قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ ﷺ

67

اور اْن کی جگہ ہم نے اْن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اْس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدہ خیر پورا ہوا کیونکہ اْنہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا گیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے ۔ بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر اْن کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی کہنے لگے، ’’اے موسیٰؑ ، ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جیسے اِن لوگوں کے معبود ہیں‘‘ موسیٰؑ نے کہا ’’تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو ۔ یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے‘‘۔ (سورۃ الاعراف: 137تا 139)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب مومن کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور کامیابی کی خوشخبری دے دی جاتی ہے وہ اس وقت ان چیزوں سے زیادہ جو آگے اس کو ملنے والی ہیں کوئی بات پسند نہیں کرتا اور اللہ سے ملنے کی آرزو کرتا ہے اورجب نافرمان کا وقت قریب آتا ہے تو اس کو خبر دی جاتی ہے کہ اللہ کا عذاب چکھنے کا وقت آ گیا تو وہ اللہ سے ملنے کو ناپسندکرتا ہے۔ (بخاری) ۔۔۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کسی مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا ہرگز نہ کرے اگر اسے ضرور کچھ کہنا ہی ہے تو یوں کہے اے اللہ! جب تک میری زندگی میرے لیے بہتر ہے مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھے موت دے دے۔ (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، ابو داؤد)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.