ڈیتھ گرانٹ دس سال سے نہ ملنا حکومتی دعووں پر سوالیہ نشان ہے 

38

قموس گل
خٹک

قوم پر ست ودیگر جمہوری جماعتوں اور ترقی پسند لیبر تنظیموں کی جانب سے صوبائی خود مختاری کی جدوجہد اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔ اس جدوجہد میں قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے قید و بند کی صعوبتوں کے علاوہ جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا اور ہر حکمران نے اس جدوجہد کی رہنمائی کرنے والوں کو غداری کے سر ٹیفکیٹ بھی دیے آخر اس سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں وہ لوگ بھی صوبائی خودمختاری کے حامی بن گئے جو ہمیشہ اس مطالبے کی مخالفت کرتے تھے اور آصف علی زرداری کے دور حکمرانی میں تمام سیاسی جماعتوں نے اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی خود مختاری کو آئین کا حصہ بنادیا گو کہ ہمارے سیاسی روایات کے مطابق اس پر ابھی تک مکمل طور سے عملدرآمد نہیں ہوا مگرکافی حدتک عمل ہوچکا ہے۔ اس سے صوبے کے عوام اور خصوصاً مزدور طبقے کو ریلیف ملنے کے بجائے صنعتی مزدور اُلٹا ویلفیئر اداروں کے تمام سہولیات سے محروم ہوگئے۔ سہ فریقی ویلفیئر اداروں میں بدعوانیاں مزید بڑھ گئی اور ان اداروں سے صنعتی مزدوروں کو ملنے والے سہولیات تودیوانے کا خواب بنتے جارہے ہیں۔ سوشل سیکورٹی کا ادارہ اٹھارویں آئینی ترمیم سے پہلے ہی صوبائی دائرہ کار میں کام کررہاتھا اس ادارے میں مزدوروں کی رجسٹریشن 20فیصد سے ابھی تک نہیں بڑھی اور قانون کے تحت غیر رجسٹرڈ کارکن بمعہ فیملی سوشل سیکورٹی سے علاج کرانے کا مستحق نہیں ہوتا۔ مزدوروں کے علاج کے نام پر ادویات کا معیار ناقص اور ان کی خریداری میں بدعنوانی پوشیدہ عمل نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ صنعت کاروں سے پریمیم وصول کرنے کے ذمہ دار افسران کروڑپتی بن گئے جن افسران کے خلاف کرپشن پر اب تک نیب نے کارروائی کی ہے وہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔ اس طرح مائینز لیبر ویلفیئر آرگنائزیشن کا ادارہ بھی پہلے سے صوبائی دائرہ کار میں رہا مگر میں بار بار جلسوں میں کہتا رہا ہوں کہ اگر اس ادارے کا نام انٹی مائینز لیبر ویلفیئر آرگنائزیشن رکھا جائے تو یہ زیادہ موزوں نام ہوگا۔ کیونکہ کانکنوں کی فلاح وبہبود کے لیے اس ادارے نے کچھ نہیں کیا۔ سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ نے کانکنوں کے علاج کے لیے 10بستروں کا اسپتال لاکھڑا کول فیلڈ میں تعمیر کرنے کے بعد یہ اسپتال مائینز لیبر ویلفیئر آرگنائزیشن کے حوالے کیا۔ کیونکہ یہ کانکنوں کے علاج کا ذمہ دار ادارہ تھا اور دس سال پہلے دوسوزوکی ایمبولینس بھی اسپتال کو فراہم کی ان 10 سالوں میں اس ادارے نے اسپتال کے لیے کوئی ڈاکٹر ملازم نہیں رکھا اور جتنے دیگر ملازمین اب تک ریٹائرڈ یا جابحق ہوئے ان کی جگہ بھی کسی کی تقرری نہیں کی۔ حتیٰ کہ صفائی کے لیے ایک سینٹری ورکرز بھی نہیں رکھا اور سال میں ایک دفعہ کرپشن کے بعد جوادویات اس اسپتال کو فراہم کی جاتی ہیں وہ 2ماہ بمشکل چلتی ہیں۔ اس کے بعد 10 مہینے میں متحدہ لیبر فیڈریشن کی جانب سے ہر ماہ 2سے 3 لاکھ روپے کی ادویات اسپتال کو بھجواتا ہوں۔ ڈاکٹر بھی فیڈریشن نے پرائیویٹ رکھا ہے جو حیدآباد سے روزانہ لاکھڑا ایمبولینس میں سفر کرکے آؤٹ بیک کرتا ہے۔ اس ایمبولینس کی مرمت انجن اور ہالنگ تک کے تمام اخراجات فیڈریشن کرتی ہے اور صفائی کے لیے سینٹری ورکرز کی اُجرت اور طویل عرصہ تک بجلی کا بل بھی فیڈریشن ادا کرتی رہی ہے۔ ابھی سال 2017ء سے بجلی کا بل آرگنائزیشن ادا کرنے لگی ہے۔ مائینز لیبر ویلفیئر بورڈ کا اجلاس 10 سال سے دانستہ نہیں بلا یا جارہاہے۔ تاکہ اس ادارے کو شخصی طورپر چلا کر بدعنوانیوں کو تحفظ دیا جاسکے۔ بورڈ کے منظوری کے بغیر تمام انتظامی اور مالی معاملات کی منظوری دی جاتی ہے۔ پورے سندھ کی سطح پر ٹھیکے بھی بورڈ سے منظور کرائے بغیر بارگیننگ کے ذریعے دیے جاتے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھوتے ہوں گے۔ عملی طورحکومتی سطح پر کامیابی کاطریقہ کار یہ ہے کہ اوپر والوں کو خوش رکھو وہ آپ کا تحفظ کریں گے۔ دوتین سال پہلے تو کانکنوں کے علاج کا پورا بجٹ جعلی کارروائی کے ذریعے خرد برد کیا گیا تحریری ثبوت موجود ہونے کے باوجود بھی کرپشن کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ پھر بھی مزدوردوستی کا دعویٰ برقرار ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صرف حکومت سندھ نے ورکرز ویلفیئر فنڈ ایکٹ2014ء منظور کرکے سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ کا نام تبدیل کرکے ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ رکھ دیا بس یہی اب تک اٹھارویں آئینی ترمیم کا حاصل ہے جبکہ ملازمت کے دوران فوت پانے والے صنعتی کارکنان کی بیوائیں اور قانونی وارث ڈیتھ گرانٹ کے حق سے محروم دردبدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ اس میں کم از کم ایسے200 کانکنوں کے کلیم بھی شامل ہیں جو مائیننگ حادثات میں زندگی ہار گئے تھے اور ان کے وارثوں نے بورڈ کو تمام مطلوبہ ڈاکومنٹ کے ساتھ کلیم داخل کیے ہیں۔ جہیز گرانٹ اسکالر شپ کی اسکیم تو مزدور بھول چکے ہیں۔ مگر گھر کے کفالت کرنے والے پیاروں کی موت کو بھولنا ممکن نہیں ہوتا۔ میں 5سال سے روزنامہ جسارت کے صفحہ محنت پر ڈیتھ گرانٹ کی عدم ادئیگی پر مضامین لکھ رہا ہوں مگر محکمہ لیبر کے بالا حکام یا کسی احتسابی ادارے نے اس کا نوٹس لینا مناسب نہیں سمجھا اور مزدوروں کو ویلفیئر کی سہولیات فراہم کیے بغیریہ ادارہ موجود اور محکمہ لیبر کاوزیر گاہے بگاہے مزدوروں کو کروڑوں روپے سہولیات کی فراہمی کے دعوے بھی کرتا رہتا ہے۔ ہر 6ماہ کے بعد سیکرٹری بورڈ کو اوپر والوں کی ذاتی ناپسند یدگی پر تبدیل کیاجاتا ہے آج تک کسی سیکرٹری کا تبادلہ اس وجہ سے نہیں ہوا کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہا یا انہوں نے ویلفیئر اسکیموں سے صنعتی مزدوروں کو ریلیف کی فراہمی میں کوتا ہی کرکے حکومت کی مزدور دوستی پر سوالیہ نشان کا باعث بنا یا کسی کرپشن کی وجہ سے کسی سیکرٹری کو تبدیل کیا ہو بلکہ یہ سارے تبادلے صرف ذاتی ناراضگی کے معاملات پر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ ادارہ عدم استحکام کا شکار ہے۔ یہ بات بھی حکمرانوں کو مد نظر رکھنی چاہیے کہ سیکرٹری بورڈ کے عہدے سے وابستہ تمام فرائض اس کو لیبر لیڈروں اور مزدوروں کے روبرو جوابدہی اور ان کو مطمئن کرنے کا ہے۔ ویلفیئر کے تمام فنڈز مزدوروں کی فلاح وبہبود کے لیے صنعت کاروں سے بذریعہ قانون وصول کیے جاتے ہیں اور اس کے اسٹیک ہولڈر صنعت کار اور مزدور ہی ہوتے ہیں جبکہ حکومتی نمائندہ بطور سہولت کار فرائض انجام دیتا ہے اس لیے سیکرٹری بورڈ کی کامیابی اور مزدوروں کومطمئن کرنے کے لیے صرف بورڈ ممبران نہیں بلکہ صوبے کے تمام مستند لیبر لڈر سے اچھے تعلقات قائم کرکے ان کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جب وہ لیبر لیڈر اور ویلفیئر اسکیموں کے بارے میں معلومات حاصل کرلیتا ہے تو کام شروع کرنے سے پہلے اس کو تبدیلی کا آرڈر ملتا ہے میں چند روز پہلے سیکرٹری بورڈ سے ملا تھا اور میں نے ان کو ویلفیئر اسکیموں کے بارے میں کارکنوں کی شکایات سے آگاہ کیا خصوصاً ڈیتھ گرانٹ اسکیم سے پچھلے دس سال سے ریلیف نہ ملنے کی ان کو تفصیل بتائی۔ میں طویل عرصہ اس بورڈ کا ممبر رہاہوں۔ اس تجربے کی بنیادپر میں نے محسوس کیا کہ اگر موجودہ سیکرٹری بورڈ سید مہدی شاہ کو فری ہینڈ دے کر 2 سال تک اس عہدے پر برقرار رکھا جائے تو یہ ویلفیئر اسکیموں سے مزدور رہنماوں اور مزدوروں کے شکایات کا ازالہ کرسکیں گے۔ میں نے محسوس کیا کہ اس میں فیصلہ کرنے کی قوت اور جرأت موجود ہے شرط یہ ہے کہ اس کو کام کرنے کا موقع دیا جائے اس سے پہلے بھی ایسے لوگ اس عہدے پر آئے تھے جو کام کرنا چاہتے تھے مگر بالا حکام کی مداخلت اور ذاتی ناراضگی کی وجہ سے ہٹادیے گئے۔ حکومت سندھ کی نئی حکومت اور موجودہ سیکرٹری بورڈ اس مسئلے کو نظر انداز نہ کرے۔ کیونکہ مرنیوالوں کی بیوائیں اور وارث تنگ آکر کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ جس کا جواب دینا مشکل ہوگا۔ اگر کسی موقع پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کے پاس کسی بیوہ نے یہ مسئلہ پیش کردیا اور اس نے از خود نوٹس کے ذریعے سندھ میں ڈیتھ گرانٹ کے پینڈنگ کیس منگواکر اس کی وجہ پوچھی تو کسی کے پاس جواب نہیں ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.