ڈائریکٹر لیبر سندھ کی خدمت میں

34

کورنگی کراچی کے ایک صنعتی کارخانہ کے مزدوروں نے نمائندہ جسارت کو بتایا کہ ہم 150 سے زائد مزدور ٹھیکہ دار کے توسط سے اس کارخانہ میں طویل عرصہ سے پیداواری عمل میں ملازمت کررہے ہیں جبکہ دو سال قبل نئے لیبر سپلائی کنٹریکٹر نے ہم کو تقررنامہ بھی جاری کیا جس میں درج ہے کہ مروجہ لیبر قوانین کے تحت ہم تمام سہولیات و مراعات کے حق دار ہوں گے۔ لیکن گزشتہ ہفتہ جب سالانہ پرافٹ بونس تقسیم کیا گیا تو 200 سے زائد ریگولر مزدوروں کو ازروئے قانون ایک تنخواہ بطور بونس ادا کی گئی جبکہ وہاں ملازم براہ راست بذریعہ انتظامیہ 150 سے زائد بنام بدلی ورکرز کو بھی مکمل ایک ماہ کی تنخواہ بطور بونس تقسیم کی گئی۔ لیکن ہم کنٹریکٹ ورکرز کو صرف پانچ ہزار روپیہ کی بطور بونس ادائیگی کے لیے اعلان کیا گیا ہے جس کو تمام ورکرز نے مسترد کرتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ جبکہ ہم لوگ ایک طویل عرصہ سے بغیر کسی وقفہ ملازمت اس کارخانہ کے پیداواری عمل میں اپنی بہترین صلاحیتوں و ہنر مندی کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن ہم کو نہ ریگولر ورکر کا درجہ دیا جاتا ہے اور نہ ہی ہمارے تحفظ یافتہ قانونی حقوق، لیبر ڈائریکٹر سندھ اس قانون شکنی پر فوری کارروائی صادر فرمائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.