ای او بی آئی کے افسران اور مزدور

47

امتیاز
پیرزادہ سید

ان کے بعد کچھ وقت گزرنے کے بعد ایک اور فون میرے موبائل پر آیا۔ وہ صاحب بڑے مہذبانہ طریقہ سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے مجھ سے میری شکایت کے متعلق پوچھا تو میں نے ان سے کہا کہ صاحب ہمارے دفتر سے کافی خطوط آپ کے دفاتر کو جاتے ہیں آپ فرمائے کہ آپ کس لیٹر کی بات کر رہے ہیں انہوں نے کمال شفقت کے ساتھ بتایا کہ منڈی بہاوالدین کے متعلق لیٹر ہے۔ میں نے کہا کہ ہاں جناب ہم نے لیٹر لکھا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ محکمہ کے کچھ رولز اور قانون تبدیل ہو گئے ہیں تو میں نے عرض کیا کہ جناب آپ ایسا کریں کہ آپ اس چٹھی کا تحریری جواب دے دیں تا کہ میں متعلقہ شکایت کنندہ کو بھی بتا دوں ، انہوں نے وعدہ کیا کہ میں آج ہی جواب ارسال کر رہا ہوں مگر ایک مہینہ سے زیادہ وقت گزر چکا ہے ان کی جانب سے بھی کوئی جواب نہیں آیا۔ وہ پہلے صاحب جیسی ہی کالی بھڑیں ہیں جنہوں نے ملک کو بدنام کر رکھا ہے۔ اور یہ کالے چشمے لگا کر اپنی احساس کمتری کو چھپانے والے افسران نے نئے طریقہ سے EOBI کے قوانین اور رولز کی تشریح کرتے رہتے ہیں۔ EOBI کے تقریباً تمام دفاتر میں بد طینت ، افسران نے اپنے ٹاؤٹ بٹھا رکھے ہیں ان کا کام صرف اور صرف مزدوروں سے پیسے بٹورنا ہے۔ اس محکمہ سے مزدور کا اپنی پنشن کی بک بنوانا اور پھر پنشن لینا ایسا ہی ہے جیسے فلسطین کویہودیوں سے آزاد کروانا ہے۔ اس EOBIکے دفتروں میں ایسے معذور افسران بھی موجود ہیں جو بے چارے اپنی معذوری کی بنا پر اپنے ہاتھ میں بال پوائنٹ بھی نہیں اٹھا سکتے۔ اور بغیر سہارے کے اپنی کرسی سے اٹھ بھی نہیں سکتے مگر گذٹیٹڈ آفیسر ہونے کے با وجود وہ صرف ایک ہی ڈیوٹی کرتے ہیں کہ ہر آنے والے مزدور سے جگا اور بھتا اکٹھا کرنا ان کی ڈیوٹی ہے۔ کافی لیٹرز لکھنے کے باوجود چیئرمین EOBI اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیتے۔ لیں بھی کیسے وہ تو ان کے لیے سونے کی چڑیا ہے۔اسی طرح کا ایک معذور آفیسر مظفر گڑھ کے ریجنل آفس میں رکھا ہوا ہے۔ جو ریجنل ڈائریکٹر کا منظور نظر اور خاص نمائندہ ہے۔
EOBI کے اپنے فارمولہ کے مطابق پہلے زاید العمری میں ملازمت حاصل کرنے پر 5 to 7سال مدت ملازمت پر پنشن دی جاتی تھی۔ جس کو 2017ء میں EOBI کے BOT سے منظوری لیے بغیر بند کر دیا گیا۔ علاوہ ازیں EOBI نے یکم جولائی 2007ء سے کارخانہ داروں اور فیکٹریوں کے مالکان کے علاوہ مبلغ 20/-روپے ماہوار کارکنوں سے یہ کہہ کر وصول کیے جا رہے ہیں کہ اس سے رجسٹریشن میں اضافہ ہوگا۔ مگر عقل کے اندھوں کو کون بتائے کہ جن کارخانوں کے مالکان سے ماہانہ رقم لی جاتی ہیں اگر آپ ان کے ورکروں کی تعداد کو رجسٹر کرو گے تب بھی یہ کمی پوری ہو جائے گی بلکہ بڑھ جائے گی۔ اس سارے کالے دھندے میں ایک قباحت اور بھی ہے وہ یہ کہ فیکٹریوں اور کارخانوں میں آزاد ٹریڈ یونین کا وجود تقریباً ختم ہو رہا ہے اور ان کی جگہ مالکان اپنے چند ایک چہیتوں کو آگے لگا کر اور محکمہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ بار گیننگ کر کے پاکٹ یونین رجسٹر کروا لیتے ہیں۔ بعد ازاں رجسٹرار ٹریڈ یونین کی ملی بھگت سے اس پاکٹ یونین کو CBA کا سرٹیفکیٹ بھی لے دیتے ہیں۔ اور اسی طرح کارخانہ دار کوئی دوسری شناخت قبول نہیں کرتے۔ایسے کام کی حوصلہ شکنی کرنا حکومت کا کام ہے۔حکومت کو چاہیے کہ ایسی تمام پاکٹ یونینز کی رجسٹریشن فوری طور پر منسوخ کرے اور آئندہ کے لیے ان پر پابندی عائد کر دی جائے۔ اسی لیے ورکرز کی رجسٹریشن میں اس وقت تک کبھی اضافہ نہیں ہو سکتا جب تک EOBI کے افسران اور ملازمین کے کارخانہ دار کے دوستانہ تعلقات اور لین دین کے تعلقات ختم نہیں ہوتے۔ یہ سرکاری محکموں کی آجروں کے ساتھ ملی بھگت کا نتیجہ ہے کہ کوئی کارخانہ دار کسی ورکر کو تقرری کا لیٹر نہیں دیتے۔اور نہ ہی EOBI اور سوشل سکیورٹی کے ملازمین آجر سے مزدور کی تقرری کا لیٹر مانگتے ہیں۔ محکمہ ای او بی آئی میں ایک بورڈ آف ٹریٹیز ہے۔ جس میں ایمپلائر اور ایمپلائی دونوں اس BOT میں نمائندے ہیں کیونکہ یہ ہی دونوں اسٹیک
ہولڈر ہیں ۔ مگر افسوس کا مقام ہے اس BOTکے نمائندے بالکل بے اختیار ہیں۔ ان کا گزارہ آنے جانے اور کھانے وگیرہ کے ٹکٹ اور الاؤنسز پر ہے۔ اسی لیے EOBI کا محکمہ کسی قانون میں تبدیل کرنے کے لیے BOT کی منظوری لینا ضروری نہیں سمجھتا۔ اندھیر نگری یہ ہے کہ 2017ء مین ای او بی آئی نے چند ایک نئی شرایط متعارف کروا دیں۔ کہ جن محنت کشوں کے نام ان کے آجر نے فارم PRO-2 میں درج کیے ہوں گے صرف ان کو ہی مدت ملازمت 15سال اور عمر ساٹھ سال اور اسی طرح ورکر خواتین اور کان کنوں کی 55 سال عمر پوری ہونے پر پنشن ملے گی، حالانکہ اس سے قبل بغیر فارم PRO-2 کے محکمہEOBI مالکان سے پریمیم وصول کرتا تھا۔ اس غلطی کی وجہ سے بے چارے محنت کش پس کر رہ گئے ہیں۔ اور اب ان بے چاروں، مفلسوں اور بے یارو مددگار بوڑھے مزدوروں کی داد فریاد سننے والا بھی کوئی ادارہ نہیں ہے۔ اکثر ای او بی آئی کے دفاتر لیبر یونین کے نمائندوں سے ملاقات تک نہیں کی جاتی، الٹا بعض جگہوں پر لیبر کے نمائندوں پر جھوٹے مقدمات درج کروا کر ان کا EOBI کے دفاتر میں داخلہ پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔اگر کسی ریجنل ہیڈ کو یہ کہا جائے کہ آپ نے فلاں کیس غلط کیا ہے میرا تو حقیقی کیس ہے تو آگے سے جواب دیا جاتا ہے کہ چلوکیا ہوا اگر وہ غلط ہوگیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر واقعی غلط ہوا ہے تو اس کو کینسل کیا جائے اور صحیح طریقہ سے کیا جائے۔ ہر ریجنل ہیڈ کے اپنے قوانین اور رولز ہیں۔ اسی طرح جب کبھی کسی کی پنشن کے کیس کے متعلق ای او بی آئی کے اہلکاروں کو کہا جائے تو حکم صادر ہوتا ہے کہ پہلے تقرری لیٹر لاؤ۔ پھر بات ہو گی۔ مالکان تقرری لیٹر دیتے ہی نہیں تو مزدور کہاں سے وہ لے کر آئے، یہ ڈیوٹی تو محکمہ EOBI کی بنتی ہے۔ کہ جب وہ فارم PRO-2 لیتا ہے تو ساتھ ہی تقرری لیٹر بھی مالکان سے طلب کیا جائے۔ مگر وہاں پر حرام مال کھانے والوں کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں ۔ یہ کام حکومت کا اور اس کے متعلقہ اداروں کا ہے کہ وہ ہر کارخانہ دار کے مالک کو پابند بنائے کہ جب کسی ورکر کو وہ اپنے پاس ملازم رکھے تو باقاعدہ وہ ورکر کو تقرری لیٹر جاری کرے۔ مگر کیا کیا جائے یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ 2017ء سے قبل ای او بی آئی والے کارخانہ داروں کے ریکارڈ کو تسلیم کرتے تھے اب یہ تقرری لیٹر والی نئی شرط عاید کرنے کا مقصد یہ ہے کہ محنت کشوں کو پنشن کے حق سے محروم رکھا جائے۔ اگر محکمہ کو وہ تقرری لیٹراصل کی بجائے اس کی تصدیق شدہ نقل پیش کی جائے تو اس محکمہ کے اہلکاران اس کو بھی ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔
(باقی آئندہ ملاحظہ کیجیے)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.