یوم آزادای مزدور کی نظر میں

78

اختر
بھوپالی

پاکستان اسلام کے نام پر قائم کیا گیا۔ مقصد ایک آزاد ملک میں اسلامی اقدار کی پاسداری کی جائے۔ پھر جلد ہی قائدین کی رحلت کی وجہ سے یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ اگرچہ آئینی طور پر ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے مگر اسلامی اقدار سے انحراف جاری ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ مزدور کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دی جائے۔ مگر ہمارے اسلامی ملک میں پسینہ تو دور کی بات مزدور اپنا خون خشک ہونے تک اپنی مزدوری کا منتظر رہتا ہے۔ پاکستان کا مزدور تو کبھی آزاد رہا ہی نہیں، خوشحالی کا مختصر سا دور پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو میں رہا۔ EOBI اور سوشل سیکورٹی جیسے اقدامات کے ثمرات سے آج کا مزدور بھی مستفیض ہورہا ہے۔ مگر اسی دور میں مخالفین کو دبانے کے لیے ’’ڈیفنس آف پاکستان رولز‘‘ المعروف DPR بنایا گیا جس کے تحت ایک چور سے لے کر مزدور رہنماؤں تک کو گھیرے رکھا۔ سب سے بڑا ظلم اس دور میں
پاکستان مشین ٹول فیکٹری کے مزدور رہنماؤں کے ساتھ ہوا جنہیں اپنے مطالبات کے حصول میں گرفتار کیا پھر ان کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو کسی چور، ڈاکو یا قاتلوں کے ساتھ بھی شاید نہ ہوتا ہو۔ انہیں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پیروں میں بیڑیاں ڈال کر عدالت میں پیش کیا گیا اور اسی دوران پولیس کی بربریت سے بچنے کے لیے کارخانوں میں محصور مزدوروں کی گرفتاری کے لیے بلڈوزروں کی مدد سے کارخانے کی دیواروں کو توڑا گیا۔ پھر اقتدار بزورِ طاقت ’’جنرل ضیاء الحق‘‘ کو منتقل ہوتا ہے وہاں مزدوروں پر ایسی تلوار چلائی گئی کہ جس سے خون ابھی تک رس رہا ہے۔ تمام سرکاری، نیم سرکاری اور خود مختار اداروں میں مستقل ملازمت کا تصور ختم کرکے ’’ڈیلی ویجز سسٹم‘‘ رائج کرایا گیا اور اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی لیبر قانون یعنی 90 دن کی عارضی ملازمت کے بعد مستقل ملازمت کی پابندی کا توڑ یہ نکالا کہ 90 دن سے قبل ہی ایک یا دو دن کے لیے ملازمت سے برخاست (Pay Off) کردیا جاتا ہے اور پھر اسی ملازمت پر بحال کردیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اعلیٰ عہدوں پر افراد کو کنٹریکٹ پر چھ ماہ یا سال کے لیے رکھا جاتا ہے اور کنٹریکٹ ختم ہونے پر حسب ضرورت دوبارہ بحال کرایا جاتا ہے۔ جب سرکار کا یہ عالم ہو تو نجی کارخانے
داروں نے ٹھیکیداری نظام پر عملدرآمد شروع کردیا اور پورے کے پورے کارخانے ٹھیکیداروں کے حوالے کردیے جو مزدوروں سے اونے پونے اجرت پر کام لیتے ہیں اور احتجاج کرنے پر چھٹی۔ پاکستان پیپلز پارٹی جب بھی اقتدار میں آئی اس نے عارضی ملازمین کو مستقل کیا مگر صرف ان اداروں میں جہاں ان کی سیاسی وابستگی تھی ہمارے یہاں ہر سال یوم مئی پر بڑی بڑی مزدور تنظیمیں اور سیاسی پارٹیاں بڑے بڑے ہوٹلوں اور ہالوں میں مذاکرے کرتی ہیں۔ شاہراہوں پر جلوس نکالے جاتے، مشعل بردار جلوس نکالے جاتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ شکاگو کے مزدوروں نے قربانیاں کیوں دیں؟۔ ان کی جدوجہد اوقاتِ کار آٹھ گھنٹے متعین کرانے کے لیے تھی مگر آج اس کی دھجیاں نہ صرف گلی کوچوں بلکہ دفاتر اور کارخانوں میں بکھری پڑی ہیں۔ جہاں آنے کا وقت تو مقرر ہوتا مگر جانے کے لیے وقت کا تعین نہیں کہ یہی ہمارا یوم آزادی ہے اور یہی ہماری سیاست ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.