دودھ کے جلے اہل کراچی

66

مہنگائی ہر دور میں رہی ہے، لیکن اگر حکومت فلاحی ہو تو قیمتوں کو کنٹرول میں رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں چلن یہ ہوگیا ہے کہ بنیادی اشیا کے بیوپاری قیمت بڑھانے کے لیے ہڑتال، ذخیرہ اندوزی اور دھرنے کے حربے استعمال کرکے حکومت اور عوام کو بلیک میل کرتے ہیں، یہ حربہ نہ چلے تو نوکر شاہی کو بھاری رشوت دے کر مطلوبہ قیمت پر راضی کرلیا جاتا ہے۔ اہل کراچی یہ ڈراما برسوں سے دیکھ بھی رہے ہیں اور بھگت بھی رہے ہیں۔ کراچی میں ہر سال گوشت اور دودھ فروش رشوت کا حربہ استعمال کرکے جب چاہتے ہیں قیمتیں بڑھوا لیتے ہیں۔ اس کار خیر میں ایم کیو ایم اور کمشنر کراچی براہ راست ملوث ہیں، یہ دونوں مل کر قصابوں اور دودھ فروشوں سے بھاری رشوت لیتے ہیں اور قیمت بڑھانے کا یکطرفہ طور پر پروانہ جاری کردیتے ہیں، اس وقت دودھ کی سرکاری قیمت 94 روپے مقرر ہے لیکن میرے رہائشی علاقے گلستان جوہر بلاک 12 کا سروے کرلیں ایک دودھ فروش ایسا نہیں ملے گا جو سرکاری ریٹ پر دودھ فروخت کرتا ہوا ملے۔ زیادہ تر دکاندار فی لیٹر دودھ 95 روپے بیچتے ہیں۔ سندھ بلوچ سوسائٹی کے قریب دھڑلے سے 100 روپے لیٹر دودھ فروخت ہورہا ہے لیکن اس سے نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ ہی سرکاری طور پر کوئی ادارہ اس پر گرفت کرتا ہے۔ قطر اور سعودی عرب کے تعلقات خراب ہوئے تو سعودی عرب سے قطر کو دودھ کی سپلائی بند ہوگئی۔ قطر نے دودھ ترکی اور ایران سے منگوانا شروع کردیا اور اب قطر کے عوام 2 درہم سستا اور معیاری دودھ استعمال کررہے ہیں۔ قطر والوں نے اپنے عوام کو بلیک میل نہیں کیا۔ جب کہ پاکستان میں عوام کو سہولت اور معیار فراہم کرنے کے بجائے اپنی جیبیں گرم کی جاتی ہیں۔ اب جب کہ تبدیلی کے دعویدار ایوان اقتدار میں پہنچ چکے ہیں تو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ’’اجتماعی غنڈہ گردی‘‘ سے کیسے بنیادی اشیا دودھ، گوشت، دال، چاول، گھی اور آٹے کی قیمتوں کو بچانا ہے اور مستحکم بھی رکھنا ہے اور ان کو ترجیح بھی دینی ہوگی۔ آپ ایم کیو ایم کو وزارت کی ہڈی ضرور ڈالیں لیکن ان کے کام پر بھی سخت نظر رکھنی ہوگی، کراچی والے دودھ کے جلے ہیں۔
بیگم منور سلطانہ شیخ، گلستان جوہر، کراچی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ