فلسطین کی ویران مسجد

141

جامع مسجد عمری میں اذان اور نماز پر پابندی ہے!

فلسطین کی بیشتر بڑی اور تاریخی مساجد کو غاصب صہیونیوں کی شرانگیز ریشہ دوانیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔ فلسطینی پرطرح طرح کے مظالم بھی ڈھائے جا رہے ہیں اور ان مظالم کا سلسلہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ فلسطینیوں کے قتل عام، جبری بے دخلی اور ہجرت جیسے جرائم تو تھے ہی، مگر فلسطینیوں کو اپنی مقدس عبادت گاہوں میں داخل ہونے اور عبادت کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ یہ وہ نسل پرست صہیونی ریاست ہے جو فلسطینی قوم کے وجود کو ختم کرنے کے ساتھ بیت المقدس پورے فلسطین کو یہودیانے کی مجرمانہ سازشوں میں سرگرم عمل ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس کی 43 مساجد ایسی ہیں، جنہیں صہیونی ریاست کی طرف سے تباہ کن خطرے کا سامنا ہے۔ کئی مساجد کو فلسطینیوں کے داخلے، اذان، نماز یا کسی بھی دوسری عبادت کے لیے بند کردیا گیا ہے۔ انہی میں مسجد العمری بھی بیت المقدس کا ایک خوبصورت اور تاریخی مقام ہے، مگر یہ مسجد بھی صہیونی غاصبوں کے تسلط میں ہونے کی وجہ سے بند ہے۔ پرانے بیت المقدس میں حارہ الشرف کے مقام پر واقع یہ مسجد بیت المقدس کی پرانی اور تاریخی مساجد میں سے ایک ہے۔
بیت المقدس کے ایک تاریخی سیاحتی گائیڈ روبین ابو شمسیہ کا کہنا ہے کہ کہ جامع مسجد العمری الکبیر حارہ الشرف کے جنوب میں ’حارہ الیہود‘ کے مقام پر واقع ہے۔ وہاں سے گزر کر حارہ المغاربہ کی مغربی سمت میں اہم مقام ہے۔ مسجد کے اطراف میں دو یہودی معبد قائم ہیں۔ مسجد کی شمالی سمت میں واقع ایک معبد اشکنازی یہود نے انیسویں صدی میں تعمیر کیا، جب کہ دوسرا یہودی معبد 16 اپریل 2010ء کو اسلامی اوقاف کی اراضی غصب کرکے تعمیر کیا گیا۔ مشرقی سمت میں یہ معبد صرف 50 میٹر کی دوری پر ہے۔ مسجد کے مغرب میں بھی 2 یہودی مذہبی مراکز، ایک پولیس سینٹر اور چند دکانیں ہیں، جو مسجد اور یہودی معابد کے درمیان حد فاصل ہیں۔
مسجد العمری الکبیر آٹھویں صدی ہجری یعنی پندرہویں صدی عیسوی میں تعمیر کی گئی، مگر 1967ء کی جنگ کے بعد یہ جگہ صہیونی حکومت نے غاصبانہ قبضہ کرکے وہاں پر غیرقانونی تعمیرات شروع کردی تھیں۔ مسجد العمری الکبیر کے بارے میں بیت المقدس کے مؤرخ مجیرالدین حنبلی کا کہنا ہے کہ یہ مسجد 1473ء میں تعمیر کی گئی۔مسجد تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنا پڑتی ہیں۔ 6 میٹر بلند سیڑھیوں کے بعد ایک آہنی دروازہ مسجد آنے والے کا استقبال کرتا ہے۔ مسجد کو روشن اور ہوادار رکھنے کے لیے 3 بڑی کھڑکیاں بنائی گئی ہیں۔ ایک کھڑی مشرقی دیوار کے ساتھ اور دوسری جنوبی دیوار کے ساتھ ہے۔ اس کا خوبصورت اور دیدہ زیب مینار ممالیک کے زمانے کے فن تعمیر کا عکاس ہے، جس کی بلندی 15 میٹر ہے۔ مسجد پر اب بھی چٹائیاں ہی بچھی ہیں۔ اس میں ایک بڑا ہال ہے۔ ٹوائلٹ اور وضوخانہ مسجد کی جنوب مغربی سمت میں ہے۔ اس میں ایک کمرہ بھی ہے، جس میں نمازی اپنا ضروری سامان رکھتے تھے۔
عثمانی دور حکومت میں یہ مسجد بیت المقدس کی تاریخی مساجد میں سے ایک تھی اور مسجد اقصیٰ کے بعد بیت المقدس کی دوسری سب سے بڑی آباد مسجد تھی، جہاں نمازیوں کی تعداد سب سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ مسجد کے کئی سرکردہ علما اور دعات نے شہرت حاصل کی، جن میں الشیخ ابو السعواور ان کے بیٹا الحاج احمد شامل ہیں۔ تاہم تاریخ کا یہ شاہکار اب ویران ہے، اور اس میں اذان اور نماز ادا کرنے پر پابندی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ