عمران خان: طرز حکمرانی تبدیل کرنا ہی اصل چیلنج ہے 

86

سید محمد قاسم

عمران خان جیسی معروف شخصیت کا موجودہ حالات میں برسراقتدار آنا نہایت امید افزاء اور ملک و قوم کے لیے خوش قسمتی کی علامت ہے۔ وہ بنیادی طورپر نہ سرمایہ دار ہے نہ معروف معنوں میں جاگیردارہے، نہ ہی ملک کی حکومت اس کی نظر میں باپ دادا کی کھوئی ہوئی میراث ہے جس کو پاکر عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنا اس کا مقصد ہو، وہ ان گلیوں اور راستوں سے ناواقف بھی نہیں کہ ان کی چکا چوند اس کی آنکھوں کو خیرہ کر دے، وہ کوئی غیر ملکی یا کتابی نظریہ بھی لے کر نہیں آیا جس کے خدوخال سے عام لوگ ناواقف ہوں اور ملک کے دانشور اس کی رنگا رنگ تشریح، تعبیر اور تاویلات کرتے پھریں۔
عمران خان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اسے اقتدار سنبھالتے وقت متنازع نوع چیلنجز کا سامنا نہیں، اس کی سوچ اور فکر واضح ہے ایک طرف وہ مدینہ کی ریاست کا قائل ہے تو دوسری طرف وہ اپنے وطن کو دنیا بھر میں ہونے والی عمرانی، علمی اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بے آئین اور ٹوٹا ہوا ملک ملا تھا، محمد خان جونیجو کو مارشل لا کے زیر سایہ حکومت ملی اور جلد ہی انہیں اس سے نجات دلانا تھی، اس حوالے سے ان کا مشہور جملہ اخبارات کی سرخیوں کی زینت بنتا رہا، ’’ان شاء اللہ، مارشل لا31 دسمبر 1985ء تک اٹھا لیا جائے گا۔‘‘ اور ایسا ہی ہوا تاہم اس سلسلے میں آٹھویں آئینی ترمیم ہوئی جو بعد ازاں صدر کے ہاتھوں جونیجو اور بعد کی بعض حکومتوں کے قبل از وقت خاتمے کا ذریعہ بنی۔ اس وقت شریعت بل کے موضوع پر مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے احتجاج اور جد وجہد بھی جاری تھی، افغانستان کی سوویت روس کے ساتھ جنگ آخری مرحلے میں تھی جس میں پاکستان ہر لحاظ سے فریق اور شریک تھا۔ بے نظیر بھٹو کو 1988 میں تقریباً اتنی ہی انتخابی کامیابی کے ساتھ اقتدار ملا تھا جتنی کہ پی ٹی آئی کو اب حاصل ہوئی ہے۔ اس وقت طویل مارشل لا کے دوران پیدا ہوئے داخلی اور خارجی مسائل نے ملک کو گھیر رکھا تھا نیز انہیں شدید سیاسی اور نظری مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ عورت کی سربراہی کو قبول کرنا بھی روایتی طور پر مشکل عمل تھا البتہ مولانا فضل الرحمن نے آگے بڑھ کر ان کا ساتھ دیا۔ وہ اور ان کی والدہ مرحومہ حکومت کو اپنی کھوئی ہوئی میراث ہی سمجھتے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے حقیقی اور سیاسی انکلز کو خیرباد کہا اور اپنے نئے ہم خیال اور وفادار تلاش کرنے لگیں، ان کے نزدیک 77ء مارشل لا کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا اس لیے جمہوریت کی بحالی پر پیپلز پارٹی کا حکومت بنانا بہر طور ضروری ہے، اسی سوچ کی بنا پروہ مارشل لا دور کو ایک ناگوار وقفہ قرار دیتے ہوئے خود کو جمہوریت بی بی سمجھتی تھیں، اگر ان کی حکومت نہیں تو جمہوریت نہیں اور کسی اور کی جمہوری حکومت بھی انہیں منظور نہ تھی۔ اسی لیے بعد ازاں نوازشریف کی وفاق میں پہلی منتخب جمہوری حکومت کے خاتمے کے لیے انہوں نے تحریک چلائی اور اسی مذموم آٹھویں ترمیم کے ذریعے صدر غلام اسحاق خان کو اس کے خاتمے پر مجبور کیا پھر بھی جمہوریت کی چمپئن ہونے کے اپنے دعوے پر قائم رہیں۔ جب نوازشریف کو اقتدار ملا تو بدقسمتی سے آئین کے الفاظ تو دیکھے لیکن زمینی حقائق کو نہ سمجھا اور یہی غلطی تھی جسے وہ آخر تک سمجھ نہ پائے۔ حکومت ملی تو بیرونی امداد کم ہو چکی تھیں، وہ موٹرویز کے وسیع منصوبوں کو ترقی کا بنیادی ذریعہ سمجھتے تھے، ٹرانسپورٹ، بسوں، کاروں اور گاڑیوں کی درامد اور قسطوں پر فروخت کرکے بے روزگاری دور کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کے لیے بہت سی مراعات کے اعلانات کیے جن کا فائدہ صرف ان کے سیاسی حلیف ہی اٹھا سکتے تھے۔ ان کی لائی ہوئی روزگار اور خوشحالی کی اسکیمیں نیچے اترتے ہی دم توڑ جاتی تھیں۔ البتہ بڑے تاجروں نے عوامی مسائل سے سرکار کی غفلت کا خوب فائدہ اٹھایا، خوراک، ادویات، الیکٹرک، لوہا، سیمنٹ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ سرکاری، شاملاتی، جنگلاتی اور متروکہ اور اوقاف کی زمینو ں پر قبضے اور فروخت نے زور پکڑا اور اس معاملے میں نواز اور زرداری سب ایک ہو گئے۔ تعمیراتی محکمے اور اداروں کے کرپٹ عناصر نے اپنے مفادات کی خاطر تعمیراتی وترقیاتی اسکیموں کو طول دے کر اصل خریداروں کو مایوس کیا اور اضافی اخراجات کے نام پر بھاری فیسیں اور جرمانے وصول کیے۔ بعض سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے افسران کی تنخواہیں، مشاہرے اور مراعات نیشنل پے اسکیل کی حدودو قیود سے تجاوز کر گئیں۔ میرٹ میرٹ کی رٹ بے کس و بے نوا افراد کو دھتکارنے کا ذریعہ بن گئی۔ واپڈا، سوئی گیس جیسے قومی خدمت کے اداروں کے افسران نے حکمرانوں کی دیکھا دیکھی اپنے پروٹوکول اور سیکورٹی کے نظام بنا لیے اور عوام کے لیے کام کے طریقہ کار کو سخت سے سخت تر کر دیا تاکہ کرپشن کی راہ ہموار کی جاسکے۔ بعض معروف لوگوں نے افسران کو رشوت کے ذریعے رام کرنے کی اپنی صلاحیت کو اپنی کامیابی کی کنجی قرار دیا جسے حکمرانوں نے معمول کی بات کے طور پر قبول کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ سرکاری لین دین کے اہم ناکوں پر حکمران جماعت کے فارورڈ مین حصہ وصول کرنے لگے۔ یہی وتیرا دیگر اہلکاروں نے بھی اختیار کیا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو ایسی کوتاہیوں پر نظر رکھنی ہو گی۔ اپنی حثیت سے بڑھ کر معیار زندگی بسر کرنے والوں کا جائزہ لینے کے لیے صرف افسران نہیں پٹواری تک کے اثاثوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ بڑے بڑے حرام خوروں کا پتا چل سکے۔ کیا بھٹو، نوازشریف، بے نظیر بھٹو وغیرہ اپنی سوچ اور دماغی کاوش سے یہ کرپٹ نظام لیے تھے؟ نہیں۔ بلکہ یہ وہی فرسودہ نظام ہے جو انگریز کے دور سے غلاموں پر حکمرانی کرنے کے لیے وضع کیا گیا تھا اسے وہ اس لیے جاری رکھنا چاہتے تھے کہ ان لوگوں کا مقصد اس کو جاری رکھ کر ہی حاصل ہو سکتا تھا۔ انہوں نے بلدیاتی نظام کو بھی کبھی چلنے نہ دیا حالاں کہ وہاں ان کے اپنے ہی لوگ براجمان تھے۔
عمران خان کے لیے اصل چیلنج اس طرز حکمرانی کو تبدیل کرنا ہے جو قوم اور ملک کو گھن کی طرح کھا چکا ہے۔ انتخاب جیتنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں عمران خان نے اسی عزم کا اظہار کیا ہے جو بلا شبہ مرض کی درست تشخیص اور صحیح علاج ہے۔ قوم کو اس مقصد کے لیے بڑھ چڑھ کر اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ جیسا کہ اسلام کی تعلیم ہے کہ نیکی اور بھلائی کے کام میں دوسرے سے تعاون کرو اور برائی اوربے حیائی کاموں سے دور رہو۔
جہاں تک انتخابات کے ذریعے پاک صاف حکومت قیام کا تعلق ہے اس کا تعلق ہمارے ملک سے کم، دنیا کی بڑی طاقتوں کی قبولیت پر زیادہ ہے۔ اگر وہ چاہیں تو مصر اور الجزائر کی جائز طور پر بھاری اکثریت سے منتخب ہوئی حکومتوں کو تسلیم نہ کریں اور مارشل لا لگانے کی حمایت کردیں اور جب چاہے جمہوری حکومتوں کا سیاسی اور معاشی طور پر گلا گھونٹ دیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ