کوٹری، پولیس سرپرستی میں منشیات، فحاشی اور جوئے کے اڈے قائم

31

کوٹری(نمائندہ جسارت)ضلع جامشورو میں مبینہ بھاری رشوت کے عیوض منشیات ،فحاشی اور جوئے کے اڈے قائم۔منظور نظر پولیس اہلکار منتھلی وصولی پر مقرر، لاکھوں روپے منتھلی وصولی کا انکشاف۔ سیاسی و سماجی حلقوں کا احتجاج،آئی جی سندھ سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔ ضلع جامشورو میں نوتعینات ایس ایس پی جامشورو بشیر احمد بروہی کے آنے کے بعد مختلف شہروں اور علاقوں میں مبینہ بھاری رشوت کے عیوض منشیات،فحاشی اور جوئے کے اڈے قائم کرلیے گئے ہیں۔ کوٹری، جامشورو، مانجھند، سن، تھانہ بولا خان، نوری آباد اور سہون سمیت دیگر علاقوں میں دھڑلے کے ساتھ منشیات کی فروخت جاری ہے جبکہ فحاشی اور جوئے کے اڈے بھی بدستور چل رہے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس کی جرائم پیشہ افراد کیخلاف جامشورو میں مخصوص ٹیمیں سی آئی اے، اے ڈی سی آر،اسپیشل برانچ ،سی آئی ڈی ،اور ڈی آئی بی میں تعینات انچارجز سماجی برائیوں کو ختم کرنے کے بجائے جرائم پیشہ افراد سے ساز باز کررکھی ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مذکورہ مخصوص ٹیموں کے انچارجز نے منشیات فروشوں اور جواریوں سے منتھلی وصول کرنے کے لیے منظور نظر اہلکاروں کو مقرر کیا ہوا ہے جوکہ ہفتہ وار رقم وصول کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں اور انہیں اسپیشل ڈیوٹیاں دی گئی ہیں جن کا کام صرف مال بٹورکر افسران تک پہنچانا ہوتا ہے۔ سی آئی اے پولیس جامشورو میں تعینات ہیڈ محرر اصغر پنہور ضلع بھر کا نظم ونسق چلاتا ہے جس نے مختلف ٹھکانوں سے رقم وصولی کے لیے ذوالفقار نامی شخص کو مقرر کیا ہوا ہے۔ اے ڈی آر سی جامشورو میں بھی فیاض پنہور نامی شخص منتھلی وصولی پر لگایا ہوا ہے ۔ڈی آئی بی برانچ کے ضلع بھر میں درجنوں اہلکاروں کو خصوصی ڈیوٹیاں دی گئی ہیں جوکہ مخفی اطلاعات کو افسران تک پہنچانے کے بجائے مال بٹورتے ہیں جبکہ ضلع بھر کے تھانوں اور چیک پوسٹوں پر بھی اپنی حدود میں چلنے والے اڈوں سے مال بٹورنے کے لیے بگھی جمعدار مقرر کیا ہوا ہے جو کہ علاقہ سے وصولی کے بعد تھانہ کے تمام اخراجات کرتا ہے اور افسر کو بھی حصہ دیتا ہے ۔ اس ضمن میں انسانی حقوق کی سماجی تنظیم کے رہنما امتیاز ساہڑ کا کہنا تھا کہ جامشورو پولیس سماجی برائیوں کے خاتمے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے ضلع بھر میں ہیروئن، چرس، افیون سمیت دیگر غیر قانونی سرگرمیاں دھڑلے کے ساتھ جاری ہیں جس پر متعدد بار نشاندہی بھی کی گئی مگر پولیس کوئی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے ایماندار ضلعی افسر کی تعیناتی کی جائے تاکہ معاشرہ سے اس ناسور کو ختم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل سابق ایس ایس پی نعیم احمد شیخ نے صرف چند ماہ میں ضلع بھر میں سماجی برائیوں کا ناصرف خاتمہ کردیا تھابلکہ جرائم پیشہ افراد کو ضلع چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا۔ انہوں نے آئی جی سندھ سے نوٹس لیتے ہوئے ایماندار افسر کی تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.