کہسار باقی …..افغان باقی

133

جیسے افغانستان میں بلند بالا پہاڑوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا اسی طرح اس کے باشندے، افغانوں کو بھی محکوم نہیں کیا جا سکتا۔ بڑے بڑے جابروں کو یہاں آکر پسپا ہونا پڑتا ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے کیا خوب کہا ہے۔
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندۂ صحرائی یا مرد کوہستانی
دنیا میں ان دو طبقوں، بندۂ صحرائی یا مرد کوہستانی ہی نے ظالموں کو عبرت ناک سبق سکھایا۔ طاقت ور طبقے ہمیشہ، دبی ہوئی اللہ کی غریب مخلوق کو اس حد تک تنگ کریں کہ ان کا پیمانہ لبریز ہو جائے اور چھلک جائے تو وہ بغاوت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ قریب کی تاریخ میں برطانیہ، روس اور اب شیطان کبیر امریکا نے دنیا اور خصوصاً مسلم دنیا کو دکھوں سے بھر نہیں دیا؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ اگر اللہ ایک طبقے سے دوسرے طبقے کو شکست سے سبق نہ سکھائے تو دنیا دکھوں سے بھر جائے۔ اس کی تعبیر دنیا سے برطانیہ کا سیکڑ جانا اور سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنا ہے۔ اور اب امریکا کا افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں شکست و ریخت میں مبتلا ہونا ہے۔
برصغیر میں مغلوں کی پسپائی کی شروعات کے وقت پرتگالی کپتان واسکوڈی گاما 1498ء میں صرف تین بادبانی جہازوں کے دستے کے ساتھ جنوبی ہند کی کالی کٹ بندرگاہ پہنچا اور گوا کو مستحکم جنگی مرکز بنایا۔ 1501ء میں شاہ پرتگال نے فرمان جاری کیا کہ جہاں بھی ممکن ہو موروں (مسلمانوں) کو قتل کیا جائے اور ہندوؤں کو تعلیم دے کر دفتری کام میں لیا جائے۔ انگریز اور دوسری یورپی قوموں کو ہندوستان میں قدم جمانے کے لیے 70؍ سال تک آپس میں کش مکش کرنی پڑی تھی۔ بلآخر برطانوی انگریز کامیاب ہوئے۔ انگریز سودا گروں کی پہلی تجارتی کوٹھی 1612ء میں سورت میں قائم ہوئی۔ فرنگی سوداگر ہندوستان پر قبضہ جماتے ہوئے افغانستان تک پہنچ گئے۔ آخر میں اپنی مغربی سرحد کو سرخ کمیونسٹ انقلاب سے محفوظ کرنے کے لیے 1893ء میں افغانستان سے برطانیہ نے بین الاقوامی سرحد کا معاہدہ کیا۔ جو سر مورٹیمر ڈیورنڈ اور افغانستان کے بادشاہ امیر عبدالرحمان کے درمیان ہوا۔ اسی معاہدے کے نام سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بین الاقوامی سرحد ڈیورنڈ کہلائی۔ مختلف وقتوں میں اس کی تجدید ہوئی۔ آخر میں 1930ء میں افغانستان
کے بادشاہ نادر شاہ سے تجدید ہوئی۔ اسی ڈیورنڈ لین کا قصہ افغانستان کی قوم پرست حکومت، جس نے قیامِ کے وقت پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا، نے شروع سے پاکستان کے ساتھ چھیڑے رکھا۔ انگریزوں نے سرخ انقلاب کو دریائے آمو تک محدود رکھنے کی غرض سے افغانستان پر 1838ء میں جنوبی پنجاب اور ممبئی کے مرکزوں سے حملہ کیا اور پٹھو شاہ شجاع کو تخت پر بٹھایا۔ اس کے بعد افغان قبائل نے انگریزوں پر حملے شروع کیے۔ کابل میں انگریز ایجنٹ سر الیکزنڈر برنیس کو قتل کر کے ٹکرے ٹکرے کر دیا۔ اسی دوران دوست محمد خاں کا فرزند، اکبر خاں اپنی جمعیت کے ساتھ حملہ آور ہوکر افغان قبائل کے ساتھ آ ملا اور انگر یزوں سے کہا شاہ شجاع کو دست بردار کریں، انگریز سپاہ ملک خالی کریں اس وقت سیاسی اقتدار انگریز سفیر میک ناٹن کے ہاتھ میں تھا۔ اکبر خان نے اسے طلب کیا
اس نے اکبر خان سے بدتہذیبی سے بات کی۔ اسے فوراً گولی سے اُڑا دیا گیا۔ تمام توپیں اور گولہ بارود اکبر خان نے قبضے میں لے لیں۔ باقاعدہ فوج جو پانچ ہزار اور گیارا ہزار لشکری تھے 1842ء کو پشاور کی طرف روانہ ہوئے ان فوجیوں کو کابل کے تنگ درے میں غلزئی قبائل نے گھیر لیا اور ختم کر دیا کیوں کہ اس قبیلے پر انگریزوں نے بہت ظلم کیا تھا۔ مشہور ہے کہ پورے لشکر میں سے صرف ایک فرنگی ڈاکڑ واپس پشاور آیا۔ کابل کی دوسری جنگ میں بھی انگریزوں نے بازی ہاری اور 1842ء میں واپس ہوئی۔ خدا کے سوا نہ کوئی افغانستان کے پہاڑوں کو ختم کر سکتا ہے نہ افغانوں کو۔ کیوں کہ کہسار باقی ….. افغان باقی۔
موجودہ افغانستان کی آزاد مملکت کا وجود احمد شاہ درانی نے رکھا۔ اس کی حکومت کابل سے پنجاب، کشمیر، سندھ، بلخ وبدخشاں اور مشرقی ایران کے اضلاع تک پھیلی ہوئی تھی۔ 1809ء میں بارک زئی قبیلے کے پائندہ خان نے کابل کو فتح کیا۔ اس خاندان کے آخری بادشاہ ظاہر شاہ کو سردار داؤد خان نے معزول کردیا۔ روسیوں نے داؤد کو بھی خاندان سمیت موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اپنے پٹھو حکمران ببرک کارمل کو افغانستان پر مسلط کیا۔ تقریباً 350 سال سے زار روس کی حکومت اور اس کے بعد اشتراکی روس کی حکومت نے ترکی سے چین کی سرحد سنکیانک تک کے علاقے فتح کیے۔ سوویت یونین دوسری طرف افغانستان کی سرحد دریائے آمو تک پہنچ گیا۔ روسی حکومت کے بانی حکمران ایڈورڈ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ دنیا میں وہ قوم حکمرانی کرے گی جس کے قبضے میں خلیج کا علاقہ ہو گا۔ اس منصوبے کے تحت روس نے ا فغانستان میں ظاہر شاہ کے دور حکومت کے دوران کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایک وقت آیا کہ کابل یونیورسٹی میں اشتراکیوں کا قبضہ ہو گیا اور سارے افغانستان کو روشن خیال معاشرے میں تبدیل کرنے کے ایجنڈے پر کام شروع کر دیا گیا۔ کچھ مدت بعد سردار داؤد نے ظاہر شاہ کو معزول کر کے افغانستان کی حکومت پر قبضہ کر لیا اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران پاکستان کا دورہ بھی کیا تھا۔ یہ چیز روس کو پسند نہ آئی اور آخر کار روس نے سردار داؤد کو قتل کروا کر اسی بہانے ببرک کارمل کو روسی ٹینکوں پر سوار ہو کر افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ افغانوں نے دنیا کی سب سے بڑی جنگی مشین، جس کے پاس ایٹمی ہتھیار کے علاوہ ہر قسم کے جنگی ہتھیار بھی تھے کا مقابلہ درے کی بندوقوں سے شروع کیا۔ اس وقت دنیا دو بلاکوں کے اندر تقسیم تھی۔ اس لیے روس مخالف بلاک امریکا نے بھی اس جنگ میں اشتراکیوں کو شکست سے دو چار کرنے کے لیے جنگ میں تین سال بعد شرکت کی۔ مسلمان علماء نے اس جنگ کو جہاد کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کے مسلمان اس جہاد میں شریک ہونے کے لیے افغانستان میں آنے لگے دنیا کے مسلمان ملکوں کے لوگوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس جنگ میں حصہ لیا مگر یہ جنگ افغانیوں نے خود لڑی لاکھوں شہید ہوئے، لا کھوں اپاہچ؍معذور ہوئے، لاکھوں نے پڑوسی ملکوں اور دنیا میں مہاجرت کی زندگی اختیار کی اور بلآخر روس کو شکت ہوئی۔ افغان تقریباً 40 سال سے حالت جنگ میں ہیں مگر زندہ ہیں۔ اس فتح میں کلیدی امداد مسلمانوں کے اتحاد کی وجہ سے اللہ کی طرف سے تھی۔ دنیا نے افغانوں کے خون کی وجہ سے سفید ریچھ سے نجات حاصل کی اس جنگ کے نتیجے میں مشرقی یورپ کی کئی ریاستیں آزاد ہوئیں چھ اسلامی ریاستوں قازقستان، کرغیزستان، اُزبکستان، ترکمانستان، آزربائیجان، اور تاجکستان کی شکل میں آزاد ہوئیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ افغان کبھی محکوم نہیں رہے۔ کیوں کہ کہسار باقی ۔۔۔ افغان باقی۔
پھر دنیا کے چالیس ملکوں کے ناٹو اتحادی، امریکا اور پاکستانی لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ عرصہ 17؍ سال سے افغانستان پر حملہ آور ہیں۔ پھر ظلم کی داستان شروع ہوئی۔ بگرام اور گوانتا موبے جیل کے قید ی ان ظالموں کی داستانیں سنا رہے ہیں۔ پاکستان کے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے ایک فون کال پر ان کے سارے مطالبات مان لیے۔ امریکا نے تمام افغانستان کو نیست ونابود کرکے تورا بورا بنا دیا۔ مگر فاقہ کش افغانوں کے حوصلے پست نہ کر سکا۔ ایک ایک کر کے ناٹو فوجی اپنے ملکوں کو چلے گئے۔ امریکا افغانستان سے فرار کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ امریکا اپنی جنگ کو پاکستان میں لے آیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان تباہی کا شکار ہوگیا لیکن اس پر بھی امریکا خوش نہیں ہے ڈو مور ڈومور کی رٹ لگا رکھی ہے۔ پاکستان کے محب وطن لوگ چلاتے رہے یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔ امریکا نے بہت کوشش کی کہ پاکستان کی فوج کو افغان طالبان سے لڑا دیا جائے۔ امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈال کر افغان طالبان سے مذاکرات کے کئی دور کیے۔ مگر افغان طالبان کی ایک ہی بات ہے کہ ہمارے ملک سے بیرونی فوجیں نکل جائیں تو ہم مذاکرات کریں گے۔
صاحبو! امریکا کو بھی اللہ شکست سے دوچار کرنے کے لیے افغانستان میں گھیر لایا تھا۔ اس کو بھی پہلی دو سپر طاقتوں، برطانیہ اور سوویت یونین کی طرح فاقہ مست افغان شکست دے چکے۔ اب فیس سیونگ کے لیے امریکا نے افغان طالبان سے براہ راست مذاکرات پر مجبور ہوا ہے۔ امریکا جلد افغانستان سے نکل جائے گا۔ ان شاء اللہ۔ اللہ کو افغانستان کے کہساروں کو جب تک قائم رکھنا ہے افغانوں کو بھی قائم رکھے گا۔ کیوں کہ افغانستان کے کہسار باقی۔۔۔ افغان باقی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.