ملک جمہوری عمل کا تسلسل ضروری ہے قمرالحسن

287

آئی یو ایف جنوبی ایشیاء کے ڈائریکٹر قمر الحسن نے کہا ہے کہ ملک میں الیکشن ہوتے رہیں اور اسمبلیاں کام کرتی رہیں۔ جمہوری عمل کے لیے ان کا تسلسل ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان فوڈز ورکرز فیڈریشن کے سیمینار میں کی۔ پاکستان فوڈز ورکرز فیڈریشن نے ’’جمہوری عمل اور ٹریڈ یونینز کا کردار‘‘ کے عنوان سے یہ سیمینار لاہور میں ہوا۔ جس میں فیڈریشن کی ممبر یونینز نے شرکت کی۔ قمر الحسن نے مزید کہا کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مسلسل عمل، عادات اور سوچ کا نام ہے جبکہ ملک میں کسی بھی سطح پر الیکشن اس عمل کا ایک حصہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوریت کے فروغ کے لیے جمہوری اداروں کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری سوچ روایات کو پروان چڑھانے کے لیے طلباء کی یونینز اور ٹریڈ یونین کو کام کرنے کی آزادی ہو۔ بدقسمتی سے اس ملک میں طلباء یونینز پر پابندی ہے جبکہ ٹریڈ یونینز پر بھی مختلف قوانین کے ذریعے ان کا عمل محدود کردیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں ٹریڈ یونینز کی افادیت کو جمہوری عمل کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں گزشتہ 70 برس میں مختلف قوانین کے ذریعے اسے محدود کردیا گیا ہے۔ غیر جمہوری قوتوں نے ایک پلان کے ذریعے معاشرے میں ٹریڈ یونین کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کیا ہے کہ ٹریڈ یونینز اداروں کو تباہ کررہی ہیں جبکہ ان اداروں کی تباہی کی بنیادی وجہ وہاں کی بدعنوان اور صلاحیت سے عاری انتظامیہ ہوتی ہے۔ مزدور رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی یونینوں کو جمہوری عمل کے ذریعے مضبوط اور فعال بنائیں تا کہ معاشرے میں ان کی عزت ہو اور ٹریڈ یونینز جمہوریت کی مضبوطی کے لیے فعال کردار ادا کرسکیں۔ فیڈریشن کے صدر سید نذیر حسین شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ جمہوری عمل میں سیاسی جماعتوں کا بنیادی کردار ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر جمہوری عمل کو فروغ دینا ہوگا بلکہ ٹریڈ یونینز کی سرپرستی اور حمایت بھی کرنی ہوگی۔ ملک میں ٹریڈ یونینز جتنی مضبوط ہوں گی اس کا فائدہ نہ صرف سیاسی جماعتوں کو بلکہ اس ملک میں جمہوری عمل کو بھی ہوگا۔ ملک میں جمہوریت کی بحالی کی تمام تحریکوں میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ ٹریڈ یونینز نے بھی بھرپور جدوجہد کی ہے۔ فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری سید زمان خان نے کہا کہ فیڈریشن سے ملحقہ تمام یونینز اپنے جمہوری عمل کے باعث نہ صرف خود مضبوط ہوئی ہیں بلکہ فیڈریشن کی طاقت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ہم نے مختلف اداروں میں خواتین کو بھرتی کرایا ہے اور ساتھ ساتھ نوجوانوں کی بھی فکری و عملی تربیت کی ہے۔ فیڈریشن کے اجلاس میں چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے ٹریڈ یونینز کے بارے میں دیے گئے ریمارکس پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کیونکہ محنت کشوں کو ٹریڈ یونین بنانے اور اس میں شامل ہونے کا حق نہ صرف آئین پاکستان میں ہے بلکہ یہ ایک بین الاقوامی طور پر مسلمہ بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ پاکستان فوڈز ورکرز فیڈریشن نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ فیڈریشن ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل اور اس کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ اس سیمینار میں جن رہنماؤں نے شرکت کی اس میں کوکا کولا یونین کراچی سے سفیر مغل، کیڈ بری یونین حب سے محمد سلیم، کوکا کولا لاہور سے نصراللہ چوہان، فیصل آباد سے اقراء جمیل، رحیم یار خان سے زوبیہ صفدر، یونی لیور یونین رحیم یار خان سے محمد احمد کھوکھر، خانیوال سے ارشد بلوچ، لاہور سے محمد آصف، محمد رفیق، مری بروری سے نذر حسین شاہ، پیپسی ورکرز یونین سے نسرین بی بی، مہتاب عباسی، محمد شہزاد اور دیگر شامل تھے۔ فیڈریشن نے فیصلہ کیا وہ نہ صرف موجودہ یونین کو مضبوط بنائیں گی بلکہ جن اداروں میں یونینز نہیں ہیں وہاں ورکروں کو منظم کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ