زرعی یونیورسٹی پشاور،داخلہ کیلیے این ٹی ایس ٹیسٹ پر طلبہ سراپا احتجاج

28

درگئی (آئی این پی) زرعی یونیورسٹی پشاور ایگریکلچر ایکسٹینشن ڈپارٹمنٹ کے ایم ایس پروگرام میں داخلہ کیلیے متعلقہ فیلڈ کے بجائے این ٹی ایس جنرل ٹیسٹ پر طلبہ سراپا احتجاج، گورنر خیبر پختونخوا اور نگراں وزیر اعلیٰ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل ۔ تفصیلات کے مطابق زرعی یونیورسٹی پشاور ایگریکلچرایکسٹینشن ڈپارٹمنٹ کے ایم ایس پروگرام میں داخلہ کیلیے متعلقہ فیلڈ کے بجائے این ٹی ایس جنرل ٹیسٹ پر طلبہ سراپا احتجاج بن گئے ہیں اور گورنر خیبر پختونخوا اور نگراں وزیر اعلیٰ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ درگئی کے رہائشی زرعی یونیورسٹی پشاور کے ایگریکلچر ایکسٹینشن ڈپارٹمنٹ سے بی ایس ( ہانر ) مکمل کرکے ایم ایس میں داخلہ کے خواہشمند طالب علم شاہ حسن کے والد محمد افتخار خان نے ایک بیان میں چیف جسٹس آف پاکستان ، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ، گورنر خیبر پختونخوا اور نگراں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا دوست محمد خان سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ زرعی یونیورسٹی پشاور کے ایگریکلچر ایکسٹینشن ڈپارٹمنٹ سے بی ایس سی کا امتحان پاس کرکے اس ہی ڈپارٹمنٹ میں ایم ایس سی میں داخلہ کے خواہشمندطلبہ سے این ٹی ایس جنرل کا ٹیسٹ لے کر ان کے متعلقہ مضامین و اسپیشلٹی کے بجائے ان پر غیر متعلقہ مضامین میں ٹیسٹ پاس کرانے کی ظالمانہ اور غیر مناسب پالیسی کا فوری نوٹس لیا جائے کہ متعلقہ ڈپارٹمنٹ صرف زرعی یونیورسٹی میں ہے اور اس سے ان کے بچے سمیت دیگر تمام طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہوگیا ہے۔ انہوں نے اس امر پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ ایگریکلچر ایکسٹینشن میں داخلہ لینا ہو تو طلبہ سے ان کے فیلڈ میں ٹیسٹ لیا جائے طلبہ کا این ٹی ایس جنرل اور غیر متعلقہ مضامین جس کا ان کے داخلے کے مضامین کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں میں ٹیسٹ کے ساتھ کیا واسطہ؟ حالانکہ اس ہی شعبہ یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی کیلیے اپنے ہی فیلڈ میں ٹیسٹ لیا جاتا ہے اور بدقسمتی سے یہ شعبہ صوبے کی دیگر یونیورسٹیوں میں نہیں صرف زرعی یونیورسٹی پشاور میں قائم ہے اور یہاں سے بی ایس کے بعد اپنے اسی فیلڈ میں مزید تعلیم کیلیے داخلہ نہ دے کر نہ صرف ان کے بیٹے بلکہ دیگر تمام طلبہ کو مزید تعلیم سے محروم کرنے کی غیر منصفانہ کوشش کی گئی ہے اور استفسار کیا کہ کیا ایم ایس سی (انر ) میں داخلہ کیلیے اپنے فیلڈ کے مضامین میں ٹیسٹ لینا گناہ ہے ؟ انہوں نے اس حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کو طلبہ کے مستقبل کیلیے از خود نوٹس لینے کا پر زور مطالبہ کیااور گورنر خیبر پختونخوا جو یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں سے اپیل کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.