سے جانتے ہیں کہ وہ کیا کہتی ہیں ۔
1۔ پاکستان ہمارا گھر ہے ۔ ہم سب اپنے اپنے کمروں میں ہیں ۔ لیکن ہر چیز کے لیے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ اس کی خوشحالی تب ہی ممکن ہے جب ہر کمرے میں زندگی کی بنیادی سہولیات کم و بیش دوسرے کے برابر ہوں ۔
2۔ میرے خوابوں کا پاکستان وہ ہے جس میں کوئی بندہ اس کو چھوڑ کر دوسرے ممالک میں نہ جائے ۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے جب یہاں قانون کی حکمرانی ہو ۔ انصاف ہو اور آزادی ہو ۔ ہم اپنے ملک کے وسائل اور ذرائع کو بہترین طریقے سے استعمال کر یں ۔یکساں تعلیمی نظام رائج ہو ۔
3۔ بہت ہی صاف اور شفاف ملک جو دنیا میں ایک مضبوط معاشی ملک ہو۔ جہاں تعلیم اور ٹریننگ کے لیے دنیا کا رُخ پاکستان کی طرف ہو۔ جس کی بنائی ہوئی اشیاء کی ساری دنیا میں قدر ہو ۔ جہاں ہمارے بچے آزادی سے کام کر سکیں ۔
4۔ میں ملک کے نظام کی تبدیلی میں اپنا کردار اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ ادا کر کے اس کا حصہ بننا پسند کروں گی ۔
محترمہ سعدیہ ممتاز صاحبہ راولپنڈی میں اردو کی لیکچرار ہیں ۔
1۔پاکستان سے میرا رشتہ محض مٹی اور انسان کا نہیں ۔ یہ میری شناخت اور پہچان ہے ۔ اس کے ہونے سے میں ہوں ۔ اس کا اور میرا تعلق جسم و روح جیسا ہے ۔
2۔خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان جہاں قانون سب کے لیے یکساں ہو ۔ جہاں کوئی بھوکا نہ سوئے ۔ جہاں بچے اور خواتین جنسی استحصال کا شکار نہ ہوں ۔ کسی کی جان ، مال اور عزت کو خطرہ نہ ہو ۔ جہاں سکون اور امن ہو ۔
3۔ پاکستان کے عوام میں تبدیلی چاہتی ہوں ۔ا ن کو با شعور اور با ضمیر دیکھنا چاہتی ہوں ۔ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرے ۔معاشرہ اگر درست خطوط پر استوار ہو گا تب ہی حکومت بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی ۔
4۔ میں اپنی نسلوں کو غربت ، قرض ، خوف اور بد دیانتی سے پاک پاکستان دینے کے لیے اللہ اور اس کے رسول ؐ کی تعلیمات کو عام کرنا چاہتی ہوں سب سے پہلے اپنی ذات کو خود غرضی ،جھوٹ، دھوکہ دہی اور منافقت سے پاک کرکے بے غرض اس دھرتی کے لیے کام کروں گی ۔ کیونکہ میں انفرادی ترقی اور احساس ذمہ داری سے اجتماعی ترقی اور خوشحالی پر یقین رکھتی ہوں ۔
راحیلہ ارم : انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی( عربی) کی طالبہ ہیں ۔ ان کے خیال میں ۔
1۔ پاکستان میرے لیے ایک ماں کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جیسے ماں اپنے بچوں کو اپنے دامن میں محبت سے چھپا لیتی ہے ۔ ویسا ہی میرا اس سے رشتہ ہے ۔
2۔ میرے خوابوں کا پاکستان اقوام عالم میں با وقار سنجیدہ سود و کرپشن سے پاک اور اسلامی تشخص لیے ہوئے ہو ۔ اور میں اپنی جگہ پر ایمانداری اور اخلاص سے اپنے فرائض ادا کروں ۔ اپنی نسلوں بشمول اپنی اولاد کو بھی اس کے لیے تیار کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کروں گی ۔
3 ۔ پر امن با وقار کرپشن و سود سے پاک ترقی یافتہ پاکستان دینا چاہتی ہوں ۔ اور یہ کہ پاکستان کے لیے تمام ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے ایمانداری سے اپنا کام بخوبی انجام دیں۔ عوام اپنی مرضی کی قیادت صاف و شفاف طریقے سے منتخب کریں ۔ تمام ملک میں بالا دست قانون صرف اللہ کا ہو ۔
عائشہ ندیم :ایم اے اسلامیات:گھریلو خاتون ہیں ۔آپ کہتی ہیں ۔
1۔پاکستان شروع سے ہی دل کے بہت قریب ہے ۔
2۔اتنا کہ اس کوکہیںچھوڑ کر جانے کو د ل نہیں کرتا ۔
3۔ میرے خوابوں کا پاکستان اسلامی خوشحال اور تعلیم یافتہ پاکستان ہے ۔
4۔ اپنے بچوں کو دین کا علم اور پاکستان سے محبت دینے کی کوشش کر رہی ہوں ۔ت اکہ وہ با عمل مسلمان اور قابل فخر پاکستانی بن سکیں ۔ خود عمل کرنے کی اور ارد گرد کے لوگوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہوں ۔ کہ معاف کرنا سیکھیں ، دلوں کو جوڑیں ۔ تاکہ صحیح معنوں میں ایسامعاشرہ وجود میں آ ئے جو سب کے خوابوں کی تعبیر ہو ۔
اسلام آباد سے ریٹائرڈ معلمہ محترمہ فہمیدہ نے چند الفاظ میں اپنا مطمع نظر یئوں بیان کیا:
1۔پاکستان سے میرا رشتہ ایک ماں جیسا ہے۔
2۔ علامہ اقبال کے خیالوں جیسا پاکستان ۔ پڑھا لکھا پاکستان۔
3۔ جس کا اکانومی ریٹ بہتر ہو ۔
4۔بچوں کی تعلیم و تربیت اسلامی طرز پر کرنے کی کوشش کروں گی ۔
کلاس ہشتم کی ننھی طالبہ طوبیٰ اکبر کہتی ہیں ۔
1۔ پاکستان ہماری جان ہے ۔
2۔ کرپشن سے پاک پر امن آزاد پاکستان۔
3جہاں ہر پاکستانی کو روز گار ملے ۔ کوئی غریب نہ ہو،تعلیم عام اور مفت ہو
4۔ جاپان کی طرح بنائوں گی ۔
ریحانہ کوثر ایگریکلچر یونیورسٹی راولپنڈیء میں PHD کی طالبہ کے خیال میں ۔
1 ۔ پاکستان سے محبت کا رشتہ ۔ ہماری پہچان اورایمان ہے ۔
2۔ریاست مدینہ کے طرز پر ایک اسلامی فلاحی ریاست ہے ۔ حضرت عمر ؓ کی ریاست کی طرح صحیح معنوں میں’’ اسلام کا قلعہ‘‘
3۔ میں چاہتی ہوں پاکستان واقعی پاک ہو ، ہر طرح کی برائی سے ۔ لا دینیت سے ، کرپشن نام نہاد مادرن ازم اور جہالت کا خاتمہ ہو، یہاں سے
4۔ اپنی نسلوں کو انصاف پسندی ، قانون کی بالا دستی ، مذہبی روا داری ، ایمان باللہ اور محبت کا درس دینے کی پوری کوشش کروں گی اور خود بھی عمل کروں گی ۔ انشاء اللہ اپنیPHD کی ریسرچ میں بھی کچھ ایسا کرنے کی کوشش کروں گی جو میرے ملک کے کسانوں کے کام آ سکے
عمارہ حسین سافت ویئر انجینئر ہیں ۔و ہ اپنے خوابوں کی تعبیر چھ اس طرح سے ڈھونڈتی ہیں ۔
1۔ پاکستان میرا پیارا وطن ہے ۔ اس کی مٹی میں میرے بزرگوں کا خون شامل ہے ۔
2۔ پر امن ہو ۔ کسی کا استحصال نہ ہو ۔ سب کو ان کا حق ملے ۔خواتین کا احترام ہو ۔ ہر سو بہار ہی بہار ہو ۔
3۔ ہر شخص اگر مفاد پرستی سے باہر نکل آئے تو ہمارے ملک میں تبدیلی آ سکتی ہے ۔ اسلامی اصولوں کی پابندی میں ہماری نجات ہے ۔
4۔ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے میں جہاں ممکن ہو اپنا حصہ ڈالتی ہوں ۔ اورا ٓگے بھی کوشش جاری رکھوں گی ۔
راولپنڈی سے قدسیہ مدثر ایک پر عزم ماں اور وفا شعار بیوی کی حیثیت سے پاکستان کو کیسا دیکھتی ہیں ۔
1۔ پاکستان سے رشتہ جسم اور روح کا ہے ۔ اس کی مٹی پر چلنا سیکھا ، یہاں علم حاصل کیا ۔سب انمول رشتے یہاں ہیں ۔اس سے محبت کا رشتہ ہے ۔
2۔ خوابوں کا پاکستان جنت نظیر ہے ۔ پر امن اور خوشحال ۔ بھائی چارہ اور محبت ہو ۔ حضرت عمر ؓ جیسے منصب اور ہمدرد ہوں ۔
3۔ پاکستان کو خوشحال دیکھنا چاہتی ہوں ۔ دنیا کی نظروں میں میرے وطن کی عزت و عظمت سب سے بڑھ کر ہو۔ کسی کا مقروض نہ ہو ۔
4۔ اپنی نسلوں کو اسلامی اور فلاحی ریاست دینے کے لیے ان کو دیانتداری سکھائوں گی ۔
شہناز رئوف صاحبہ کراچی یونیورسٹی اور جدہ میں تدریسی فرائض انجام دینے کے بعد او پی ایف کالج اسلام آباد سے وابستہ ہیں ۔ شہناز صاحبہ کردار سازی اور پاکستانیت پر کچھ یوں گویا ہوئیں ۔
1۔پاکستان سے وہی رشتہ ہے جو رگ جاں کا جسم و جاں سے ہے ۔پاکستان ہمارے لیے اللہ کا انعام ہے ۔ مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروںنے نے وہ قرض اتارے ہیں جو واجب ہی نہیں تھے ۔
2۔اسلامی پاکستان ، خوشحال پاکستان ، میرے خوابوں کا پاکستان لیکن آج میرے خواب ریزہ ریزہ ۔ اور
عذاب یہ تو کسی اور پر نہیں آیا
تمام عمر چلے اور گھر نہیں آیا
3 ۔ نظریہ پاکستان( پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ) کی بنیادوں پر کھڑا مضبوط و مستحکم پاکستان
IMFاور ورلڈ بینک کی غلامیء سے آزاد پاکستان ، تعلیم یافتہ پاکستان جس کا ’’با خدا نظام تعلیم‘‘ ہر طرح کے تعصبات سے پاک ہو ۔
4۔ مندرجہ بالا مقاصد کو سامنے رکھ کر کراچی تاجدہ ، جدہ تا اسلا م آباد ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں بچوں کی کردار سازی کی ہے جو آج بھی جاری ہے ۔
ڈاکٹر میمونہ حمزہ مشہور و معروف مصنفہ ۔ ان دنوں سعودیہ میں مقیم ہیں ۔ ان کے نزدیک
1۔ میرا پاکستان سے رشتہ ’’ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا ہے ۔ پاکستان سے رشتہ دل کا ہے ۔
2۔میرے خوابوں کا پاکستان مدینہ کی اسلامی ریاست والا ہے ۔ جس میں اقامت صلوٰۃ کا نظام ہو زکوٰۃ کا نظام ہو ۔ لوگوں کا دین سے رشتہ مضبوط کرنے کا جامع پروگرام ہو
3۔اداروں کو مضبوط بنائیں ۔ سب سے بڑھ کر گھر کے ادارے پر توجہ دیں ۔ا نسان آزاد ہو ۔ یرغمال نہ ہو ۔ باہمی عزت و احترام کا رشتہ ہوناکہ رسہ کشی کا ۔پاکیزگی ، سچائی اور دیانت داری کا رواج ہو ۔ اسلامی حدود و قانون کا نفاذ کے ساتھ امیر و غریب کی تخصیص کے بغیر تعلیم و صحت کی سہولیات میسر ہوں ۔
4۔ اپنی نسلوں کے لیے آزاد،خود مختار ، با وقار ، با حیا اور امانت دار پاکستان چاہتی ہوں ۔
ایمان اور کردار کے ساتھ تعلیم اور ہنر کے ساتھ روا داری اورمحبت کے ساتھ ۔ بس ان کی سارے خوابوں کی تعبیر کے لیے اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گی ۔
ان سوالات اور جوابات کے ذریعے ہمارے قارئین بہتر پاکستان کیلئے اپنی کوششوں اور لائحہ عمل کو ترتیب دے سکتے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.