حیدر آباد، سرکاری اراضی پر قبضہ، تحقیقات سرد خانے کی نذر

56

حیدر آباد (نمائندہ جسارت) تعلقہ لطیف آباد کی 2 ارب سے زائد مالیت کی 52 ایکڑ سرکاری اراضی پر جعلی دستاویزات کے ذریعے قبضے میں ملوث لینڈ مافیا کیخلاف تحقیقات 18 سال گزرنے کے باوجود مکمل نہیں کی جاسکی، ڈپٹی کمشنرنے سال 2000ء میں تمام دستایزات کو بوگس قرار دے کر کمرشل ورہائشی اسکیم علی اصغر آباد کو غیرقانونی قرار دیدیا تھا، لینڈ مافیا نے معاملے کو ریونیو فل بورڈ کی عدالت میں الجھا کر تمام اراضی چائنا کٹنگ کے ذریعے شہریوں کو فروخت کردی، اسسٹنٹ کمشنر لطیف آباد نے جاری تحقیقات کے دوران لینڈ مافیا سے ساز باز کرکے دوبارہ ریکارڈ آف رائٹس میں غیرقانونی انٹریاں رکھ دیں، کمشنر کی بھی دوسال قبل شروع کی گئی تحقیقات دباؤ پر سردخانے کردی گئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ موجودہ درخواست گزار آفتاب چنا ولد غلام محمد چنا (مرحوم) نامی شخص ہے، جبکہ اسی دوران سابق اسسٹنٹ کمشنر لطیف آباد مبینہ طور پر انور پنہور نے لینڈ مافیا سے ملی بھگت کرکے بھاری رشوت کے عیوض غیرقانونی طور پر ایک بار پھر لینڈ مافیا کا فوتی کھاتہ (انٹریاں) ریکارڈ میں رکھ کر 52 ایکڑ سرکاری اراضی چائنا کٹنگ کے ذریعے فروخت کردی، جبکہ اس سلسلے میں دوسال قبل سابق کمشنر حیدر آباد قاضی شاہد پرویز نے ڈپٹی کمشنر کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر لطیف آباد سے رپورٹ طلب کی تھی مگر اسسٹنٹ کمشنر لطیف آباد نے دیہہ کا ریکارڈ سندھ ہائی کورٹ میں موجود ہونے کا جواز بناکر تحقیقات سردخانے کی نذر کردی گئی۔ عدالت عظمیٰ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں غیرقانونی رہائشی اسکیموں کیخلاف تحقیقات کے آغاز کے بعد ریونیو ڈپارٹمنٹ کے عملے نے ایک بار پھر اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی فروخت کرنے میں ملوث لینڈ مافیا کو بچانے کے لیے بھاگ دوڑ شروع کردی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری اراضی پر قبضہ کرکے کمرشل رہائشی اسکیم چلانے والی فرم علی الحیدر کنسٹرکشن کمپنی کو بھی بلیک لسٹ کردیا گیا تھا مگر اب بھی مذکورہ فرم کا دفتر حیدر آباد کے کینٹ کے علاقے میں قائم ہے جہاں علی اصغر آباد اسکیم کے نقشے اور دستاویزات آویزاں کرکے شہریوں کو سرکاری اراضی چائنا کٹنگ کے ذریعے فروخت کی جارہی ہے، جبکہ بعض پلاٹ کئی کئی افراد کو بھی فروخت کرنے کے معاملے کی شکایت پر مختلف تحقیقاتی اداروں میں معاملات چل رہے ہیں، مگر عملی طور پر اربوں روپے سرکاری اراضی فروخت کرنے میں ملوث لینڈ مافیا کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاسکا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ