کمشنر سکھر کی یوم آزادی بھر پور طریقے سے منانے کی ہدایت

60

سکھر (نمائندہ جسارت) کمشنر سکھر ڈویژن منظور علی شیخ نے سکھر، گھوٹکی اور خیرپور اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو 14 اگست 2018ء کو یوم آزادی پاکستان بھرپور قومی جوش و جذبے کے ساتھ منانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں اضلاع میں تمام سرکاری عمارتوں کے ساتھ تاریخی مقامات اور یادگاروں پر بھی چراغاں کرکے انہیں اجاگر کیا جائے، اس کے ساتھ سگھڑ کچہریاں، علاقائی موسیقی اور کھیلوں کے مقابلے کروائے جائیں تاکہ لوک ورثہ اور ثقافت کو فروغ مل سکے، جبکہ تعلیمی اداروں میں جشن آزادی اور تحریک آزادی کے حوالے سے تقاریر اور کوئز مقابلے کروائے جائیں۔ انہوں نے یہ ہدایات اپنے آفس میں جشن آزادی کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں، جس میں ڈی سی سکھر رحیم بخش میتلو، ڈی سی خیرپور عبدالفتاح ہلیو، ڈی سی گھوٹکی احمد علی قریشی، ایڈیشنل کمشنر ون اور ٹو سکھر نے بھی شرکت کی۔ کمشنر سکھر نے ڈی سیز کو ہدایت کی کہ ضلع اور تعلقہ سطح پر جشن آزادی کے پروگرام منعقد کرائے جائیں اور میوزیکل پروگرامز میں مقامی فنکاروں کو ترجیح دی جائے جبکہ سگھڑ کچہریاں منعقد کروانے کے ساتھ کبڈی، ملاکھڑا، دوڑ اور دیگر مقامی کھیلوں کے مقابلے کروائے جائیں۔ جیلوں، دارالامان اور اسپتالوں میں مٹھائیاں تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین اور بچوں کے لیے جیلوں میں تفریحی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ قیدیوں میں حب الوطنی کا جذبہ بڑھ سکے۔ کمشنر سکھر نے ہدایت کی کہ بیراج سے نکلنے والے کینالوں پر چراغاں اور قومی پرچم لہرائے جائیں۔ تینوں اضلاع کے ڈی سیز نے 14 اگست کے پروگرامز اور تیاریوں کے بارے میں تفصیلی آگاہی دی۔ کمشنر سکھر نے ہدایت کی کہ 14 اگست کے موقع پر اضلاع میں شجرکاری مہم چلائی جائے اور سرسبز پاکستان بنانے کے لیے ہر جگہ پودے لگا کر حب الوطنی کا مظاہرہ کیا جائے، جبکہ صفائی ستھرائی اور روشنی کے انتظامات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سیکورٹی کے انتظام بھی سخت کیے جائیں۔ بعد میں عیدالاضحی کے انتظامات اور ضابطہ اخلاق کے حوالے سے اجلاس میں کمشنر سکھر ڈویژن منظور علی شیخ نے سکھر، خیرپور اور گھوٹکی اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ عیدالاضحی کے موقع پر نافذ ضابطہ اخلاق اور ایس او پی پر عملدرآمد کروانا تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کا فرض ہے اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی، جبکہ صرف سرٹیفائیڈ مویشی منڈیوں کو ہی چلنے دیا جائے گا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری فیس کے علاوہ کسی بھی قسم کا بھتا یا غنڈہ ٹیکس وصولی کی اجازت ہرگز نہ دی جائے اور ایسے لوگوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ