مسیحاؤں کی یہ بھاری فیسیں

40

ہمارے حکمرانوں کو شاید ہی یہ احساس ہوتا ہوگا کہ عام اور غربت کی نچلی سطح سے تعلق رکھنے والا پاکستانی بیمار ہوجائے تو اُس کو طبی سہولتوں کے حصول کے لیے کن کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس شعبے پر حکومت خاصے فنڈز مختص کرتی ہے، سرکاری اسپتالوں میں عام آدمی کو طبی سہولتوں کا مل جانا کسی خصوصی نعمت خداوندی سے کم نہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں بڑے بڑے ناموں والے ڈاکٹرز حکومتی پیرول پر ہوتے ہیں، انہیں بھاری تنخواہیں اور خصوصی مراعات فراہم کی جاتی ہیں لیکن یہ بیچارے کبھی کبھار اِن اسپتالوں میں عام مریضوں کو بھی دیکھ لیا کرتے ہیں، زیادہ تر سفارش اور اسپتال عملے سے تعلق رکھنے والے ہی ان کی فہرست میں معائنہ کے لیے شامل ہوتے ہیں۔ یہ مسیحا اپنا زیادہ وقت بطور ’’کنسلٹنٹ‘‘ نجی اسپتالوں میں بھاری فیسوں کے عوض آنے والے مریضوں کو دیتے ہیں۔ نجی اسپتالوں میں ان کی فیسیں ناقابل بیان ہیں۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ سرکاری اسپتالوں میں سرکاری تنخواہوں پر مامور ڈاکٹرز کو قوانین کے مطابق ایک وقت میں ایک ہی جگہ خدمات انجام دینے کا پابند کیا جائے۔
صغیر علی صدیقی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ