فواد حسن فواد نیب کے شکنجے میں

128

محمد ابوبکر

یوں تو شاید ہی کوئی پاکستانی شہری ایسا ہو جو فواد حسن فواد نامی شخص سے واقف نہ ہو، یا اس شخص پر عائد الزامات کے قصے میڈیا پر نہ دیکھے ہوں، جی ہاں سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد‘ یہ وہ ہی شخص ہے جو وزیر اعظم کے رہتے ہوئے وزیر اعظم ہاؤس سے پوری ریاستی مشینری کو کنٹرول کرتا رہا، بیوروکریٹس کو اپنی انگلی کے اشاروں پر نچاتا رہا، لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اُس نے مظلوم پاکستانیوں کی آواز سنتے ہوئے فواد حسن فواد کے عروج کو اس شخص کے ناانصافی پر مبنی عمل کی وجہ سے دیکھتے ہی دیکھتے زوال میں بدل ڈالا اور اب اس کا چہرہ پاکستانیوں کے سامنے بے نقاب ہو گیا، تلخ حقائق عوام کے سامنے ہیں۔
دوسری جانب، دوران تفتیش فواد حسن فواد کے طوفانی انکشافات سے متعلق اصل حقائق آنے کا سلسلہ بھی تاحال جاری ہے، نیب کے تفتیشی ذرائع بتاتے ہیں کہ جی پی او چوک راولپنڈی میں زیر تعمیر ایف ایچ ایف پلازہ فواد حسن فواد کی ملکیت ہے جو دس ارب روپے کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے، تاہم فواد حسن فواد نے دوران تفتیش نیب کو بڑے معصومانہ انداز میں بتایا کہ اس پلازہ کی تعمیر کے لیے 2.8 ملین روپے ایک نجی بینک سے قرضہ لیا گیا، جب کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہے یعنی ذاتی شاپنگ پلازہ کی تعمیر کے لیے بینک سے قرض لینے کی دلیل کمزور تصور کی جار ہی ہے چناں چہ بات تو یہاں تک سامنے آئی ہے کہ بیرون ملک ایک پاکستانی سفیر کی جانب سے فواد حسن فواد کی بھر پور مبینہ معاونت بھی کی جاتی رہی، تاہم شئیر ہولڈرز ظاہر کر کے فواد حسن فواد کی جانب سے اہلیہ‘ بھائی‘ بھابی‘ خاندان کے دیگر افراد کو مالی فوائد پہنچائے جانے کی خبریں تو زبان زدعام ہیں یہاں تک کہ فواد حسن فواد نے اپنی خاتون دوستوں کو بھی بھرپور مالی امداد دیں‘ من پسند افراد کو لندن تک میں سیٹ کروایا۔
اب آجائیں فواد حسن فواد کی بیرون ملک جائدادوں پر‘ تو پتا چلتا ہے کہ فواد حسن فواد نے آف شور کمپنیوں کے لیے انتہائی چالاکی سے مختلف ذرائع کا استعمال کیا تاکہ اصل منی ٹریل ظاہر نہ ہو اور ریاستی اداروں کی آنکھ میں دھول جھو نکی جا سکے، لیکن اللہ نے اس احتساب کے عمل کی تکمیل کے لیے جس ادارے (نیب) اور پیشہ وارانہ صلاحیت کے حامل ماہرین (ڈی جی نیب لاہور میجر ریٹائرڈ سلیم شہزاد اور ان کی تحقیقاتی ٹیم) کا انتخاب کیا اور وہ دن رات کوششیں کر کے بلآخر وہاں تک بھی پہنچ گئے۔
یوں تو فواد حسن فواد پر عائد الزامات کی فہرست طویل ہے، نیب ذرائع بتاتے ہیں کہ اس شخص نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں نامزد کنٹریکٹر کو بھی بیرون ملک فرار کرانے میں معاونت فراہم کی، چوں کہ نیب لاہور کی کوششوں سے اب فواد حسن فواد کا نام ای سی ایل میں شامل کیا جا چکا ہے، جب کہ فواد حسن فواد روتے روتے پوشیدہ رازوں سے پر دہ اُٹھانا بھی شروع کر چکا ہے، اللہ نیب کی تفتیشی ٹیم کو حتمی مراحل تک پہنچانے کی حمت و حوصلہ عطا کرے۔ آمین

Print Friendly, PDF & Email
حصہ