پاکستان ہم سب کی جان

65

ہمارے وطن عزیز پاکستان میں اگست کا مہینہ آتے ہی ہر طرف بچے اور بڑے سب ایک ہو کر پاکستان کے نعروں میں مست مگن ہوجاتے ہیں۔ پاکستانی عوام کی خوشیاں عروج پر ہوتی ہیں، ہر گھر، گلی، محلے کو جھنڈیوں سے بھر دیا جاتا ہے، ہر گھر میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی جھنڈیاں سجانے میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔ بچے پاکستانی پرچم کے رنگ کے کپڑے پہن کر بیج لگائے ہوئے خوشی خوشی چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ہر گھر کی چھتوں پر سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے، تقریباً سب لوگ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر بھی پرچم لگاتے ہیں۔ اسکولوں میں بچے جھنڈیاں ہلا کر ملی نغمے اور ترانے پڑھتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں اور اسکولوں کو بھی سجایا جاتا ہے۔ جگہ جگہ بچوں کے پروگرامات منعقد کیے جاتے ہیں اور پاکستان کے حوالے سے سوال و جواب، ملی نغمے، ٹیبلو وغیرہ کے مقابلے ہوتے ہیں اور انعام بھی دیے جاتے ہیں۔ پاکستان کو ہر جگہ روشنیوں سے بھر دیا جاتا ہے، پاکستان کی ترقی کے لیے دعائیں بھی کی جاتی ہیں۔ یہ سب دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ پاکستان امن و سلامتی کا گہوارہ بن گیا ہے، ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اپنے مفاد سے بالاتر ہو کر ملک کی ترقی اور امن و سکون کے لیے اپنی تمام دولت قربان کردی ہو۔ لیکن جشن منانے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ پاکستان صرف ایک دن کے لیے آزاد ہوا تھا۔ نہیں نہیں! پاکستان سے محبت ہمیشہ کے لیے ہے۔
میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے
اس پہ دل قربان اس پہ جان بھی قربان ہے
ہمارا وطن پاکستان سیکڑوں لوگوں کی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا تھا۔ اس کو تحفظ دینا ہی دیانت ہے، ہم سب پاکستانی ہیں، ہماری وطن سے محبت چند دنوں کے لیے محدود نہیں بلکہ جوش و جذبے کے ساتھ آزادی کی اس عظیم نعمت کو ہمیشہ کے لیے قائم رکھنا ہم سب پاکستانیوں کا فرض ہے، ہمارا ملک پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اس ملک میں کلمہ بلند ہوگا ان شاء اللہ۔ پاکستان میں رہنے والے عوام پاکستانی بن کر سوچیں اور تمام تر مفادات کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان سے محبت کا اظہار کریں، صرف ایک دن کے لیے نہیں ہمیشہ کے لیے ہنستے مسکراتے ہوئے خوش آباد رہیں۔
عائشہ بی، گلشن اقبال

Print Friendly, PDF & Email
حصہ