عمران خان قائد انصاف کے طور پرآرہے ہیں، ذوالقرنین علی خان

100

چیف آرگنائزر، پاکستان تحریک انصاف مشرق وسطی اورصدرانصاف ویلفیئر ٹرسٹ پاکستان ذوالقرنین علی خان نے الیکشن 2018یں تحریک انصاف کی کامیابی پر عمران خان کومبارکبا د دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی کا اصل امتحان اب شروع ہوگا اور قائد آعظم کے بعد جو بہت عظیم لیڈر تھے اس قوم کے لئے ، میں سمجھتا ہوں کہ عمران خاں نئے پاکستان میں قائد انصاف کے طور پر آرہے ہیں۔ میں توانھیں قائد انصاف کا لقب دوں گا کیونکہ ہماری پارٹی کا بھی نام تحریک انصاف ہے اور عمران خان ہمارے قائد انصاف ہیں۔
یہ بات انھوں نے جدہ میں نمائندہ جسارت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا پاکستان میں بدعنوانیوں کی روک تھام اور بدعنوان رہنماؤں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے بہت سے چیلنج ہیں ۔ جنہوں نے پاکستان کے عوام کے پیسے چوری کر کے بیرون ملک بہت بڑی دولت جمع کی ہے ان کا احتساب کرنا ہے ۔عمران نے قوم سے وعدہ کیا کہ ان کی حکومت ملک میں ناانصافی کے خلاف ‘جہاد’ کرے گی۔
انھوں نے کسی ریاست کی کامیابی کا سب سے اہم اصول وہاں پر انصاف کا ہونا ہے ۔ یہ پہلی اور بنیادی شرط ہے ۔ جیسے کسی انسان کے جسم کے لئے خون کا ہونا ضروری ہے ۔اسی طرح جب تک کسی معاشرے یا سوسائٹی میں جب تک انصاف نہیں ہے تو کچھ نہیں ہے اور میں یہ دیکھتا ہوں کہ پمارے یہاں انصاف کی بہت کمی ہے ۔ ہمارے یہاں انصاف خریدا جاتا ہے ۔انصاف بکتا ہے ۔ اس چیز کو بہتر کرنا، امن و امان کو بہتر کرنا، بنیادی سہولتوں کو بہتر کرنا، اداروں کو بہتر کرنا ہے ، مضبوط کرنا ہے ۔ حالا نکہ یہ سب کام کرنے والے عوام کے خادم ہیئں۔ ان کا کام ہے ہمیں یہ سب سہولت دینا۔
عمران خان بھی اپنے آپ کا خادم سمجھتے ہیں اور وہ اپنے آپ کوکسی سے افضل نہیں سمجھتے ہیں۔ انھوں نے اپنی پہلی تقریر میں بھی کہا ہے کہ پہلے احتساب عمران خان گا، پھر وزرا کا پھر اس کے بعد نچھلی سطح پر لوگوں کا۔ اگر انصاف اوپر کی سطح سے ہوگا تو نیچے والا خود بخود صحیح ہوجائیں گے ۔
انھوں نے کہا کہ عوام نے عمران خان کو اس لئے کامیاب کیا کہ وہ چور نہیں ہے اور ملک سے محبت کرتے ہیں۔عمران خان کی خواہش ہے کہ پاکستان کومدینہ المنورہ کی طرز کی ریاست کا نمونہ بنائیں
انھوں نے بتایا کہ بہت سے سعودی تاجروں نے وعدہ کیا ہے کہ عمران خان کے وزیر آعظم کا حلف اٹھاتے ہی 100ملین ڈالر سے زیادہ کی سرمایا کاری دو تین طرسوں میں پاکستان میں کریں گے ۔ اس ایک بہت بڑی خوشحالی ملک میں آئے گی۔
ہم خالی سی پیک پر انحصار نہیں کریں گے ۔ گو کہ یہ بھی ہمارے لئے بہت اہم ہے ۔ ہمارے پاس مڈل ایسٹ ، یورپ اور دیگر جگہ سے بہت سے پاکستانی 200بلین ڈالرلیکر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اگر وہ 50بلین ڈالر کی بھی سرمایہ کاری کرتے ہیں تو اس سے ہمارے بہت سے مسائل حل ہوجاتے ہیں
کراچی میں پانی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے سعودی عرب کی کمپنیوں سے بات چیت کر رہے ہیں سمندرکے پانی کو میٹھا بناکر کراچی میں پانی کا مسلہ حل کر سکتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ این ار او کے معاملہ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا سعودی عرب کے نمائندے کے ساتھ عمران خان کی حالیہ ملاقات میں مبارکباد اور دو طرفہ تعلقات پربات جیت ہوئی۔ اس دوران ایسا کوئی تبادلہ خیال نہیں ہوا۔ انھوں نے ان افواہوں کی سختی سے ترید کی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.